’امریکی فوج کی پاکستان سے بات چیت جاری ہے‘

امریکہ کے دفاعی نمائندوں کا اسلام آباد میں دفتر موجود ہے جو پاک امریکہ فوجی تعلقات کو دیکھتے ہیں: جارج لٹل

،تصویر کا ذریعہreuters

،تصویر کا کیپشنامریکہ کے دفاعی نمائندوں کا اسلام آباد میں دفتر موجود ہے جو پاک امریکہ فوجی تعلقات کو دیکھتے ہیں: جارج لٹل

امریکی محکمہِ دفاع پینٹا گون نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات بہت اہم ہیں اور حالیہ دھچکے کے باوجود دونوں ممالک کی فوج کے درمیان بات چیت جاری ہے۔

امریکہ نے گزشتہ برس چھبیس نومبر کو پاکستانی کی سرحدی چوکیوں پر نیٹو کے فضائی حملے میں چوبیس پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت پر گہرے افسوس کا اظہار کیا اور اس حملے میں ہلاک اور زخمی ہونے والےمتاثرہ خاندانوں کو معاوضہ ادا کرنے کی بھی پیش کش بھی کی تاہم اس کے باوجود پاکستان نے افغانستان میں بین الاقوامی افواج کو رسد پہنچانے کے لیے اپنے راستے نہیں کھولے۔

پینٹاگون کے پریس سیکرٹری جارج لٹل نے کہا ہے’اس حملے کی مکمل تحقیقات کی گئی ہیں اور امریکہ نے اس کی ذمہ داری اور غلطی بھی قبول کی ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ہمارا اتحادی پاکستان نیٹو افواج کو رسد پہنچانے کے لیے اپنے زمینی راستے جلد کھول دے گا۔

پینٹاگون کے مطابق افغانستان میں جنگ جاری رکھنے کے لیے مناسب تعداد میں رسد کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ رسد شمالی ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک سے پوری کی جا رہی ہے۔جس میں سامان رسد بالٹک ریاستوں اور بحیرہ کیسپئین کی بندرگاہوں کے بعد روس، وسطی ایشیا سے ہوتا ہوا افغانستان پہنچتا ہے۔

پینٹا گان کے پریس سیکرٹری نے کہا کہ پاکستان امریکہ کا اہم اتحادی ہے اور دونوں ممالک دہشت گردی کے خلاف اور دیگر معاملات میں ایک دوسرے سے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔

جارج لٹل نے کہا کہ گزشتہ ایک برس سے امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں کشیدگی آئی ہے تاہم انہیں امید ہے کہ مستقبل میں ان تعلقات میں بہتری آئے گی۔

واضح رہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ نے چھبیس دسمبر کو سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کے بارے میں اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ پاکستان فوج کے سرحدی رابطہ افسران کے ساتھ اس آپریشن کی معلومات کا تبادلہ اس لیے نہیں کیا گیا کیونکہ ڈر تھا کہ یہ معلومات افشاء کر دی جائیں گی۔

پاکستان نے چھبیس نومبر کو پاکستانی فوجیوں کی چیک پوسٹوں پر نیٹو کے حملے کے بعد افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کو سپلائی بند کر رکھی ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنپاکستان نے چھبیس نومبر کو پاکستانی فوجیوں کی چیک پوسٹوں پر نیٹو کے حملے کے بعد افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کو سپلائی بند کر رکھی ہے

رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ غیر ملکی پیادہ فوجی افغان صوبے کُنڑ میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کے لیے پہنچے تھے جب اُن پر سرحد پار سے فائرنگ کی گئی۔ اس پر انہوں نے اپنے دفاع کے لیے فضائی مدد مانگی اور یوں دونوں جانب سے جھڑپیں شروع ہوئیں۔

امریکی محکمہ دفاع کے پریس سیکرٹری کے مطابق پاکستان حکام کو ان تحقیقات میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی تھی تاہم انھوں نے انکار کیا۔

انھوں نے کہا کہ چھبیس نومبر کے واقعے کی رپورٹ پر امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا نے اپنے پاکستانی ہم منصب سے بات نہیں کی ہے تاہم چھبیس نومبر کے واقعے کے فوری بعد امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف، آرمی چیف اور میرینز دستوں کے سربراہ نے اپنے منصبوں سے رابطہ کیا تھا۔

جارج لٹل کے مطابق امریکہ کے دفاعی نمائندوں کا اسلام آباد میں دفتر موجود ہے جو پاک امریکہ فوجی تعلقات کو دیکھتے ہیں جس میں تربیت، آلات شامل ہیں اور فوجی بات چیت جاری ہے۔