خلائی شٹل کی تین دہائیاں: تصاویر

خلائی شٹل کی تین دہائیاں: تصاویر

بارہ مئی 1982 کو دنیا بھر نے دیکھا کہ کینیڈی سپیس سینٹر سے کمانڈر جان ینگ اور پائلٹ رابرٹ کرپن نے دنیا کی پہلی دوبارہ استعمال کی جانے والی خلائی شٹل کولمبیا خلائی مدار میں لے کر گئے۔ اس پرواز کے تیس سال بعد ناسا کا سپیس شٹل پروگرام اختتام پذیر ہو رہا ہے۔
،تصویر کا کیپشنبارہ مئی 1982 کو دنیا بھر نے دیکھا کہ کینیڈی سپیس سینٹر سے کمانڈر جان ینگ اور پائلٹ رابرٹ کرپن نے دنیا کی پہلی دوبارہ استعمال کی جانے والی خلائی شٹل کولمبیا خلائی مدار میں لے کر گئے۔ اس پرواز کے تیس سال بعد ناسا کا سپیس شٹل پروگرام اختتام پذیر ہو رہا ہے۔
اس پہلے مشن میں اس شٹل کی کارکردگی کو جانچنا مقصد تھا۔ اس کے علاوہ راکٹ بوسٹرز، ایندھن کے ٹینک اور تین انجنوں کی مضبوطی کا اندازہ لگانا تھا۔
،تصویر کا کیپشناس پہلے مشن میں اس شٹل کی کارکردگی کو جانچنا مقصد تھا۔ اس کے علاوہ راکٹ بوسٹرز، ایندھن کے ٹینک اور تین انجنوں کی مضبوطی کا اندازہ لگانا تھا۔
امریکی صدر رچرڈ نکسن نے اس پروگرام کا اعلان کیا تھا۔
،تصویر کا کیپشنامریکی صدر رچرڈ نکسن نے اس پروگرام کا اعلان کیا تھا۔
اس شلٹل کی تیاری میں کئی برس لگے۔ اس شٹل کو 115 سے 140 میل بلند مدار میں سفر کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ ناسا کے مطابق اس پروگرام پر 113.7 بلین ڈالر سرف ہوئے۔
،تصویر کا کیپشناس شلٹل کی تیاری میں کئی برس لگے۔ اس شٹل کو 115 سے 140 میل بلند مدار میں سفر کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ ناسا کے مطابق اس پروگرام پر 113.7 بلین ڈالر سرف ہوئے۔
اس پروگرام میں بنائی جانے والی پہلی شٹل کا نام انٹرپرائز تھا۔ یہ شٹل کبھی بھی خلا کے سفر پر نہیں گئی۔ اس شٹل میں ٹیک آف اور لینڈ کرنے کے تجربات کیے گئے۔
،تصویر کا کیپشناس پروگرام میں بنائی جانے والی پہلی شٹل کا نام انٹرپرائز تھا۔ یہ شٹل کبھی بھی خلا کے سفر پر نہیں گئی۔ اس شٹل میں ٹیک آف اور لینڈ کرنے کے تجربات کیے گئے۔
دوسری شٹل کا نام چیلنجر تھا جس نے اپنا پہلا خلائی سفر 1983 میں کیا۔ اس شٹل کا نام 1870 کے برطانوی ریسرچ بحری جہاز ایچ ایم ایس چیلنجر کے نام پر رکھا گیا۔
،تصویر کا کیپشندوسری شٹل کا نام چیلنجر تھا جس نے اپنا پہلا خلائی سفر 1983 میں کیا۔ اس شٹل کا نام 1870 کے برطانوی ریسرچ بحری جہاز ایچ ایم ایس چیلنجر کے نام پر رکھا گیا۔
1986 میں چیلنجر کے دسویں مشن کی پرواز کے دوران بوسٹر کی ایک سیل میں خرابی پیدا ہو گئی جس کے باعث یہ شٹل ہوا میں تباہ ہو گئی۔ اس پر سوار ساتوں خلاباز اس حادثے میں ہلاک ہو گئے۔
،تصویر کا کیپشن1986 میں چیلنجر کے دسویں مشن کی پرواز کے دوران بوسٹر کی ایک سیل میں خرابی پیدا ہو گئی جس کے باعث یہ شٹل ہوا میں تباہ ہو گئی۔ اس پر سوار ساتوں خلاباز اس حادثے میں ہلاک ہو گئے۔
تیسری شٹل ڈسکوری تھی جس نے اپنی پہلی پرواز اگست 1984 میں کی۔ اس شٹل نے 39 مشنز کیے ہیں اور اسی نے خلائی دوربین ہبل کو بھی خلا کے مدار میں پہنچایا۔
،تصویر کا کیپشنتیسری شٹل ڈسکوری تھی جس نے اپنی پہلی پرواز اگست 1984 میں کی۔ اس شٹل نے 39 مشنز کیے ہیں اور اسی نے خلائی دوربین ہبل کو بھی خلا کے مدار میں پہنچایا۔
اسی شٹل نے ہبل دوربین کی دیکھ بھال کے لیے مشن کیے ہیں۔
،تصویر کا کیپشناسی شٹل نے ہبل دوربین کی دیکھ بھال کے لیے مشن کیے ہیں۔
اس شٹل کے مشنز کے دوران اس سے کئی شاندار تصاویر بھی لی گئیں۔
،تصویر کا کیپشناس شٹل کے مشنز کے دوران اس سے کئی شاندار تصاویر بھی لی گئیں۔
آخری شٹل اینڈیور بنائی گئی۔ اس کا نام طلبہ نے رکھا تھا اور اس نے چیلنجر کی جگہ لی۔
،تصویر کا کیپشنآخری شٹل اینڈیور بنائی گئی۔ اس کا نام طلبہ نے رکھا تھا اور اس نے چیلنجر کی جگہ لی۔
اینڈیور نے پچیس مشن کیے ہیں اور ایک سو بائیس لاکھ میل کا سفر طے کیا ہے۔
،تصویر کا کیپشناینڈیور نے پچیس مشن کیے ہیں اور ایک سو بائیس لاکھ میل کا سفر طے کیا ہے۔
اس شٹل کی پرواز کے دوران ایف 15 نگرانی پر ہوتا ہے۔
،تصویر کا کیپشناس شٹل کی پرواز کے دوران ایف 15 نگرانی پر ہوتا ہے۔
شٹل انڈیور بین الاقوامی خلائی سٹیشن میں۔ مختلف شٹلز 36 بار بین الاقوامی خلائی سٹیشن پر گئیں۔
،تصویر کا کیپشنشٹل انڈیور بین الاقوامی خلائی سٹیشن میں۔ مختلف شٹلز 36 بار بین الاقوامی خلائی سٹیشن پر گئیں۔
اپنے آحری سفر سے قبل مختلف شٹلز نے 537,114,016 میل کا سفر مکمل کیا ہے۔ زمین کے گرد 20,952 چکر کاٹے ہیں اور 1320 روز، ایک گھنٹہ، 32 منٹ اور 44 سیکنڈ خلا میں گزارے۔
،تصویر کا کیپشناپنے آحری سفر سے قبل مختلف شٹلز نے 537,114,016 میل کا سفر مکمل کیا ہے۔ زمین کے گرد 20,952 چکر کاٹے ہیں اور 1320 روز، ایک گھنٹہ، 32 منٹ اور 44 سیکنڈ خلا میں گزارے۔
اگر موسم صاف رہا تو اس پروگرام کی آخری پرواز آٹھ جولائی کو ہو گی۔
،تصویر کا کیپشناگر موسم صاف رہا تو اس پروگرام کی آخری پرواز آٹھ جولائی کو ہو گی۔