ناروے میں ایک ہی دن دو مختلف وارداتوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بانوے ہو گئی ہے۔
،تصویر کا کیپشنناروے میں ایک ہی دن دہشت گردی کی دو مختلف وارداتوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بانوے ہو گئی ہے۔
،تصویر کا کیپشنجمعہ کو ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں پہلے ایک خوفناک دھماکہ ہوا جس میں سات افراد ہلاک ہوئے اس کے بعد ناروے کے ایک شمالی جزیرے میں ناروے کی لیبر پارٹی کے ایک یوتھ کیمپ پر فائرنگ میں پچاسی افراد ہلاک ہو گئے۔
،تصویر کا کیپشنناروے کی پولیس کا کہنا ہے کہ اوسلو کے شمال میں ایک جزیرے یٹویا میں حکمران جماعت لیبر پارٹی سے وابستہ نوجوانوں کے ایک تربیتی کیمپ میں فائرنگ کے واقعے میں ایک شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنحملہ آور کا نام آندرے بیرنگ بریوک ہے اور پولیس کے مطابق فوری طور پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ حملہ آور کا تعلق کس تنظیم سے ہے تاہم اس سے پوچھ گچھ جاری ہے۔
،تصویر کا کیپشنناروے کے ٹیلی ویژن چینل ’ٹی وی ٹو‘ سے وابستہ صحافی قذافی زمان نے گزشہ رات گئے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جزیرے یٹویا کے گرد سمندر میں حکام لاپتہ نوجوانوں کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔یوتھ کیمپ میں شامل ایک رکن ایلیسے نے اے پی کو بتایا ’پہلے اس نے وہاں موجود لوگوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا اور پھر جو لوگ پانی میں کودے تھے ان پر بھی گولیاں برسائیں۔‘
،تصویر کا کیپشنحکام کو اب تک یقین نہیں ہے کہ یہ کام ایک شخص کا ہو سکتا ہے۔ شدت پسندی کے دو واقعات کے بعد ناروے میں سوگ کی کیفیت ہے اور اوسلو شہر میں لوگ جائے وقوعہ پر پھول رکھ کر ہلاک ہونے والوں کو خراج عقیدت پیش کرتے نظر آئے۔
،تصویر کا کیپشنکیمپ میں موجود ایدرین پراکون نے ناروے کے وردین اخبار کو بتایا کہ کمیپ میں افراتفری کا عالم تھا۔ لوگ بری طرح سے ڈرے ہوئے تھا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے چار لاشوں کو دیکھا۔
،تصویر کا کیپشنناروے کے دارالحکومت اوسلو کے مرکز میں ہونے والے بم دھماکے کے عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کے بعد مکمل طور پر افراتفری کا عالم تھا۔
،تصویر کا کیپشنایک برطانوی شخص بن نے بتایا کہ دھماکہ کی آواز ایک میل دور سے بادل کی گرج جیسی سنائی دی۔
،تصویر کا کیپشنناروے کے وزیراعظم جینز سٹولن برگ نے ان حملوں کو ’قومی سانحہ‘ قرار دیا ہے۔
،تصویر کا کیپشندہشت گردی کی دو مختلف وارداتوں کے بعد سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔
،تصویر کا کیپشنجمعہ کو ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں پہلے ایک خوفناک دھماکہ ہوا جس میں سات افراد ہلاک ہوئے
،تصویر کا کیپشنبم دھماکے سے وزیر اعظم کے دفتر اور دیگر قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔
،تصویر کا کیپشندھماکے کے بعد گلیوں میں شیشے کے ٹکڑے بکھرے نظر آ رہے تھے اور ملبے سے دھواں اٹھ رہا تھا