’القاعدہ پاسپورٹ سیل غیر فعال‘

ہسپانوی پولیس نے سات ایسے مشتبہ شدت پسندوں کو گرفتار کیا ہے جن کے مبینہ طور پر پاکستان میں سخت گیر اسلامی گروپوں سے روابط ہیں۔ ان میں چھ افراد پاکستانی اور ایک کا تعلق نائجیریا سے ہے۔
ہسپانوی کی پولیس کو یہ بھی شبہ ہے کہ ان افراد نے پاکستان میں سرگرم ’لشکر طیبہ‘ سے بھی تعاون کیا ہے جس پر سن دو ہزار آٹھ میں ممبئی میں حملہ کرانے کا الزام ہے۔
دریں اثناء اسی کارروائی کے حصے کے طور پر تھائی لینڈ سے تین پاکستانی اور دو تھائی شہری گرفتار کیے گئے ہیں۔ ان میں سے گرفتار ہونے والے ایک پاکستانی کو اس گروہ کا سرغنہ بتایا جا رہا ہے۔
یورپ میں پکڑے جانے والے افراد کو رات گئے ہسپانیہ کے شہر بارسلونا سے حراست میں لیا گیا۔ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ یہ افراد جعلی شناختی دستاویزات بنانے اور جہادی گروپوں کو رقوم بھجوانے والوں میں شامل ہیں۔
ہسپانیہ میں وزارت داخلہ نے گرفتاریوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ بین الاقوامی کارروائی کا حصہ ہیں۔ حکام نے کہا کہ تھائی لینڈ میں پکڑا جانے والا گروہ سرغنہ یورپ میں اپنے ارکان کو ہدایات جاری کرتا تھا اور ان کے لیے پاسپورٹ حاصل کرتا تھا۔
ہسپانوی وزرات داخلہ کے حکام نے کہا کہ اس گروہ کے پکڑے جانے سے القاعدہ کو پاسپورٹ فراہم کرنے والا اہم شعبہ غیر فعال ہو گیا ہے۔


















