ایران میں پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں

،تصویر کا ذریعہReuters
ایران کے دارالحکومت تہران میں پیر کو حکومت مخالف ریلیاں نکالی گئیں جن میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان پُرتشدد جھڑپیں ہوئی ہیں۔ایران کی ایک خبر رساں ایجنسی کے مطابق ان واقعات میں ایک شخص ہلاک ہوگیا۔
ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے پیر کو ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں شرکت کی جو گزشتہ چند ہفتوں میں تیونس اور مصر میں ہونے والے مظاہروں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے کیے گئے۔
بی بی سی کو خبر ملی ہے کہ تہران کے علاوہ ایران کے دوسرے شہروں اصفہان، مشہد اور شیراز میں بھی اسی طرح کے احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔
ادھر پولیس نے اپوزیشن لیڈر میر حسن موسوی کو، ان کی اپنی ویب سائٹ کے مطابق، گھر میں نظر بند کر دیا ہے۔ ویب سائٹ کے مطابق اس نظر بندی کا مقصد انھیں تہران میں مارچ میں شرکت سے روکنا تھا جسے حکام نے ممنوع قرار دیا تھا۔ پولیس نے اپنی گاڑیوں سے میرموسوی کے گھر جانے والی سڑک بھی بند کردی۔
ایک اور اپوزیشن رہنما مہدی کاروبی، جو ایرانی پارلیمان کے سابق سپیکر بھی ہیں، وہ بھی ایک طرح سے نظر بند ہیں۔
ان دونوں افراد نے جون دو ہزار نو میں صدر احمدی نژاد کی الیکشن میں دوسری مرتبہ کامیابی کو نہیں مانا تھا جس کی وجہ سے ایران میں سنہ انیس سو اناسی کے بعد پہلی مرتبہ بہت بڑے احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے۔ تاہم حکومت نے بھرپور طاقت سے اس احتجاج کو دبا دیا تھا۔
اپوزیشن کا کہنا تھا کہ احتجاج شروع ہونے کے بعد چھ ماہ کے دوران اس کے اسی کے قریب حمایتی ہلاک ہوئے۔ تاہم حکومت ان اعداد و شمار کو تسلیم نہیں کرتی۔ کئی افراد کو سزائے موت سنائی گئی ہے جبکہ درجنوں جیلوں میں ہیں۔
پیر کو ’آمر مردہ باد‘ کے نعرے لگاتے ہوئے ہزاروں کی تعداد میں اپوزیشن کے حمایتی تہران کے آزادی سکوائر میں جمع ہوگئے۔ فسادات سے نمٹنے والی پولیس اور عام کپڑوں میں پولیس کے اہلکاروں نے جنھیں ایلیٹ ریپبلیکن گارڈ کی مدد حاصل تھی، مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کا استعمال کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بدترین جھڑپیں آذربائیجان سٹریٹ میں ہوئیں جو آزادی سکوائر کے قریب واقع ہے۔ یہاں کئی ایمبولینسیں آتے اور جاتے دیکھی گئیں۔عینی شاہدوں نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ گولیاں لگنے سے کم از کم تین افراد زخمی ہوئے جبکہ درجنوں کو سکیورٹی افواج نے پیٹا اور ہسپتال لے گئے۔
ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی فارس کے مطابق مظاہرین نے ایک شخص کو گولی مار کر ہلاک اور کئی کو زخمی کر دیا۔
رات پڑنے پر بھی تہران میں پولیس سڑکوں پر موجود تھی اگرچہ مظاہرین گھروں کو چلے گئے تھے۔ مقامی علاقوں کی بجلی بھی کٹی ہوئی ہے۔





















