باغیوں کی قذافی کے گڑھ کی جانب پیش قدمی

باغی فوجی: فائل فوٹو

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناطلاعات کے مطابق باغیوں نے بریقہ شہر بھی قبضہ کر لیا ہے

لیبیا میں باغیوں نے چار مزید شہروں پر قبضہ کر لیا ہے اور وہ معمر قذافی کے گڑھ سرت کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی قرار داد کے بعد نو فلائی زون کے نفاذ کے بعد سے باغیوں نے جن شہروں پر قبضہ کیا ہے ان میں راس لانوف، البریقہ، العقیلہ اور بن جواد شامل ہیں۔

ان شہروں سے اتحادی حملوں کے باعث لیبیائی فوج پیچھے ہٹ گئی تھی۔

اتحادی افواج کے طیاروں کی سات روز کی مسلسل بمباری کے بعد باغیوں نے اجدابیا پر دوبارہ قبضہ کر لیا تھا۔

بن جواد میں بیالیس سالہ باغی محمد علی نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا ’قذافی کی فوج اب سہمے ہوئے چوہے کی مانند ہے۔ وہ اپنے ہتھیار پھینک رہے ہیں اور یونیفارم اتار کر عام کپڑے زیب تن کر رہے ہیں۔ ہمیں اب قذافی کی فوج کی فکر نہیں ہے۔‘

اس سے قبل اتحادی طیاروں نے کرنل قذافی کے مضبوط گڑھ سرت پر بھی بمباری کی ہے۔ یہ شہر طرابلس اور بن غازی کے درمیان بحیرۂ روم کے ساحل پر واقع ہے۔ کرنل قذافی سرت شہر ہی میں پیدا ہوئے تھے اور یہاں وہ کافی مقبول ہیں۔

لیبیا کی حکومت کے ترجمان خالد کیم نے تصدیق کی ہے کہ مغربی طاقتوں کی مداخلت کی وجہ سے لیبیائی افواج نے اجدابیا خالی کر دیا ہے۔ کرنل قدافی کے حامیوں نے ایک ہفتہ قبل اجدابیا کو باغیوں کے قبضے سے آزاد کرا لیا تھا اور وہ بن غازی کے اطراف تک پہنچ گئے تھے جب مغربی ممالک کے طیاروں نے لیبیا پر بمباری کا سلسلہ شروع کر دیا۔

دوسری طرف فرانس نے کہا ہے کہ اس کے طیاروں نے سنیچر کو مصراتہ کے ہوائی اڈے پر کھڑے کم از کم پانچ فوجی طیارے اور دو ہیلی کاپٹر تباہ کر دیے ہیں۔

کرنل قذافی کی فورسز اب ملک کے مغربی علاقوں میں دارالحکومت طرابلس، مصراتہ اور کچھ اور شہروں کو کنٹرول کر رہی ہے۔