برطانیہ: سزائے موت کے خاتمے کا مطالبہ

برطانیہ کی حکومت نے انٹرنیٹ کے ذریعے بھیجی جانے والی درخواستیں شائع کر دی ہیں جن پر بڑے پیمانے پر عوامی حمایت حاصل ہونے کے بعد پارلیمان میں بحث کی جا سکتی ہیں۔
ان درخواستوں میں درجنوں مہم جوؤں کی جانب سے کیے گئے گئے مطالبوں میں سزائے موت کے خاتمے کا مطالبہ سرِ فہرست ہے۔
<link type="page"><caption> سزائے موت کا خاتمہ قریب</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2009/03/090324_death_penalty_rr.shtml" platform="highweb"/></link>
دوسرے مطالبات میں یورپی یونین سے علیحدگی، جنسی زیادتی کے ملزمان کی شناخت پوشیدہ رکھنے اور جیلوں میں قیدیوں کی خوراک کو صرف روٹی اور پانی تک محدود کرنا شامل ہے۔
اگر کسی درخواست کو ایک لاکھ حمایتی دستخط حاصل ہو جاتے ہیں تو یہ دارالعوام میں بحث کے لیے پیش کی جا سکتی ہے۔
حکومت نے اپنے اراکینِ پارلیمان کو خبردار کیا تھا کہ کسی بھی تجویز میں عوامی رائے کو کسی صورت نظرانداز نہ کیا جائے۔
اب تک شائع ہونے والی ایک سو انہتر میں سے چالیس درخواستوں میں سزائے موت کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا ہے، متعدد میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ یورپی یونین سے علیحدہ ہو جائے یا پھر یورپی یونین کے انسانی حقوق کے کنونشن سے دستبردار ہو جائے۔
تاہم سات درخواستوں میں کہا گیا کہ سزائے موت کے فیصلے واپس نہیں کیے جانے چاہئیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک درخواست میں مطالبہ کیا گیا کہ عدالتی کارروائیوں کو ٹیلی وژن پر دکھایا جانا چاہئے جبکہ ایک میں کہا گیا کہ ملک میں شراب کی قیمت میں اضافہ کیا جائے۔
مسترد کی جانے والے ایک سو چوّن درخواستیں ٹیلی وژن پر دکھائے جانے والے کھیلوں کے مقابلوں سے متعلق تھیں، زیادہ تر کا مطالبہ تھا کہ کھیلوں کی نشریات کو مفت کیا جائے۔
حکومت کی جانب سے شائع کی جانے والی درخواستوں میں سے کوئی بھی اگر ایک لاکھ سے زائد شہریوں کے دستخط حاصل کر لیتی ہے تو یہ ’ کامنز بیک بیچ بزنس کمیٹی‘ کے پاس چلی جائے گی جو اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ یہ پارلیمان میں بحث کی اہل ہے یا نہیں۔
ایسی تمام درخواستیں جن کے بارے میں یہ خیال ہو کہ وہ توہین آمیز یا نفرت انگیز ہے یا پہلے سے موجود درخواستوں سے ملتی جلتی ہے یا حکومت سے متعلق نہیں ہے انہیں مسترد کر دیا جائے گا۔
حزبِ مخالف کی جماعت لیبر پارٹی کا کہنا ہے کہ یہ درخواستیں پارلیمان میں کی جانے والی بحث کو غیر دانشمندانہ موضوعات کی جانب لے جا سکتی ہے۔
یہ نظام سابق وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر کے دورِ حکومت میں ’ ڈاؤن سٹریٹ ویب سائٹ‘ پر شائع ہونے والی درخواستوں کی جگہ لے گا۔
اُس وقت سب سے زیادہ مقبول ہونے والی درخواستوں میں سے ایک پر اٹھارہ لاکھ افراد نے سڑکوں کے استعمال پر لگنے والے ٹیکس کی مخالفت کی۔
ستر ہزار افراد نے ایک مشورے کی حمایت کی کہ گورڈن براؤن کو ’مستعفی‘ ہو جانا چاہئے۔
پچاس ہزار افراد نے اس تجویز کی حمایت کی جس میں کہا گیا تھا کہ ٹیلی وژن پریزنٹر جیرمی کلرکسن کو وزیرِ اعظم بن جانا چاہئیے۔







