سپین: لشکر طیبہ سے تعلق، سات گرفتار

فائل فوٹو، ہسپانوی پولیس
،تصویر کا کیپشنکامیاب آپریشن کے ذریعے اس گروہ کی کمر توڑ دی گئی ہے:ہسپانوی وزارتِ داخلہ

سپین میں پولیس نے شدت پسند تنظیم لشکر طیبہ سے مبینہ تعلق کے شبہہ میں چھ پاکستانی شہریوں سمیت سات افراد کو گرفتار کیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق گرفتار کیے گئے سات افراد میں چھ پاکستانی اور ایک نائجیریا کا شہری ہے۔

پولیس کے مطابق گرفتار کیے گئے افراد پر شبہہ ہے کہ یہ کالعدم تنظیم لشکر طیبہ جس کا تعلق القاعدہ سے ہے کو رقوم اور جعلی دستاویز فراہم کرتے تھے۔

سپین کی وزراتِ داخلہ نے گرفتاریوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انسداد دہشت گردی کے اہلکاروں نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب کو بارسلونا اور اطراف میں چھاپے مار کر مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے۔

وزارتِ داخلہ کا کہنا تھا کہ گرفتاریاں ایک بین الاقوامی کارروائی کاحصہ تھیں اور اس گروہ کے سرغنہ جو پاکستانی شہری ہیں کو تھائی لینڈ سے گرفتار کیا گیا ہے۔

وزارت داخلہ کے مطابق اِس گروہ کی جانب سے یورپ میں بنائے گئے سیل کو تھائی لینڈ سے ہدایات ملتی تھیں جس پر عمل کرتے ہوئے وہ بارسلونا آنے والے سیاحوں کے پاسپورٹس چراتے تھے۔

اس کے بعد چرائے گئے پاسپورٹس کو جعلسازی کے لیے تھائی لینڈ بھیجتے تھے اور بعد میں ان پاسپورٹس کو مختلف شدت پسند تنظیموں کو فراہم کیا جاتا تھا۔

وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ کامیاب آپریشن کے ذریعے اس گروہ کی کمر توڑ دی گئی ہے۔

ُادھر تھائی لینڈ میں اسی نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے دو پاکستانی اور ایک تھائی شہری کو گرفتار کیا ہے۔