لیبیا کے مسئلہ پر اتفاق رائے نہیں ہو سکا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, حسن کاظمی
- عہدہ, بی بی سی اردو، برلن، جرمنی
برلن میں جاری نیٹو کی وزرائے خارجہ کانفرنس لیبیا کے مسئلہ پر متفقہ لائحہ عمل طے کرنے میں ناکام رہی ہے۔
مذاکرات کے پہلے روز ورکنگ لنچ میٹنگ کے دوران جو طے شدہ وقت سےایک گھنٹے زیادہ جاری رہی نیٹو ممالک لیبیا میں مزید فوجی کارروائی کے برطانیہ اور فرانس کے مطالبے پر متفق نہیں ہوسکے۔
لیبیا میں باغیوں کو اسلح فراہم کرنے کے بارے میں دی جانے والی تجویز پر بھی نیٹو ممالک کے وزراء خارجہ متفق نہیں ہو سکے۔
تاہم نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ لیبیا پر جاری فضائی حملے جاری رہیں گے جب تک کہ لیبیا کے عوام کو کرنل قذافی کی حکومت سے خطرات لاحق رہیں گے۔
نیٹو کے سیکریٹری جنرل آندرے راسموسن نے کہا کہ نیٹو کے وزرائے خارجہ کو برلن میں جاری ورکنگ لنچ کے دوران نیٹو کے لیبیا مشن کے کمانڈر ایڈمرل جیمز جی اسٹیوریڈز نے ایک بریفنگ بھی دی جس کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ لیبیا میں جاری مشن کے لیے موجود وسائل سے مطمئن ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اب صورتِ حال مختلف ہوتی جارہی ہے کیونکہ کرنل قذافی کی فوجیں اپنے جنگی سامان کو آبادی والے علاقوں میں منتقل کررہی ہیں جس سے اب ان اہداف کو نشانہ بنانا آسان نہیں رہا۔
انہوں نے کہا کہ ’شہری آبادی کو بچاتے ہوئے اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے اب نیٹو کو بہت ہی جدید ترین آلات کی ضرورت ہے۔ ہمیں زمین پر حملے کے لیے بہت ہی جدید طیاروں کی ضرورت ہے جو ہدف کو صحیح طور پر پہچان سکیں۔‘
تاہم انہیں کسی بھی رکن ملک کی جانب سے جدید جنگی طیاروں کی فراہمی کی کوئی پیشکش نہیں ہوئی مگران کا کہنا ہے کہ وہ پُر امید ہیں ۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس وقت نیٹو کے اٹھائیس رکن ممالک میں سے صرف چند ہی لیبیا کے خلاف کارروائی میں عملی طور پر شریک ہیں جن میں برطانیہ ، فرانس ، کینیڈا ، بلجیئم ، ناروے اور ڈنمارک شامل ہیں۔
اس وقت دنیا کے جدید ترین جنگی جہاز امریکہ کے پاس ہیں مگر راسموسن نے اس بات پر زور دیا کہ ایڈمرل اسٹیوریڈس نے کسی ملک کی جانب بطورِ خاص اشارہ نہیں کیا۔
عسکری تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ کے پاس بہت ہی جدید قسم کے اے دس وارتھوگ اور اے سی ایک سو تیس طیارے ہیں جو اہداف کو بہت نزدیک سے نشانہ بنا سکتے ہیں۔
امریکہ نے ابتدائی چند دن کی کارروائی کے بعد لیبیا کا آپریشن نیٹو کے حوالے کردیا تھا۔
نیٹو کے کئی اہم رکن ممالک جن میں اسپین ، جرمنی ، ترکی اور اٹلی شامل ہیں کسی قسم کی کارروائی میں شامل نہیں ہیں۔ صرف اٹلی نے نیٹو کے طیاروں کو اپنی ائیر بیس استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔
نیٹو کے سیکریٹری جنرل آندرے راسموسن نے بعد ازاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ لیبیا میں کرنل قذافی کی حکومت کے خلاف دباؤ برقرار رکھنے کے لیے فضائی حملے جاری رکھے جائیں گے جب تک لیبیا میں تین مطلوبہ اہداف حاصل نہیں ہوجاتے ۔
اول یہ کہ لیبیا کی شہری آبادی کے خلاف حملے بند نہیں ہوجاتے۔ دوم لیبیا کی ان تمام افواج کو ان کی چھاؤنیوں میں واپس نہیں بھیج دیتا جو زبردستی شہروں میں گھسے ہیں یا انہوں نے جن شہروں کامحاصرہ کیا ہوا ہے۔ سوم یہ کہ کرنل قذافی کی حکومت انسانی بنیادوں پر لیبیا کے عوام تک امداد کی فوری طور ، مکمل اور غیرمشروط اجازت دے۔
نیٹو کے وزرائے خارجہ نے گزشتہ روز دوحہ میں ہونے والی رابط گروپ کی میٹنگ کی اس قرارداد کی بھی توثیق کی جس میں کرنل قذافی سے فوری طور پر اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے ایک مرتبہ پھر کہا کے لیبیا کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور اس مسئلے کے حل کے لیے سیاسی طور پر کوششیں کرنی ہوں گی۔
انہوں نے بتایا کہ نیٹو کرنل قذافی کی حکومت کے باغیوں سے رابطے میں ہے اور گزشتہ روز دوحہ میں ہونے والی رابط گروپ کی میٹنگ میں ان کی ملاقات باغیوں کے رہنما محمد جبرائیل سے ہوئی تھی۔
تاہم انہوں نے واضع کیا کہ لیبیا کے مستقبل کا فیصلہ لیبیا کے عوام نے کرنا ہے اور نیٹو صرف لیبیا کے عوام کو اس سخت گیر اور ظالم حکومت کے تشدد سے بچانے کے لیے اقوام ِ متحدہ کی قرارداد پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنارہا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نیٹو کے لیبیا میں جاری مشن کا افغانستان میں جاری مشن پر کوئی اثر پڑنے کا امکان نہیں ہے۔




















