مشرق وسطیٰ میں احتجاجی لہر

،تصویر کا ذریعہ
پندرہ جنوری کو جب تیونس کے صدر زین العابدین بی علی تئیس سال کےاقتدار پر براجمان رہنے کے بعد عوامی غضب کے سامنے نہ ٹہر سکے اور فرار ہو کر سعودی عرب پہنچے تو کسی کو شاید علم نہ تھا کہ تیونس سے اٹھنے والے احتجاجی لہر خطے کے دوسرے مسلمان ممالک کو بھی اپنی لپیٹ لے لی گی۔
مبصرین اب مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں عوامی احتجاج کی لہرکو انیس سو ننانوے میں مشرقی یورپ میں کیمونسٹ حکومتوں کے زوال کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں جہاں سوویت یونین کے بکھرنے سے مشرقی یورپ میں کئی کیمونسٹ حکومتیں گرگئی تھیں۔
تیونس میں عوامی احتجاج کی وجہ سے آنے والے تبدیلی کے بعد تیونس جیسے مسائل کا سامنا کرنے والے خطے کے دوسرے ممالک مصر، یمن، الجزائر اور اردن میں بھی لوگ سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔
مصر میں جمعہ کوہزاروں افراد نے قاہرہ اور دوسرے شہروں میں حکومت کے خلاف مظاہرہ کیا۔ مظاہرین تیس سال سے اقتدار پر براجمان بیاسی سالہ حسنی مبارک کے اقتدار سے علیحدگی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مصر میں حکومت کی طرف سے مظاہروں پر پابندی کے باوجود حکومت مخالف مظاہرے جاری ہیں جن میں ابھی تک سات افراد ہلاک اور ایک ہزار سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
مبصرین کے خیال میں ابھی تک مصری عوام اس احتجاج میں شامل نہیں ہوئے ہیں۔ لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ مصر میں لوگ حکومت وقت سے مطمئن ہیں
مصر کی کالعدم تنظیم اخوان المسلمین نےاپنے آپکو کو جمعہ کے بعد احتجاج کی کال سے دور رکھا ہے۔اخوان المسلمین واحد ایسی جماعت ہے جس کے پاس عوام کو سڑکوں پر لانے کی صلاحیت ہے۔
اقوام متحدہ کی جوہری توانائی کے عالمی ادارے کے سابق سربراہ اور مصر حزب مخالف کے رہنما محمد البرادعی کو متوسط طبقے کی حمایت حاصل ہے اور ان کو ابھی تک عوام میں زیادہ پذیرائی حاصل نہیں ہو سکی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تیونس کے صدر کی ملک سے فرار ہونے کے بعد یمن میں کئی روز سے مظاہرے جاری ہیں۔یمن مشرق وسطیٰ کا سب سے غریب ملک ہے اور اس کی نصف آبادی انتہائی غربت میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔
یمن میں نوجوانوں اور حزب اختلاف کےگروہ کئی روز سے دارالحکومت صنعا میں مظاہرے کر رہے ہیں اور بتیس سال سے اقتدار پر قابض عبداللہ صالح کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہ
صدر عبداللہ صالح نے عوام کو خوش کرنے کےلیے انکم ٹیکس میں چھوٹ اور اشیائے خورد ونوش کی قیمتوں میں کمی کااعلان کیا ہے۔عبداللہ صالح نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ اپنے بیٹے احمد کو اقتدار منتقل کرنے کا منصوبہ نہیں بنا رہے ہیں۔
جوں جوں تیونس میں احتجاج نے زور پکڑا تو اس کے پڑوسی ملک الجزائر میں ہزاروں نوجوان سڑکوں پر نکل آئے۔الجزائر میں گزشتہ اٹھارہ برسوں میں ہنگامی حالت نافذ ہے اور ملک میں کسی قسم کے جلسے جلوس کی اجازت نہیں ہے۔اس کے باوجود الجزائر میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔ ایسی بھی اطلاعات ہیں کہ تیونس کی طرح الجزائر میں بھی خود سوزی کے واقعات پیش آچکے ہیں۔
الجزائر میں ابھی تک تیونس کی سطح کے مظاہرے دیکھنےمیں نہیں آئے ہیں۔الجزائر کی حکومت نے، جس کے پاس تیل اور گیس کے وسیع ذخائر ہیں، عوامی احتجاج پر قابو پانےکے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔
اردن میں بھی گزشتہ جمعہ کو ہزاروں افراد نے دارالحکومت عمان میں حکومت کی معاشی پالیسیوں کےخلاف مظاہرے کیے اور حکومت سے مستعفیٰ ہونے کا مطالبہ کیا۔مظاہرین میں دائیں بائیں کے سیاستدان، مذہبی گروہ اور ٹریڈ یونین کے ممبران شامل ہیں۔عمان میں مظاہرین نعرے بلند کر رہے تھے کہ ملک میں ’بہت جلد تبدیلی آنے والی ہے



















