دُلمہ: سلطنت عثمانیہ کے باورچی خانوں میں جنم لینے والا پکوان جو سرحدوں اور عقیدوں کی قید سے نکل کر دنیا بھر میں پھیل گیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, سومیا گایتری
- عہدہ, بی بی سی ٹریول
- مطالعے کا وقت: 10 منٹ
یہ محنت سے تیار ہونے والا پکوان سلطنتوں، سرحدوں اور عقائد کی دیواریں پار کر کے دنیا بھر میں سخاوت اور مہمان نوازی کی مشترکہ علامت بن چکا ہے۔
جب فاطمہ علیان سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں اپنے گھر پر روایتی سعودی دعوت پر مہمانوں کی میزبانی کرتی ہیں تو ان کے دسترخوان پر اکثر ورق عنب (انگور کے پتوں میں بھرا ہوا پکوان) ضرور شامل ہوتا ہے، جسے دلمہ بھی کہا جاتا ہے۔
یہ پتے نہایت نفاست سے لپیٹے جاتے ہیں، اوپر ہلکا سا لیموں کا رس ڈالا جاتا ہے اور اندر چاول، گوشت اور سبزیوں کا مصالحہ دار آمیزہ بھرا ہوتا ہے، پھر انھیں بڑے تھال میں ترتیب سے رکھا جاتا ہے۔
فاطمہ کہتی ہیں کہ ’مجھے گھر پر دلمہ بنانا بہت پسند ہے۔ ہم یہ پکوان برسوں سے اپنے خاندان میں بنا رہے ہیں۔ میں کسی بھی دعوت کے دسترخوان کا تصور اس کے بغیر نہیں کر سکتی۔‘
ان کے لیے دلمہ صرف کھانا نہیں بلکہ محبت، یکجہتی اور مہمان نوازی کا ایک استعارہ ہے۔
میں خود مشرقِ وسطیٰ میں پانچ سال سے زیادہ عرصہ گزار چکا ہوں اور کھٹے انگور کے پتوں والا دلمہ، جو اکثر تقریبات کے لیے مخصوص ہوتا ہے، میری پسندیدہ ڈشز میں شامل ہو گیا ہے۔
مجھے یہ خاص طور پر رمضان کے مقدس مہینے میں پسند ہے، جب شہر کا کھانے پینے کا منظر غروبِ آفتاب کے بعد قابل دید ہوتا ہے۔ اگرچہ میں خود روزہ نہیں رکھتا لیکن مجھے ایک ریستوران سے دوسرے ریستوران اور دوستوں کے گھروں میں جانا اور ہر رات افطار پر دلمہ کے ذرا مختلف ذائقے چکھنا بہت اچھا لگتا ہے ۔۔۔ کبھی زیادہ مصالحے دار، کبھی ہلکا سا کھٹا اور کبھی بالکل سبزیوں پر مشتمل اس کھانے کی اپنی ہی لذت ہے۔
تاہم ریاض کے دسترخوانوں پر یہ چھوٹے چھوٹے فرق ایک بڑے قصے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ایک ایسے پکوان کی کہانی جو براعظموں اور ثقافتوں کو عبور کر کے دنیا بھر میں سخاوت کا نشان بن گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دلمہ: محبت اور سخاوت کی لازوال داستان

،تصویر کا ذریعہFatima Oliyan
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
دلمہ، جس کا نام ترک لفظ ’دولمک‘ سے ماخوذ ہے، جس کے معنی ہیں ’بھرنا‘ یا ’ٹھونسنا‘۔۔ یعنی ایک پی پلیٹر میں بہت سارے کھانے شامل کیے جاتے ہیں۔
ان میں چاول، گوشت، سبزیاں اور مصالحے یا تو پہلے سے ابالے گئے پتوں میں لپیٹے جاتے ہیں یا پھلوں اور سبزیوں کو اندر سے خالی کر کے ان میں بھرا جاتا ہے اور پھر انھیں بیک کیا جاتا ہے، پکایا جاتا ہے یا ویسے ہی پیش کیا جاتا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ اس روایت کی ابتدا پندرہویں صدی میں سلطنتِ عثمانیہ کے باورچی خانوں میں ہوئی۔
پریسیلا میری ایشِن، جو خلافت عثمانیہ کے کھانوں کی تاریخ پر ایک کتاب کی مصنفہ بھی ہیں، کا کہنا ہے کہ ’عثمانی واقعی ’بھرائی‘ کے شوق میں مبتلا ہو گئے تھے۔ سبزیوں اور جانوروں کو بھرنا کوئی نئی بات نہیں تھی، لوگ یہ صدیوں سے کرتے آئے تھے۔ لیکن پندرہویں سے انیسویں صدی تک بکری کے گوشت، جنگلی پرندوں اور مچھلی سے لے کر پیاز، سیب اور انگور کے پتوں تک سب کچھ بھرا جانے لگا۔ اس نے دلمہ پکوانوں کی ایک غیر معمولی اقسام کو جنم دیا۔
پریسیلا میری ایشِن کہتی ہیں کہ ’مذہبی روایت نے اس شوق کو جنم دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ سلطنتِ عثمانیہ میں بازنطین مسیحیوں کی بڑی آبادی تھی، جو سال کے تقریباً 180 دن روزہ رکھتے اور ایسے غذائی اصولوں پر عمل کرتے تھے جن میں جانوروں کی مصنوعات کھانے کی ممانعت تھی۔ اسی دور میں پتوں اور سبزیوں کو بھرنے کا رواج بڑھتا گیا۔‘
ان کے مطابق باورچی گوشت استعمال کیے بغیر پیٹ بھرنے والے کھانے بنانے کے نئے طریقوں کی تلاش میں تھے۔
جدت طرازی کی ایک بڑی وجہ شاہی دربار بھی تھا۔ مطبحِ عامرہ یعنی محل کے باورچی خانے میں ایک نہایت مسابقتی ماحول تھا، جہاں باورچی سلطان اور اس کی کونسل کو متاثر کرنے کے لیے ذائقوں اور طریقوں میں مسلسل تجربے کرتے رہتے۔
وہ مزید کہتی ہیں کہ سلطنتِ عثمانیہ کی وسعت نے اس تخلیقی عمل کو مزید تیز کر دیا۔ ’الجزائر سے مغرب میں اور ویانا سے شمال سے لے کر مشرق میں خلیج فارس اور جنوب میں یمن تک پھیلی ہوئی یہ سلطنت مختلف جغرافیوں اور زرعی روایات کو آپس میں جوڑتی تھی۔‘
پریسیلا کے مطابق ’ان خطوں کی سبزیاں استنبول کے باورچی خانوں میں پہنچتی تھیں، جہاں انھیں اندر سے خالی کر کے بھرا جاتا اور نئے ذائقوں کے ساتھ دوبارہ تخلیق کیا جاتا۔‘
جدت کی رفتار اتنی شدید تھی کہ بعد میں ماہرِ خوراک چارلس پیری نے اسے سلطنت بھر میں ’دلمہ کی ترکیبوں کا تخلیقی دھماکہ‘ قرار دیا۔
ان کے مطابق سترہویں صدی تک دلمہ نہ صرف ایک محبوب پکوان بن چکا تھا بلکہ اعلیٰ حیثیت کی علامت بھی۔
’امیر افراد اور اعلیٰ عہدے داروں نے خصوصی ’دلمہ‘ باورچی رکھنا شروع کر دیا تھا اور اسی دور میں استنبول میں دلمہ کے لیے مخصوص ریستوران بھی کھلنے لگے۔‘
اس کا تعلق جشن اور تقریبات سے آہستہ آہستہ جڑتا گیا۔ چاول، جو ’دلمہ‘ کی بھرائی کا ایک بنیادی جزو ہے، عثمانی کھانوں میں ایک عیاشی سمجھا جاتا تھا اور اکثر اشرافیہ کے لیے مخصوص ہوتا تھا۔
وقت کے ساتھ ساتھ چاول پر مبنی پکوان، جیسے پلاؤ اور دلمہ، خاص مواقع سے جڑ گئے، جیسے عید اور رمضان اور یوں پھر یہ فراوانی اور جشن کی علامت بن گئے۔
دلمہ سلطنتِ عثمانیہ کی پکوانوں کا حصہ کیسے بنا؟
صدیوں تک عثمانی سلطنت کے زیرِ اثر رہنے کے دوران، دلمہ سلطنت کے مختلف خطوں میں پھیل گیا اور بحیرۂ روم، قفقاز، بلقان اور مشرقِ وسطیٰ میں نئے گھروں میں جگہ بناتا گیا۔ جب مختلف برادریوں نے اسے اپنے ذائقوں اور مقامی اجزاء کے مطابق ڈھال، تو اس کے نئے نام اور نئے تعارف سامنے آئے۔
انگور کے پتوں میں لپٹا ہوا دلمہ عربی بولنے والے علاقوں میں ورق عنب کہلایا، کرد برادریوں میں یپرخ، آذربائیجان میں یارپاق دولماسی اور یونان میں دولمادیس۔ شام میں اس کا تعارف ’بھری ہوئی سبزیاں‘ اور مصر میں محشی کے نام سے مشہور ہوئیں۔
سرد علاقوں میں انگور کے پتوں کی جگہ بند گوبھی نے لے لی، جس سے پولینڈ میں گولابکی اور بلغاریہ میں سارمی جیسے پکوان وجود میں آئے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دلمہ کا سب سے غیر متوقع سفر اسے شمال میں سویڈن تک لے گیا۔ سنہ 1709 میں روس کے ہاتھوں پولتاوا کی جنگ ہارنے کے بعد سویڈن کے بادشاہ چارلس دوازدہم نے پانچ برس عثمانی سرزمین پر جلاوطنی میں گزارے۔ جب وہ واپس وطن لوٹے تو بھرے ہوئے پکوانوں کا ذائقہ بھی ساتھ لے آئے اور اپنے ساتھ ایسے باورچی بھی لائے جنھوں نے بند گوبھی کے پتوں میں بھرائی کر کے مقامی ذائقوں کے مطابق ڈھالا اور یوں سویڈش کولدلمار وجود میں آیا۔
شیف، ریستوران کے مالک اور کھانے پکانے کی تراکیب پر ایک کتاب کے مصنف سٹیفن ایکنگرین کہتے ہیں کہ ’ہم اپنے کولدلمار کو ترک دلمہ سے زیادہ میٹھا پسند کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں یہ اکثر لیوس سیرپ۔۔ روایتی سویڈش شربت جو بیکنگ اور ذائقہ بڑھانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔۔ کے ساتھ تیار کیا جاتا ہے اور لِنگون بیریز کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔‘
مشرق کی طرف دلمہ نے انڈیا میں جگہ بنا لی۔
سولہویں صدی میں آرمینیائی تاجر جب کولکتہ میں آباد ہوئے تو انھوں نے سبزیوں کو بھرنے کا تصور مقامی باورچی خانوں تک پہنچایا۔ بنگالی باورچیوں نے اس روایت کو مزید آگے بڑھایا اور پوتالا، ایک نوکیلی کدو نما سبزی جو اس خطے کی خاص پیداوار ہے، کو مچھلی، جھینگے، آلو، پسی ہوئی خشخاش، کشمش اور پنیر سے بھر کر خوشبودار کری میں پکایا۔ اس کا نتیجہ پوٹولر دلمہ کی صورت میں نکلا، جو مغربی بنگال کا بہت مقبول پکوان ہے۔
عید و تہوار کے مواقع پر پیش کیا جانے والا کھانا
جہاں کہیں بھی دلمہ پہنچا، وہاں اس نے مقامی موسم، فصلوں اور ثقافت کے مطابق خود کو ڈھال لیا۔ تاہم ایک چیز ہمیشہ مشترکہ رہی۔ یہ ایک جشن کا پکوان رہا، جو تقریبات اور خاندانی میل جول کے لیے مخصوص تھا اور محبت و یکجہتی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ اسے عید اور دیگر تقریبات میں دسترخوان کا حصہ بنایا جاتا ہے۔
سٹیفن ایکنگرین کہتے ہیں کہ آج بھی رمضان کے دوران ترکی اور مشرقِ وسطیٰ میں افطار کے دسترخوان پر ورق عنب ایک مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ کردستان میں یپرخ نوروز کی تقریبات کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔
سویڈن میں لوگ اس بھرپور ڈش کو رشتہ داروں کے ساتھ لنچ میں بہت پسند کرتے ہیں۔
بلغاریہ میں سارمی کرسمس ایو اور نئے سال کے موقع پر تیار کیا جاتا ہے، جبکہ انڈیا میں پوٹولر دلمہ اکثر درگا پوجا، ہندو تہوار، کے دوران تو یہ سب خاندان والوں کی پسند بن جاتا ہے۔
کولکتہ کے رہائشی اور ٹریول بلاگ شوز سٹرنگ ٹریول کے بانی تنایش تلوکدار کہتے ہیں کہ ’میں کسی بھی دعوت کا تصور نہیں کر سکتا جہاں پوٹولر دلمہ چاول کے ساتھ پیش نہ کیا جائے۔‘
یہ جملہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح یہ عثمانی روایت سے متاثر پکوان بنگالی ثقافت میں گہرائی سے رچ بس گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تنایش تلوکدار کہتے ہیں کہ دلمہ اپنی خاص حیثیت اس لیے بھی برقرار رکھتا ہے کہ اسے بنانے میں محنت درکار ہوتی ہے۔
ان کے مطابق اس میں ’بھرائی تیار کرنا، سبزیوں کو احتیاط سے اندر سے خالی کرنا اور انھیں بھرنا صبر آزما مرحلہ ہے۔ اسی لیے ہم اسے جشن اور تقریبات کے لیے مخصوص رکھتے ہیں۔‘
پریسیلا ایشِن کہتی ہیں کہ یہی محنت طلب پہلو اس بات کی وجہ بھی تھا کہ سترہویں سے انیسویں صدی کے دوران عثمانی محل کے مہمانوں کے دسترخوان پر دلمہ نمایاں طور پر شامل ہوتا تھا۔
رمضان کے دوران علیان شاذ و نادر ہی دلمہ اکیلے تیار کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’ہم عام طور پر سسرال والوں کے ساتھ میز پر جمع ہوتے ہیں۔ کچھ پتے تیار کرتے ہیں، کچھ بھرائی بناتے ہیں اور باقی لپیٹتے ہیں۔ یہ سب مل کر کرنا خوشگوار ہوتا ہے اور ہمیں بات چیت اور حال احوال معلوم کرنے کا موقع دیتا ہے۔‘
دلمہ کو اجتماعی طور پر تیار کرنے کی یہ روایت، جسے آذربائیجان میں یونیسکو نے غیر مادی ثقافتی ورثہ کے طور پر تسلیم کیا ہے، اجتماعی ثقافت میں گہری جڑیں رکھتی ہے اور اکثر جشن کے مواقع پر خاندان کے بزرگ نسل در نسل آگے منتقل کرتے ہیں۔
تنایش تلوکدار کہتے ہیں کہ ’بہت سے لوگوں کے لیے دلمہ تاریخ کی حسین یادیں رکھتا ہے۔‘
’مجھے مچھلی اور کشمش سے بھرا ہوا پوٹولر دلمہ بہت پسند ہے، یہی وہ ڈش ہے جو میری دادی بنایا کرتی تھیں۔ جب بھی میں ان کے پاس جاتا، اضافی کھانا مانگتا اور صرف یہی چاول کے ساتھ کھاتا، چاہے دسترخوان پر اور بھی پکوان موجود ہوتے۔‘
ان کی دادی کئی برس پہلے فوت ہو گئیں، لیکن وہ آج بھی ان کا بنایا ہوا دلمہ یاد کرتے ہیں۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’میں ہمیشہ اسی ذائقے کی تلاش میں رہتا ہوں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پریسیلر ایشِن کو یہ پکوان اپنی ساس اور چچا سسر کی یادیں تازہ کرتا ہے، جنھوں نے استنبول منتقل ہونے کے بعد انھیں دلمہ بنانے کی مہارت سکھائی۔
اسابیل فریڈبورگ، جو ’سویڈش سپون‘ میں فوڈ رائٹر ہیں، کو یہ ڈش دادا کی یاد دلاتی ہے، جو ایک بار سکول کے ساتھی کے ساتھ کولدلمار کھانے کے مقابلے میں شریک ہوئے تھے۔ وہ مسکراتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’دونوں نے ہار ماننے سے پہلے 12 کولدلمار کھا لیے تھے۔ اس وقت تک دونوں کو اتنی متلی آئی کہ وہ اسے مزید جاری نہ رکھ سکے۔‘
صدیوں تک سرحدیں عبور کرنے اور نئے خطوں میں ڈھلنے کے بعد بھی دلمہ وہی کرتا رہا جو وہ ہمیشہ بہترین طریقے سے کرتا آیا ہے یعنی لوگوں کو اکٹھا کرنا اور تعلق کا احساس پیدا کرنا۔
چاہے رمضان کے دوران افطار پر پیش کیا جائے، کرسمس کی دعوت کے لیے تیار کیا جائے یا خاندانی میل جول کے مواقع پر پکایا جائے، دلمہ کی پلیٹ کا پیغام آپ کے لیے ہمیشہ سادہ اور یکساں رہا ہے، خوش آمدید اور محبت۔













