اتوار کو لیبیا کی مکمل آزادی اور انتخابات کا اعلان

،تصویر کا ذریعہ
لیبیا کے عبوری وزیراعظم محمود جبرئیل نے اعلان کیا ہے کہ ملک کے نئے آئین کی تشکیل کے لیے نیشنل کونسل کے انتخابات آٹھ ماہ تک ہوں گے اور توقع ہے کہ انتخابات آزادنہ اور منصفانہ ہوں گے۔
عبوری وزیراعظم نے انتخابات کی مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ انتخابات کے بعد نیشنل کونسل آئین بنائے گی جسے ریفرنڈم کے لیے عوام کے سامنے پیش کیا جائے گا
دریں اثنا عبوری حکام کا کہنا ہے کہ کرنل قذافی کی ہلاکت کے بعد اتوار کو لیبیا کی مکمل آزادی کا اعلان کیا جائے گا اور امکان ہے کہ عبوری وزیر اعظم اس موقع پر جمہوریت کے ٹائم ٹیبل کا اعلان بھی کریں گے۔
اطلاعات ہیں کہ اس نظام الاوقات کے مطابق عوام سے آئین کی منظوری کے بعد صدارتی انتخابات ہوں گے۔
اردن میں عالمی اقتصادی فورم سے خطاب کرتے ہوئے عبوری وزیر اعظم نے کہا ہے کہ اس وقت لیبیا کو جن حالات کا سامنا ہے اس میں اولین ترجیح ملک میں امن و امان کی بحالی ہے، اسلحے پر قابو پانا اور مسلح افراد کو ملک کے دفاعی نظام کا حصہ بنانا ہے کیونکہ کرنل قذافی کے دور کے خلاف جد وجہد کرنے والی ملیشیا تنظیمیں اس وقت اپنے اپنے علاقوں میں انفرادی طور پر نہ صرف علاقائی اختلافات کو نمٹا رہی ہیں بلکہ نسلی مخاصمتوں کی بنا پر بھی کارروائیاں کر رہی ہیں۔
وزیر اعظم جبرئیل اس وقت سابق آمر کرنل قذافی کی ہلاکت کی مکمل تفصیلات فراہم کرنے کے لیے شدید عالمی دباؤ میں ہیں کیونکہ ان کی ہلاکت کے جو ویڈیو کلپ سامنے آئے ہیں ان میں پہلے ان کو زندہ گرفتار ہوتے دکھایا گیا ہے اور پھر وہ ہلاک دکھائی دیتے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے حقوقِ انسانی کمیشن کا کہنا ہے کہ اس بات کی تحقیقات بھی ہونی چاہیئں کہ لیبیا کے سابق حکمران کرنل معمر قدافی کی ہلاکت کیسے ہوئی۔
حقوقِ انسانی کے لیے اقوامِ متحدہ کی ہائی کمشنر نوی پلے کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ موبائل فون سے بننے والی ویڈیو فلم سے پتہ چلتا ہے کہ معمر قذافی کو حراست میں لے لیا گیا تھا اور ان کی ہلاکت اس کے بعد ہوئی۔ اس کے علاوہ امریکہ اور روس نے بھی قذافی کی ہلاکت کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فی الحال کرنل قذافی کی لاش مصراتہ شہر میں گوشت کے ایک سرد خانے میں پڑی ہوئی ہے اور عبوری حکام یہ فیصلہ نہیں کر سکے کہ ان کی تدفیں کہاں اور کیسے کی جائے گی۔
اس سے پہلے آنے والی خبروں میں بتایا گیا تھا کہ عبوری حکام ان کی تدفین کو خفیہ رکھنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔



















