’بیت الخلاء میں چھپ کر جان بچائی‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
ناروے سے آرہی خبروں کے مطابق دارلحکومت اوسلو کے شمال میں ایک جزیرے یٹویا میں حکمران جماعت لیبر پارٹی سے وابستہ نوجوانوں کے ایک کیمپ میں فائرنگ کے واقعے میں ہلاکتوں کی تعداد ستاسی ہو گئی ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ گولی چلانے والا شخص نوروے کا شہری لگتا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ابھی بھی متعدد افراد لاپتہ ہیں اور ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔
کیمپ میں موجود ایدرین پراکون نے نوروے کے وردین اخبار کو بتایا کہ کمیپ میں افراتفری کا عالم تھا۔ لوگ بری طرح سے ڈرے ہوئے تھا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے چار لاشوں کو دیکھا۔
انیتا باکاس جو اس حملے میں بچ گئیں انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ کمیپ میں کم از کم چھ سو لوگ حاضر تھے۔
انیتا کے ساتھ ان کی نوجوان بیٹی بھی موجود تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی بیٹی نے چار لڑکیوں کے ساتھ بیت الخلاء میں چھپ گئیں اور وہ اپنی بیٹی کے ساتھ ایس ایم ایس کے ذریعے رابطے میں تھیں۔
ان کی بیٹی نے انیتا کو بتایا کہ کمیپ میں لوگوں کو اوسلو میں بم حملے کے بارے میں بتانے کے لیے بلایا گیا تھا کہ تبھی گولیاں چلنی شروع ہو گئیں۔
انیتا کا کہنا ہے کہ بیت الخلاء کے باہر لوگوں کو اندھا دھند مارا جارہا تھا۔
ایک اور عینی شاہد نے ناروے کے ایک ریڈیو چینل پر بتایا کہ حملہ آور نے گولی چلانے سے پہلے کیمپ میں موجود لوگوں کو ایک گھیرے میں جمع ہونے کے لیے کہا اور پھرگولی چلائی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی





















