سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب اور غلط دعوے

ایک امریکی ٹی وی پروگرام نے سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب، ’تھری کپس آف ٹی‘ (چائے کے تین کپ) کے ادیب گریگ مورٹنسن پر غلط بیانی کا الزام عائد کیا ہے۔

گریگ نے اس کتاب میں وسطی ایشیا میں سکولوں کے قیام کا ذکر کیا ہے۔

سی بی ایس چینل کے پروگرام ’سکسٹی منٹس‘ نے گریگ کی خیراتی فاؤنڈیشن پر الزام لگایا کہ اس نے پاکستان اور افغانستان میں سکول قائم کرنے کا جو دعویٰ کیا ہے وہ سرے سے وجود ہی نہیں رکھتے۔

پروگرام کا کہنا ہے کہ گریگ اپنے خیراتی ادارے کو بطور ’نجی اے ٹی ایم‘ کے استعمال کرتے ہیں۔

مسٹر گریگ ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انہوں نے جو کچھ کتاب میں تحریر کیا وہ درست ہے۔

بوزمین ڈیلی کرونیکل اخبار کو دیے گیے ایک انٹرویو میں مسٹر گریگ کا، جو سینٹر ایشیا انسٹیٹیوٹ کے بانی اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں، کہنا ہے کہ انہیں امید ہے جو لوگ یہ الزامات عائد کر رہے ہیں یا حملے کر رہے ہیں وہ نیلسن ریٹنگ یا ایمیز کی خاطر دسیوں ہزار لڑکیوں کو نقصان پہنچائیں گے۔

تھری کپس آف ٹی سال دو ہزار چھ میں شائع ہوئی اور سب زیادہ فروخت ہونے والی کتاب بن گئی۔

کتاب میں بتایا گیا ہے کہ کیسے کوہ پیما گریگ شمالی پاکستان میں کھو گئے جنہیں بعد میں ایک مقامی گاؤں کے باسیوں نے بچا لیا۔ ان لوگوں کی شفقت نے بقول گریگ انھیں وہاں ایک سکول قائم کرنے پر مجبور کیا۔

سی بی ایس کی رپورٹ کے، جو اتوار کو نشر ہوئی، مطابق مسٹر گریگ نے شمالی پاکستان کے گاؤں کورفیے کا دورہ کے ٹو کو سر کرنے کی کوشش کے ایک سال بعد کیا۔

مسٹر گریگ کا کہنا ہے کہ انھوں نے جو کتاب میں لکھا وہی سچ ہے۔ انہوں نے ایک درج کیے گئے بیان میں کہا کہ کتاب میں ان کے کےٹو اور کورفیے کے دورے کے آخری دنوں کا ذکر تفصیلاً نہیں ہے بلکہ انیس سو ترانوے میں پیش آنے والے واقعات کا خاکہ ہے۔

مسٹر گریگ نے بتایا کہ انیس سو چورانوے میں وہ ایک بار پھر کورفیے گئے۔

سینٹرل ایشیا انسٹیٹیوٹ کی ویب سائٹ کے مطابق ان کی فاؤنڈیشن نے ایک سو ستر سے زائد سکول بنائے اور 68000 سے زائد بچوں کو پڑھایا۔

سی بی ایس کے پروگرام میں مسٹر گریگ اور ان کی خیراتی فاؤنڈیشن کے معاشی تعلقات پر بھی سوال اٹھائے گئے۔ جواب میں مسٹر گریگ کا کہنا تھا کہ وہ فاؤنڈیشن کو تئیس ملین کی ملنے والی امداد سے 63 مزید سکول بنا سکتے ہیں۔

سینٹرل ایشیا انسٹیٹیوٹ نے پروگرام میں اٹھائے گئے سوالات کے جوابات اپنی ویب سائٹ پر شائع کیے ہیں۔