’جو کھلاڑی کراچی کنگز چھوڑتا ہے ساتھ ہی پرفارم کرنا شروع کر دیتا ہے‘

پاکستان سپر لیگ کے آٹھویں ایڈیشن میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے کراچی کنگز کو چھ رنز سے ہرا دیا ہے۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے 169 رنز کے ہدف کے تعاقب میں کراچی کنگز کی ٹیم مقررہ 20 اوورز میں پانچ وکٹوں کے نقصان پر 162 رنز بنا سکی اور یوں اسے چھ رنز سے شکست ہوئی۔

ایونٹ میں کراچی کنگز کی یہ مسلسل تیسری ناکامی ہے۔

اس سے قبل مارٹن گپٹل کی شاندار سنچری کی بدولت کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے کراچی کنگز کو مقررہ 20 اوورز میں جیت کے لیے 169 رنز کا ہدف دیا تھا۔

ہدف کے تعاقب میں کراچی کنگز کا آغاز کچھ اچھا نہ تھا اور شرجیل خان اور حیدر علی بغیر کوئی رنز بنائے پویلین لوٹ گئے۔

جیمز ونس نے 22 رنز کی اننگز کھیلی لیکن جب وہ نسیم شاہ کی گیند پر بولڈ ہوئے تو میزبان ٹیم 35 رنز پر تین وکٹیں گنوا چکی تھی۔

اس موقع پر شعیب ملک کا ساتھ دینے میتھیو ویڈ آئے اور دونوں نے سکور کو 70 تک پہنچا دیا اور یہ شراکت گلیڈی ایٹرز کے لیے خطرناک ثابت ہوتی جا رہی تھی لیکن اسی مرحلے پر محمد حسنین نے آسٹریلین بلے باز کی 15 رنز کی اننگز کا خاتمہ کرنے کے ساتھ ساتھ اسی اوور میں کنگز کے کپتان عماد وسیم کو بھی چلتا کر دیا۔

75 رنز پر کراچی کی آدھی ٹیم کے آؤٹ ہونے کے بعد شعیب ملک کا ساتھ نبھانے نوجوان عرفان نیازی آئے اور دونوں نے اپنی ٹیم کو ہدف تک پہنچانے کا بیڑا اٹھایا۔

شعیب ملک نے اپنے تجربے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نصف سنچری سکور کی۔

ایک مرحلے پر دونوں کھلاڑیوں کی جارحانہ بیٹنگ کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ کراچی کنگز کی ٹیم ہدف حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی لیکن نسیم شاہ اور حسنین نے بالترتیب 18ویں اور 19ویں اوور میں نپی تلی باؤلنگ کر کے کنگز کی ہدف کے حصول کی کوشش کو شدید نقصان پہنچایا۔

آخری اوور میں کراچی کو فتح کے لیے 24 رنز درکار تھے لیکن وہ 17 رنز ہی بنا سکی اور اس طرح گلیڈی ایٹرز نے میچ میں چھ رنز سے فتح حاصل کر کے ٹورنامنٹ میں پہلی کامیابی بھی اپنے نام کر لی۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹر کی اننگز

پاکستان سپر لیگ کے آٹھویں ایڈیشن کے چھٹے میچ میں کراچی کنگز کے کپتان عماد وسیم نے ٹاس جیت کر کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے مقررہ اوورز میں سات وکٹوں کے نقصان پر 168 رنز بنائے۔

کوئٹہ کی اننگز کا آغاز کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہ تھا اور پہلے ہی اوور میں کپتان عماد وسیم نے جیسن روئے کے ساتھ ساتھ عبدل بنگلزئی کو آؤٹ کر دیا۔

اس کے بعد عمر اکمل بیٹنگ کرنے آئے اور وہ بھی ٹیم کو مشکل وقت میں سہارا دینے میں ناکام رہے اور عماد وسیم کو ایک چوکا لگانے کے بعد اگلی ہی گیند پر بولڈ ہو گئے۔

کپتان سرفراز احمد بھی وکٹ پر زیادہ دیر ٹھہر نہ سکے ۔ جب عامر یامین کی وکٹ گری تو اس وقت کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ٹیم 6.1 اوورز میں 23 رنز پر چار وکٹیں گنوا چکی تھی۔

اس مرحلے پر مارٹن گپٹل کا ساتھ دینے افتخار احمد آئے اور دونوں نے ذمے دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 59 رنز کی شراکت قائم کی لیکن اس سے قبل کہ یہ شراکت خطرناک ثابت ہوتی، کراچی کنگز کے محمد عامر نے افتخار کو آؤٹ کر دیا۔

یہ بھی پڑھیے

دوسرے اینڈ سے مارٹن گپٹل نے اپنی ففٹی مکمل کی اور انھیں اس وقت نئی زندگی ملی جب اینڈریو ٹائی کی گیند پر پوائنٹ پر کھڑے فیلڈر ان کا کیچ چھوڑا۔

جس کے بعد انھوں نے اس موقع کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور جارحانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اگلے 50 رنز صرف 18 گیندوں پر بنائے اور وہ پی ایس ایل کے آٹھویں ایڈیشن کی پہلی سنچری بنانے والے پہلے بلے باز بن گئے۔

گپٹل نے اننگز کے 19ویں اوور میں اینڈریو ٹائی کو ایک اوور میں تین چھکے لگاتے ہوئے 30 رنز بھی بنائے۔

وہ اننگز کی آخری گیند پر عامر یامین کی وکٹ بنے لیکن اس سے قبل ہی وہ 67 گیندوں پر پانچ چھکوں اور 12 چوکوں کی مدد سے 117 رنز بنا چکے تھے۔

کراچی کنگز کی جانب سے عماد وسیم نے بہترین باؤلنگ کرتے ہوئے 16 رنز کے عوض تین وکٹیں لیں جبکہ عامر یامین نے بھی تین وکٹیں اپنے نام کیں۔

واضح رہے کہ کراچی کنگز کو اپنے ابتدائی دونوں میچوں میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے جبکہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو بھی اپنے پہلے میچ میں شکست ہوئی تھی۔

مارٹن گپٹل کی سینچری کے چرچے

کوئٹہ گلیڈی ایٹر کے مارٹن گپٹل نے بلاشبہ آج جارحانہ کھیل پیش کیا ہے اور جہاں کرکٹ شائقین ان کے کھیل سے لطف اندوز ہوئے ہیں وہیں سوشل میڈیا صارفین بھی ان کی تعریفیں کرتے نظر آئے۔

کراچی کنگز کے ایک مداح نے ان کی بیٹنگ کا موازنہ کرتے ہوئے لکھا کہ کراچی کنگز کے لیے مارٹن گپٹل نے چھ اننگز میں 69 رنز بنائے تھے جبکہ کوئٹہ گلیّڈی ایٹر کے لیے پہلی اننگز میں ہی 117 رنز بنا دیے۔

ایک اور صارف نے لکھا کہ مارٹن گپٹل کی یہ پی ایس ایل کی تاریخ کی بہترین اننگز تھی۔

عاطف نامی صارف نے بھی لکھا ’پتا نہیں کیوں جب کوئی کھلاڑی کراچی کنگز چھوڑتا ہے تو ساتھ ہی پرفارم کرنا شروع کر دیتا ہے، میں حیران ہوں کہ عام طور پر ان ہی کے خلاف کیوں؟‘

جبکہ ایک صارف نے گپٹل اور محمد عامر کی میچ کے دوران ایک تصویر لگاتے ہوئے لکھا ’پرفارمنس دکھائیں۔۔۔ غصہ دکھانے سے گھر نہیں چلتے۔‘