اردن، الجزائر میں حکومت مخالف مظاہرے

تیونس میں عوامی احتجاج کی کامیابی کے خطے کے دوسرے ملکوں میں بھی احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
جعمہ کو اردون کے دارالحکومت عمان میں ہزاروں افراد نے حکومت کی معاشی پالیسیوں کےخلاف مظاہرے کیے اور حکومت سے مستعفیٰ ہونے کا مطالبہ کیا۔
اطلاعات کے مطابق جعمہ کے روز پانچ ہزار افراد نے دارالحکومت عمان اور ملک کے دوسرے شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے اور کی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر غم ہو غصے کا اظہار کیا۔
اردن کی حکومت نے ملک میں اشیائے خورد نوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے ایک سو پچیس ملین ڈالر کے ایک پیکج کا بھی اعلان کیا ہے لیکن حزب مخالف نے حکومتی اعلان ناکافی قرار دیا۔
مظاہرین میں دائیں بائیں کے سیاستدان، مذہبی گروہ اور ٹریڈ یونین کے ممبران شامل ہیں۔
عمان میں مظاہرین نعرے بلند کر رہے تھے کہ ملک میں ’بہت جلد تبدیلی آنے والی ہے‘
ادھر تیونس کے پڑوسی ملک الجزئر کے دارالحکومت الجزیرہ میں پولیس نے تین سو افراد پر مشتمل ایک حکومت مخالف مظاہرے کو منتشر کر دیا ہے جس میں پندرہ افراد زخمی ہوگئے۔ الجزائر کے مظاہرین ملک میں شخصی آزادیوں کے حق میں آواز بلند کر رہے تھے۔ پولیس نے متعدد مظاہرین کو گرفتار بھی کر لیا ہے۔ گرفتار افراد میں حزب مخالف کی جماعت آر سی ڈی کے پارلیمانی رہنما کو بھی حراست لے لیا گیا ہے۔
تیونس میں عوامی احتجاج کے بعد یمن کے دارالحکومت صنعاء میں بھی ہزاروں کی تعداد میں طالب علموں نے جلوس نکالا تھا جس میں عرب دنیا کے سربراہوں کے خلاف انقلاب کے نعرے لگائے گئے۔ ان نعروں میں عرب سربراہوں کو دھوکے باز قرار دیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی





















