صدر اوباما: خارجہ پالیسی کی عالمی حمایت میں کمی

ایک عالمی سروے کے مطابق امریکی صدر براک اوباما کی خارجہ پالیسی کی عالمی سطح پرحمایت میں تیزی سے کمی ہوئی ہے اور امریکی ڈرون حملے پوری دنیا میں غیر مقبول ہیں۔
پیو ریسرچ سینٹر کی جانب سے اکیس ممالک میں کیے جانے والے سروے کے مطابق صدر براک اوباما کے عہدہ صدارت کے دوران ان کی عالمی پالیسیوں کی حمایت میں سب سے زیادہ کمی چین میں آئی ہے۔
حالانکہ ان کے اتحادی ملک یورپ میں ان کی مقبولیت میں کوئی کمی نہیں آئی ہے اور یورپ امریکہ کی عالمی پالیسیوں اور خود باراک اوباما پر پوری طرح یقین کرتا ہے اور ان کا بڑا حمایتی ہے۔
پیو رسرچ سینٹر کے ایک ڈائریکٹر رچرڈ وکی کا کہنا ہے’ان کے خیال سے باراک اوباما سے سب سے زیادہ مایوسی وہاں ہوئی جہاں انہیں مخصوص پالیسیاں نافذ کرنا تھیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ سروے میں پایا گیا ہے کہ سب سے زیادہ مایوسی اوباما کی جانب سے ماحولیاتی تبدیلی اور اسرائیل اور فلسطین کے تنازع سے نمٹنے میں ناکامی کی وجہ سے ہوئی ہے۔
یورپ کے پانچ ممالک جن میں سنہ 2009 اور 2012 میں بھی اوباما کی عالمی پالیسی سے متعلق کیے گئے سروے کے نتائج کے مطابق تین سالوں میں ان کی مقبولیت میں اٹھہتر فیصد سے کم ہو کر تریسٹھ فی صد ہوگئی ہے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ باراک اوباما امریکہ کے سابق صدر جارج بش سے زیادہ مقبول ہیں۔
حالانکہ ان کی مقبولیت اس وقت پاکستان میں ایک جیسی ہے جبکہ صدر اوباما لبنان میں ان سے زیادہ مقبول ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جن ممالک میں سروے کیا گیا ہے ان میں سے بیشتر نے امریکی کی جانب سے کیے جانے والے ڈرون حملوں کی مخالفت کی ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق سروے میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کے باسٹھ فیصد عوام ڈرون حملوں کی حمایت کرتی ہے۔
واضح رہے کہ وائٹ ہاؤس نے اس رپورٹ پر ردعمل دینے سے انکار کر دیا ہے۔
ڈرون حملوں کی حمایت کرنے والے ممالک کی فہرست میں بھارت بھی شامل ہے جہاں سروے کے مطابق بتیس فی صد لوگ ڈرون حملوں کی حمایت کرتے ہیں جبکہ اکیس فی صد افراد اس کی مخالفت کرتے ہیں۔





















