تحریر سکوائر کی صفائی

مصر کے صدر حسنی مبارک کے اقتدار چھوڑنے کے ایک روز بعد عوام ایک مرتبہ پھر تحریر سکوائر پر جمع ہوئے ہیں لیکن اس مرتبہ وہ جھاڑو، کوڑے دانوں اور جراثیم کش ادوایات سے لیس ہیں۔
تحریر سکوائر پر جمع ہونے والے ان افراد میں سے اکثر کے لیے یہ صرف سکوائر کی صفائی کا معاملہ نہیں ہے بلکہ مصر کی نئے سرے سے تعمیر ہے۔
عالیہ بیسیونی ایک سائنس ٹیچر اور مصنف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بالآخر مصری ایک نیا آغاز کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ چھبیس برس قبل پیدا ہوئیں، تعلیم حاصل کی اس کے بعد کام شروع کیا اور پھر منگنی ہو گئی لیکن اس پورے عرصے میں انہوں نے ملک میں ایک ہی صدر کو دیکھا۔ خاص طور پر گزشتہ دس برس خراب ترین تھے۔
عالیہ بیسیونی کے لیے تحریر سکوائر کی صفائی ملک میں بڑی تبدیلیوں کی علامت ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ملک میں غربت میں اضافہ ہو رہا ہے، تعلیم اور صحت کے شعبے خراب سے خراب تر ہوتے جا رہے ہیں اسی لیے انہیں ایک بڑی تبدیلی کی امید تھی۔
عالیہ کا کہنا ہے کہ جب ملک میں عوامی احتجاج شروع ہوا تو انہیں یقین تھا کہ لوگ اس وقت تک تحریر سکوائر سے نہیں جائیں گے جب تک صدر حسنی مبارک اقتدار چھوڑ نہیں دیتے۔
عالیہ روز صبح اپنے منگیتر اور دوستوں کے ساتھ تحریر سکوائر جاتی تھیں جہاں وہ ایک رضٰا کار کے طور پر سکوائر کے داخلے راستوں پر عوام کی جانب سے بنائی گئیں چیک پوسٹوں پر کام کرتی تھیں یا اس علاقے میں دوسروں کے ساتھ مل کر صفائی کرتی تھیں۔
عالیہ کہتی ہیں کہ اس تحریک میں انہوں نے اپنا کردار ادا کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مریم حسین آرکیٹیکچر کی طالب علم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں انہوں نے مصر کے دیگر لوگوں کی طرح ہمیشہ خود کو بے اختیار اور بے بس محسوس کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ باقی لوگوں کے ساتھ مل کر تحریر سکوائر کی صفائی کا کام انجام دے رہی ہیں۔
مریم کا کہنا ہے کہ وہ مصر کی تعمیر نو چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک بہت بڑا کام ہے لیکن یہی ہمارا انقلاب ہے اور یہی ہمارا ملک ہے۔
احمد شرم الشیخ میں سیاحوں کے گائڈ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ احتجاج کے دوران تحریر سکوائر کی صفائی کے لیے روز آتے تھے لیکن اب یہ ایک مختلف کام ہے۔ اب آپ ہر کسی کے ساتھ دوستی محسوس کرتے ہیں جیسے سب آپ کے بھائی بہن ہیں۔
احمد کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز مصر نے ایک نئے بچے کو جنم دیا ہے۔ یہ نوجوانوں کا انقلاب ہے۔






















