یمن: صنعاء میں جنگ بندی پر اتفاق

،تصویر کا ذریعہREUTERSAmmar Awad
یمن کے دارالحکومت صنعاء میں پانچ دن جاری رہنے والی جھڑپوں کے بعد یمنی صدر اور ملک کے سب سے طاقتور قبیلے کے سردار جنگ بندی پر تیار ہوگئے ہیں۔
شیخ صادق الاحمر کے حامیوں اور صدر علی عبداللہ الصالح کی حامی سکیورٹی افواج کے مابین پیر سے جاری اس لڑائی میں کم از کم ایک سو چوبیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
تاہم اب ایک قبائلی ثالث کا کہنا ہے کہ فریقین نے اپنے مسلح حامیوں کو پیچھے ہٹانے پر اتفاق کیا ہے۔
یہ جھڑپیں اس وقت شروع ہوئی تھیں جب یمنی صدر کی حامی افواج نے قبائلی رہنما شیخ صادق الاحمر کے احاطے پر چھاپہ مار کر ان کے خلاف کارروائی شروع کی تھی۔
سکیورٹی فورسز نے شیخ صادق الاحمر کے احاطے پر اس وقت شیلنگ بھی کی تھی جب وہاں موجود قبائلی رہنما فائر بندی کے سلسلے میں ثالثی کروانے پر بات کر رہے تھے۔
قبائلی رہنما شیخ صادق الاحمر صدر صالح حکومت مخالف قوتوں کے حامی ہیں۔
یمن کے صدر صالح کسی ایسے سودے سے انکار کر چکے ہیں جس کے تحت ان کو اقتدار چھوڑنا پڑے اور انہوں نے شیخ الاحمر پر الزام لگایا تھا کہ وہ ملک میں خانہ جنگی کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
















