یہودی بستیاں: اقوامِ متحدہ میں قرارداد

عرب ممالک نے باضابطہ طور پر اقوامِ متحدہ میں اسرائیل کی جانب سے فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر کے خلاف سلامتی کونسل میں قرار داد جمح کرائی ہے۔

قرار داد پر امریکہ کی جانب سے سخت ردِ عمل سامنے آیا ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ امریکہ قرارداد پر ویٹو کا حق استعمال کرے گا۔

فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ اس قرار داد کو اقوامِ متحدہ لے جانے کا مقصد امریکہ کی جانب سے کی گئی اُن کوششوں میں ناکامی ہے جس میں امریکہ نے اسرائیل کو فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر روکنے کی کوشش کی تھی۔

اقوامِ متحدہ میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار باربرا پلیٹ کے مطابق اقوامِ متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں پیش کی جانےوالی قرار داد میں فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر پر تنقید کی گئی ہے اور اِسے مشرقِ وسطی میں قیامِ امن کے لیے ایک رکاوٹ قراد دیا گیا ہے۔

عرب ممالک کی جانب سے پیش کی جانے والی قرار داد میں اقوامِ متحدہ اور اوباما انتظامیہ سے کہا گیا ہے کہ وہ امریکی کی جانب سے اسرائیل کو فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر روکنے سے ناکامی پر اس قرار دار کو سکیورٹی کونسل میں لائے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے سفارت کاروں کے مطابق اس قرار داد میں استعمال کی جانے والی زبان میں تبدیلی کرنے یا فلسطینی حکام کو اس بات پر راضی کرنے سے کہ وہ امریکی تجاویز کے مطابق اس مسئلے کے حل کے لیے کوشش کریں اس قرار داد کو سیکورٹی کونسل کے ارکان کی حمایت مل سکتی ہے۔

فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس مسئلے پر پیدا ہونے والے بین الاقوامی دباؤ کو اسرائیل کے خلاف استعمال کرنا چاہتے ہیں تاکہ اسرائیل فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر روک دے اور مشرقِ وسطی میں امن مذاکرات دوبارہ شروع کیے جا سکیں۔

اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ستمبر میں امن مذاکرات شروع ہوئے تھے لیکن کچھ ہی ہفتے بعد یہ مذاکرات اس وقت رک گئے جب اسرائیل نے یہودی بستیوں کی تعمیر پر پابندی میں توسیع سے انکار کر دیا تھا۔

فریقین نے امریکہ کی مدد سے بیس ستمبر کو بلا واسطہ بات چیت شروع کی تھی تاہم تمام کوششوں کے باوجود امریکہ اسرائیل کو اس بات پر قائل نہیں کر سکا کہ تعمیر پر عائد جزوی پابندی میں توسیع کر دے۔

سنہ انیس سو سرسٹھ کی جنگ کے بعد اسرائیل نے غرب اردن کے علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا اور اس نے ان علاقوں میں سو سے زائد بستیوں میں پانچ لاکھ یہودیوں کو بسایا ہے۔

عالمی قوانین کے مطابق اس طرح کی بستیاں غیر قانونی ہیں لیکن اسرائیل اس سے اختلاف رکھتا ہے۔ مغربی کنارے پر تقریباً پچیس لاکھ فلسطینی بھی آباد ہیں۔