’دی ہنڈرڈ‘ میں ابرار احمد کو شامل کرنے پر گواسکر کی تنقید: ’پاکستانی کھلاڑیوں کو ملنے والے معاوضے کا انڈین فوجیوں کی ہلاکت میں بالواسطہ کردار ہے‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانوی ٹی 20 لیگ ’دی ہنڈرڈ‘ میں نیلامی کے لیے شامل ہونے والے پاکستانی کھلاڑیوں کا معاملہ تو نیلامی کے دن سے کہیں پہلے موضوع بحث تھا تاہم اب فرنچائز سن رائزرز لیڈز کی جانب سے پاکستانی سپنر ابرار احمد کو ٹیم کا حصہ بنائے جانے کے بعد اس میں ایک نیا موڑ آ گیا ہے۔
27 سالہ ابرار احمد کی خدمات انڈین پریمیئر لیگ سے منسلک سن رائزرز حیدرآباد ٹیم کے مالکان کی ٹیم سن رائزرز لیڈز نے ایک لاکھ نوے ہزار برطانوی پاؤنڈز میں حاصل کی ہیں۔ یہ رقم پاکستانی روپوں میں چھ کروڑ 80 لاکھ روپے سے زائد بنتی ہے۔
اس فیصلے پر کئی انڈین صارفین پاکستان اور انڈیا کی کشیدگی کے تناظر میں ابرار احمد کو ٹیم میں شامل کرنے پر فرنچائز کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ لیکن اب اس میں سابق انڈین کپتان سنیل گواسکر بھی شامل ہو چکے ہیں۔
’پاکستانی کھلاڑیوں کو دی گئی فیس کا انڈین فوجیوں اور شہریوں کی ہلاکت میں بالواسطہ کردار ہے‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کے سابق کپتان سنیل گواسکر نے کہا ہے کہ سن رائزرز لیڈز کی جانب سے پاکستانی سپنر ابرار احمد کو ٹیم میں شامل کرنا ’بالواسطہ طور پر انڈین فوجیوں اور شہریوں کی ہلاکتوں میں کردار ادا کرتا ہے۔‘
انڈین اخبار مڈ ڈے کے لیے ایک کالم میں گواسکر نے لکھا ہے کہ ’دی ہنڈریڈ میں ایک فرنچائز کے انڈین مالک کی جانب سے پاکستانی کھلاڑی کے حصول سے پیدا ہونے والا ہنگامہ حیران کن نہیں۔‘
وہ لکھتے ہیں کہ ’نومبر 2008 میں ممبئی حملوں کے بعد سے، انڈین فرنچائز کے مالکان پاکستانی کھلاڑیوں کو آئی پی ایل کے لیے نظر انداز کرتے آئے ہیں۔
’اگرچہ تاخیر سے، لیکن یہ احساس کہ پاکستانی کھلاڑی کو جو فیس ادا کی جاتی ہے وہ اس پر اپنی حکومت کو انکم ٹیکس ادا کرتے ہیں جو اسلحہ اور ہتھیار خریدتی ہے، اور یہ بالواسطہ طور پر انڈین فوجیوں اور شہریوں کی ہلاکتوں میں حصہ ڈالتی ہے جس کی وجہ سے انڈین ادارے پاکستانی فنکاروں اور کھلاڑیوں کو رکھنے پر غور کرنے سے بھی گریز کر رہے ہیں۔‘
بی بی سی سپورٹ نے گواسکر اور سن رائزرز لیڈز سے رابطہ کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
خیال رہے کہ شاہین آفریدی، سلمان آغا، صائم ایوب، عثمان طارق اور حارث رؤف سمیت پاکستان سے تعلق رکھنے والے متعدد کھلاڑیوں نے دی ہنڈرڈ کے لیے خود کو رجسٹر کروایا تھا۔ شاہین آفریدی اور حارث رؤف نے گذشتہ برس ہنڈرڈ لیگ میں حصہ بھی لیا تھا۔
بعدازاں شاہین شاہ آفریدی نیلامی سے ایک دن قبل خود دستبردار ہو گئے تھے جس کے بعد دستیاب پاکستانی کھلاڑیوں کی تعداد 13 رہ گئی تھی۔
ان میں سے صرف دو کھلاڑی ابرار احمد اور عثمان طارق ہی فرنچائز کی توجہ کا مرکز بنے جبکہ حارث روف، شاداب خان اور صائم ایوب جیسے کھلاڑیوں میں کسی بھی فرنچائز نے دلچپسی نہیں دکھائی۔
عثمان طارق کو برمنگھم فینکس نے ایک لاکھ 40 ہزار پاؤنڈز کے عوض اپنی ٹیم میں شامل کیا۔ یہ فرنچائز کسی آئی پی ایل ٹیم سے منسلک نہیں ہے۔
’پاکستانی کھلاڑیوں سے متعلق کوئی ہدایت نہیں ملی‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ابرار احمد کی بیس پرائس 75 ہزار ڈالرز مقرر کی گئی تھی، اُنھیں خریدنے کے لیے سن رائزرز اور راکٹس نے بولی لگائی۔
سن رائزرز کے ہیڈ کوچ ڈینیئل ویٹوری نے بی بی سی سپورٹس کو ابرار احمد کے حوالے سے بتایا کہ وہ بہت منفرد بولر ہیں اور بہت سے مقامی کھلاڑیوں کے لیے اُنھیں کھیلنا اتنا آسان نہیں ہو گا۔
ویٹوری کا کہنا تھا کہ وہ پاکستانی کھلاڑیوں کے بارے میں ہونے والی قیاس آرائیوں سے آگاہ ہیں، لیکن اُنھیں پاکستانی کھلاڑیوں کی بولی لگانے سے گریز کی کوئی ہدایات نہیں ملیں۔
ویٹوری کا مزید کہنا تھا کہ بین الاقوامی ٹیموں کے بہت اچھے سپنرز موجود تھے، لیکن ’ابرار ہماری ترجیح تھی۔‘
سوشل میڈیا پر ردِعمل
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
سوشل میڈیا پر جہاں انڈین صارفین ابرار احمد کے انتخاب پر سن رائز حیدرآباد کی مالک کاویہ مارن کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں تو وہیں پاکستانی صارفین اس پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔
سپورٹس جرنلسٹ وکرانت گپتا نے ایکس پر لکھا کہ برمنگھم فینکس کی جانب سے عثمان طارق کو خریدنے کے بعد ابرار احمد کو سن رائرز لیڈز نے خرید لیا ہے، یہ دی ہنڈرڈ لیگ میں انڈین فرنچائز ہے۔
ایک صارف نے لکھا کہ ایک انڈین ملکیت والی فرنچائز نے پاکستانی کھلاڑی ابرار احمد کو سائن کیا ہے، جنھوں نے ’کھلے عام انڈیا کا مذاق اُڑایا۔‘
کمل شرما نامی انڈین صارف نے لکھا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ سن رائزرز حیدر آباد کو ملک سے زیادہ پیسے اور کھلاڑیوں کی پراہ ہے۔ انڈین عوام کو اس فرنچائز کا بائیکاٹ کرنا چاہیے۔‘
وپن تیواری نامی صارف نے لکھا کہ کولکتہ نائٹ رائیڈرز کو مستفیض الرحمان کو سائن کرنے پر شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا تھا، حالانکہ مستفیض الرحمان سے انڈین فینز کو کوئی شکوہ نہیں تھا۔ ’لیکن ابرار احمد کو سائن کرنا جنھوں نے کئی مواقع پر انڈیا کا مذاق اُڑایا، پر لوگوں کا غصہ جائز ہے۔‘
کیارا نامی صارف نے لکھا کہ ’ہر کوئی کاویہ مارن کو ٹرول کر رہا ہے، لیکن یہ کرکٹ کی جیت ہے، بی سی سی آئی کو دوسرے ممالک کی لیگز میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔‘
شہریار چیمہ نے لکھا کہ ابرار کا انتخاب زبردست ہے۔ ’وہ بہت اچھے بولر ہیں سن رائزرز لیڈز کے پاس اب سکواڈ میں ایک بہت اچھا پراسرار بولر ہے۔‘
عدنان نامی صارف نے لکھا کہ ’بات کھلاڑی کے معیار کی ہے اور ابرار اور عثمان دونوں بہترین ہیں۔‘
فرید خان نامی صارف نے لکھا کہ ’کاویہ مارن جنوبی انڈیا سے اور چنئی سے ہیں۔ جنوبی انڈیا کے لوگ پاکستانیوں سے محبت کرتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کاویہ مارن کون ہیں؟
کاویہ مارن انڈیا کے بڑے کاروباری گروپ ’سن گروپ‘ کے مالک اور چیئرمین کلانیتھی مارن کی صاحبزادی ہیں۔ انڈیا میڈیا کی رپورٹس کے مطابق کاویہ مارن سنہ 1992 میں چنئی میں پیدا ہوئیں۔
سن گروپ کی ویب سائٹ کے مطابق یہ گروپ قدرتی وسائل، الیکٹرونکس، ایسٹ مینجمنٹ اور گرین انفراسٹرکچر جیسے منصوبوں پر کام کرتا ہے۔
گروپ کے انڈیا، افریقہ، مشرق وسطی، جاپان اور چین میں بھی دفاتر ہیں۔
کاویہ مارن انڈین پریمیئر لیگ کی فرنچائز سن رائزز حیدر آباد کی شریک مالک اور چیف ایگزیکٹو آفیسر بھی ہیں اور سنہ 2018 سے فرنچائز کے معاملات دیکھ رہی ہیں۔
دی ہنڈرڈ لیگ کیا ہے؟
دی ہنڈرڈ لیگ کرکٹ کا ایک طرح سے نیا فارمیٹ ہے جسے 2021 میں متعارف کرایا گیا تھا۔ اس کا مقصد کرکٹ کو مزید دلچسپ اور تیز رفتار بنانا بتایا گیا ہے۔
اس لیگ میں آٹھ ٹیمیں شامل ہیں، جن میں ہر سکواڈ 15 کھلاڑیوں پر مشتمل ہے جس میں برطانیہ کے باہر سے چار کھلاڑیوں کو شامل کرنے کی اجازت ہے۔
ہر اننگز 100 گیندوں پر مشتمل ہوتی اور ایک بولر ایک میچ میں زیادہ سے زیادہ 20 گیندیں کروا سکتا ہے۔ اس میں 25 گیندوں کا پاور پلے بھی شامل ہوتا ہے۔












