ایران:دو ڈرون طیارے گرانے کا دعوٰی

ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے خلیج فارس میں دو ڈرون طیاروں کو مار گرانے کا دعوی کیا ہے۔
فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی نے ایران کی فارس نیوز ایجنسی کے حوالے سے کہا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کی فضائیہ کے سربراہ امیر علی حاجی زادہ نے کہا کہ مغربی طاقتوں کو جاسوس طیاروں اور خصوصی سیاروں کے ذریعے جاسوس کرنے کی صلاحیت حاصل ہے جس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
انھوں نے کہا کہ ڈرون طیاروں کو بنیادی طور پر عراق اور افغانستان میں استعمال کیا جا رہا ہے لیکن کبھی کبھی ایران کی فضائی حدود کی خلاف ورزی بھی کی جاتی ہے۔
علی حاجی زداہ نے کہا کہ خلیج فارس میں ایران کے پاسداران انقلاب نے کئی مرتبہ ڈرون طیاروں کو نشانہ بنایا ہے لیکن یہ پہلی مرتبہ ہے کہ اس کا اعلان کیا جا رہا ہے۔
انھوں نے ڈرون طیاروں کے مار گرائے جانے کے وقت اور جگہ کا تعین نہیں کیا۔
علی زادہ نے امریکہ کا نام لیے بغیر کہا کہ خطے میں دشمنوں کے تمام ٹھکانے ایرانی میزائلوں کی زد میں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ خلیج میں موجود بحری بیڑے اور طیارہ بردار جہاز بھی ایران کے لیے کوئی بڑا خطرہ نہیں ہیں۔
علی حاجی زادہ نے کہا کہ ایک زمانے میں طیارہ بردار بحری جہازوں پر انحصار کیا جا سکتا تھا اور انھیں بڑی قوت سمجھا جاتا تھا اور جب انھیں کسی ملک کی طرف روانہ کیا جاتا تھا تو اس ملک کی حکومت کا تخہ الٹ جاتا تھا۔
علی حاجی زادہ نے کہا کہ اب وہ ایران کے ساحلوں کے قریب موجود دشمن کے طیاروں بردار جہازوں پر ہونے والی ہر حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جب ان طیاروں پر موجود فوجیوں کو چوکس کیا جاتا ہے وہ اس سے باخبر ہو جاتے ہیں یا جب وہ کشتیاں سمندر میں اتارنے کے لیے لائف جیکٹس پہنتے ہیں تو انھیں خبر ہو جاتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایران میں انیس سو اناسی کے انقلاب کے بعد اندرونی اور بیرونی خطرات سے نمٹنے کے لیے پاسدارانِ انقلاب کے نام مسلح قوت بنائی گئی تھی۔





















