لیبیا کے تیل کے وزیر بھی منحرف

خود شکری غانم نے بھی اس بارے میں ابھی تک کوئی بیان جاری نہیں کیا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنخود شکری غانم نے بھی اس بارے میں ابھی تک کوئی بیان جاری نہیں کیا

تیونس کے سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ لیبیا کے تیل کے وزیر شکری غانم قذافی حکومت سے منحرف ہو کر تیونس پہنچ گئے ہیں۔

لیبیا کی حکومت نے ابھی تک اپنے تیل کے وزیر کے منحرف ہونے کے بارے میں سامنے آنے والی خبروں کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔

خود شکری غانم نے بھی اس بارے میں ابھی تک کوئی بیان جاری نہیں کیا۔

کہا جا رہا ہے کہ شکری غانم جو لیبیا کے سابق وزیر اعظم بھی ہیں اس وقت لیبیا کی کئی دیگر اہم شخصیات کے ساتھ جربا کے جزیرے پر ہیں۔

اگر اس خبر کی تصدیق ہو گئی تو وہ کرنل قذافی کی حکومت کو چھوڑنے والے دوسرے بڑے عہدے دار ہوں گے۔ اس سے پہلے مارچ میں لیبیا کے سابق وزیر خارجہ موسی کھوسا منحرف ہو کر برطانیہ آ گئے تھے۔

تیونس کے حکام کے مطابق شکری غانم نے تیونس کی سرحد سڑک کے راستے عبور کی اور بعد میں جربا کے جزیرے پر چلے گئے۔

لیبیا میں حکومتی فوج سے بر سرِ پیکار باغیوں کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ شکری غانم منحرف ہو کر یورپ جانے والے ہیں۔

لیبیا کی حکومت کا کہنا ہے وہ سرکاری کام سے تیونس گئے ہیں لیکن وہاں پہنچنے کے بعد اس سے رابطہ منقطہ ہو گیا ہے۔

لیبیا کی حکومت کے ترجمان موسیٰ ابراہیم نے امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کو بتایا ہے کہ باغیوں سے حکومت کی جنگ کا دارومدار افراد پر نہیں ہے، وہ کتنے ہی بڑے عہدے پر فائز کیوں نہ ہوں۔