لیبیا پر نیٹو کی شدید بمباری

،تصویر کا ذریعہAP
نيٹو کے طياروں نے ليبيا کے دارلحکومت تريپولي ميں کرنل قذافي کي افواج کے مراکز پر شدید بمباري کي ہے۔
نيٹو کے طياروں کي بمباري کي وجہ آدھے گھنٹے میں بيس دھماکے ہوئے جس ترايپولي کانپنے لگا۔ دھماکے کے بعد علاقے میں دھويں کے بادل چھا گئے۔
نيٹو نے کہا ہے کہ اس نے تریپولی میں گاڑيوں کے ايسے ڈپو کو نشانہ بنايا ہے جہاں سے ان افواج کو اشيا مہيا کي جا رہي تھیں جو عام شہريوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ نیٹو کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی اقوام متحدہ کے اس مینڈیٹ کے تحت کی گئی ہے جس میں لیبیا کے عوام کو کرنل قذافی کی افواج سے بچانے کا کہا گیا ہے۔
ليبيا کي حکومت کے ترجمان موسيٰ ابراہيم کے مطابق نيٹو طياروں کے بمبوں نے لبيبائي فوج کے رضا کار يونٹ کو نشانہ بنايا ہے جس ميں تين افراد ہلاک اور ڈيڑھ سو زخمي ہوئے ہیں۔
اس سے پہلے برطانيہ اور فرانس نے مارچ میں ليبيا کے خلاف کارروائي شروع کرنے کے بعد پہلي بار جنگي ہيلي کاپٹروں کو ليبيا ميں کارروائي کے بھيجا ہے۔
فرانس نے ايسے بارہ ہيلي کاپٹر بحيرہ روم روانہ کر ديے ہيں جہاں سے وہ طيارہ بردار جہاز سے پرواز کر کے ليبيا ميں اپنے اہداف کو نشانہ بنا سکیں گے۔ ’
اميد کي جا رہي ہے کہ برطانيہ بھی کرنل قذافي کي افواج کے خلاف کارروائي کے ليے اپاچي ہيلي کاپٹر روانہ کرے گا۔
بي بي سي کے دفاعي نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ليبيا ميں کارروائي کے لیے ہیلی کاپٹر بھیجنے کا فیصلہ اہم پیش رفت ہے۔ ہيلي کاپٹر کے استعمال سے شہري علاقوں میں کرنل قذافي کي افواج کو نشانہ بنانا آسان ہو جائے گا۔ ادھر امریکی نائب وزير خارجہ جيفري فيلٹمين باغيوں کے کنٹرول میں شہر غازي پہنچے ہیں۔ ا
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی




















