لیبیا کے رہنما کرنل قذافی ہلاک

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

لیبیا کے رہنما کرنل معمر قذافی اپنے آبائی شہر سرت پر حملے کے دوران ہلاک ہو گئے ہیں۔

لیبیا کے عبوری وزیر اعظم محمود جبریل نے سابق حکمران کرنل قذافی کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے۔

وزیر اعظم محمود جبریل نے کہا کہ کرنل قذافی کو زندہ حالت میں گرفتار کر لیا گیا تھا لیکن وہ ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی وہ ان زخموں کی تاب نہ لاسکے جو انہیں جنگ کے دوران آئے تھے۔

عبوری وزیر اعظم نے کہا کہ کرنل قذافی کی کار متحارب گروپوں کی فائرنگ میں پھنس گئی اور اسی دوران انہیں گولی لگی۔ انہوں نے کہا یہ واضح نہیں ہے کہ کرنل قذافی کو گولی عبوری حکومت کے حامی جنگجوؤں سے لگی ہے یا وہ اپنے وفادار فوجیوں کی گولی کا نشانہ بنے ہیں۔

اس سے قبل باغیوں نے کرنل قذافی کی ہلاکت کی خبر مختلف انداز میں سنائی تھی ۔قومی عبوری کونسل کے حامی ایک جنگجو نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ اس نے قذافی کو ایک گڑھے میں چھپے ہوئے پکڑا۔ اس نے ایک طلائی پستول بھی دکھایا جو اس کے بقوں اس نے کرنل قذافی سے چھینا تھا۔ اس نے دعوی کیا کہ قذافی گولی نہ مارنے کی التجا کر رہے تھے

کرنل قذافی کے دو بیٹے سیف السلام اور متعصم ان کے ہمراہ لڑ رہے تھے۔ عبوری حکومت کے وزیر انصاف نے تصدیق کی ہے کہ کرنل قذافی کے بیٹے سیف السلام کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیاگیا ہے۔ متعصم کی لاش کو مصراتہ میں رکھ دیا گیا ہے۔

ادھر نیٹو نے جمعرات کی صبح کو سرت میں فضائی حملے کرنے کی تصدیق کی تھی۔لیبیا کے ٹی وی چینل پر کرنل قذافی کی خون میں لت پت لاش کو پڑا ہوا دکھایا گیا جس کے اردگر عبوری کونسل کے جنگجؤ جمع تھے۔ اس ویڈیو میں زخمی کرنل قذافی کو ایک ٹرک میں ڈال کر لے جاتے دیکھا گیا ہے۔

الجزیہ ٹیلی ویژن پر دکھائی جانے والی فٹیج میں کرنل قذافی سرت کی گلیوں میں گھسیٹے ہو ئے دکھایا گیا ہے۔ اس فٹیج سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ جب کرنل قذافی کو گلیوں میں گھسیٹا جا رہا تھا اس وقت وہ زندہ تھے یا ہلاک ہو چکے تھے۔

کرنل قذافی کی لاش کو مصراتہ لے جایا گیا ہے جہاں اسے ایک مسجد میں رکھ دیا گیا ہے۔

لیبیا میں قومی عبوری کونسل کے جنگجوؤں نے سرت شہر پر قبضے اور کرنل قذافی کی ہلاکت کی خبروں کے بعد لیبیا کے مختلف شہروں جشن منا یا جا رہا ہے۔

عالمی برادری نے لیبیا کے سابق رہنما کی ہلاکت کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ لیبیا کے عوام ان کی بیالیس سالہ آمرانہ دور سے آزاد ہو گئے ہیں۔

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ کرنل قذافی کی ہلاکت کا دن لیبیا کے لیے بہت اہم دن ہے۔ صدر براک اوباما نے کہا کہ جمہوریت کی طرف سفر بہت لمبا اور مشکل ہے لیکن امریکہ اور دوسرے ممالک تریپولی کی مدد کرتا رہے گے۔

عبوری کونسل کے کمانڈروں کا کہنا ہے کہ سرت شہر پر قبضہ دو ماہ کے محاصرے اور قذافی کے حامیوں کی طرف سے شدید مزاحمت کے خلاف جنگ کے بعد ممکن ہوا ہے۔

نیٹو نے اپنے ایک بیان کہا ہے کہ اس نے جمعرات کو کرنل قذافی کے حامیوں کی دو گاڑیوں کو نشانہ بنایا۔ لیکن یہ واضع نہیں کہ نیٹو کے اس حملے سے کرنل قذافی کی ہلاکت کا کیا تعلق ہے