کیا امریکی بمباری کے باوجود ایران فٹبال ورلڈ کپ میں شرکت کر سکے گا؟

،تصویر کا ذریعہEPA
- مصنف, ڈین روآن
- عہدہ, سپورٹس ایڈیٹر
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھیں اس بات کی ’کوئی فکر نہیں‘ کہ آیا ایران رواں سال فٹبال ورلڈ کپ میں حصہ لے گا۔
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے کہ جب اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر فضائی بمباری کی ہے اور ایران نے جوابی کارروائیاں کرتے ہوئے امریکہ کے خلیجی اتحادیوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔
قریب 100 دنوں میں امریکہ ایک فٹبال ورلڈ کپ کی مشترکہ میزبانی کرے گا جس کے لیے ایران پہلے ہی کوالیفائی کر چکا ہے۔
سنیچر کے روز امریکہ نے اسرائیل سے مل کر ایران پر حملہ کیا، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں جوابی حملوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ یہ تنازع متعلقہ ممالک، فیفا اور اس ورلڈ کپ کے لیے جو پہلے ہی انتہائی سیاسی نوعیت کا سمجھا جا رہا تھا، کیا معنی رکھتا ہے؟
بی بی سی سپورٹ نے اس صورتحال کا مفصل جائزہ لیا ہے۔
کیا ایران اب بھی ورلڈ کپ میں حصہ لے گا؟
ایران کے گروپ میچز، جو اس کا مسلسل چوتھا ورلڈ کپ ہوگا، نیوزی لینڈ اور بیلجیم کے خلاف لاس اینجلس میں میچجز ہیں، پھر مصر کے خلاف سیئٹل میں میچ ہوگا۔
گذشتہ موسمِ گرما میں جب امریکہ نے ملک میں تین جوہری تنصیبات پر بمباری کی تھی، ایران نے مقابلے سے دستبرداری اختیار نہیں کی تھی۔ لیکن موجودہ جنگ کے بعد ایران کی فٹبال فیڈریشن کے سربراہ نے مبینہ طور پر شرکت پر شکوک کا اظہار کیا ہے۔
مہدی تاج نے ایرانی ٹیلی وژن کو بتایا کہ ’جو کچھ ہوا۔۔۔ اور امریکہ کے اس حملے کے بعد یہ امکان کم ہے کہ ہم ورلڈ کپ کے منتظر رہ سکیں، لیکن اس بارے میں فیصلہ کھیلوں کے حکام کو کرنا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
تاہم ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کے بعد اور ملک کے سیاسی منظرنامے کے مستقبل پر شدید غیر یقینی کی فضا میں، ایسے فیصلے کی پیش گوئی کرنا – یا یہ کہ فیصلہ کون کرے گا ناممکن ہے۔
چیتم ہاؤس کے مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ پروگرام کی ڈائریکٹر ڈاکٹر صنم وکیل نے کہا کہ ’تہران کے لیے یہ کوئی مختصر 12 روزہ جنگ یا محدود کشیدگی کا دور نہیں ہے جسے روکا اور دوبارہ شروع کیا جا سکے‘۔
’یہ تنازع کا نیا مرحلہ ہے جو واضح طور پر نظام کے بقا سے متعلق ہے۔ اس کے جلد ختم ہونے کا امکان بھی نہیں ہے۔‘
فیفا، فٹبال کی عالمی تنظیم، نے کہا ہے کہ وہ حالات پر نظر رکھے ہوئے ہے لیکن اس وقت حکام نجی طور پر کہہ رہے ہیں کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ ایران ورلڈ کپ میں ہوگا۔ سنیچر کو فیفا کے سیکریٹری جنرل میٹیاس گرافستروم نے کہا کہ ’ہمارا فوکس ایک محفوظ ورلڈ کپ پر ہے جس میں سب شریک ہوں۔‘
اس کے قواعد کے مطابق، اگر کوئی ٹیم دستبردار ہو یا باہر کر دی جائے، تو فیفا ’ضروری اقدام‘ اٹھا سکتا ہے، اور ’کسی دوسری ایسوسی ایشن کو شامل کرنے کا فیصلہ کر سکتا ہے۔‘
بی بی سی سپورٹ نے فیفا سے وضاحت مانگی ہے کیونکہ یہ تجویز دی جا رہی ہے کہ ایران کی جگہ ایشین فٹبال کنفیڈریشن (اے ایف سی) کی کوئی دوسری ٹیم لے سکتی ہے۔
اس بنیاد پر، عراق، جو ماہ کے آخر میں براعظمی پلے آف کے ذریعے ویسے بھی کوالیفائی کر سکتا ہے یا متحدہ عرب امارات، جو کوالیفائی کرنے سے محروم رہا متبادل کے طور پر پسندیدہ امیدوار ہوں گے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’ہم ایک انجان خطے میں ہیں‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ سال ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے تھے جس کے تحت 12 ممالک بشمول ایران کے شہریوں کو امریکہ میں داخل ہونے سے روک دیا گیا، اس اقدام کو سکیورٹی خطرات سے نمٹنے کی کوشش قرار دیا گیا۔
اگرچہ ورلڈ کپ کے کھلاڑی اور کوچنگ سٹاف اس پابندی سے مستثنیٰ ہیں مگر ایران نے دسمبر میں واشنگٹن میں ہونے والی قرعہ اندازی کا بائیکاٹ کرنے کی دھمکی دی تھی کیونکہ اس کے بعض حکام کی ویزا درخواستیں مسترد کر دی گئی تھیں۔
لیکن اگر ایران کھیلتا ہے تو اب ٹیم کے میچز اور ایریزونا میں منصوبہ بند تربیتی کیمپ کے ارد گرد سکیورٹی پر مزید کڑی نظر رکھے جانے کا امکان ہے۔
قطر میں 2022 ورلڈ کپ کے دوران، جس میں امریکہ کے خلاف میچ بھی شامل تھا، ایران کے میچز ملک میں بڑے پیمانے پر حکومت مخالف مظاہروں کے پس منظر میں ہوئے تھے۔
ویلز کے خلاف دوسرے میچ کے دوران تو ایسے شائقین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں جن کے ایران کی حکومت کے بارے میں مختلف خیالات تھے اور چونکہ ٹرمپ ایران میں نظام کی تبدیلی کی امید رکھتے ہیں تو اس بات کا امکان ہے کہ اس موسمِ گرما میں بھی ایسا منظرنامہ سامنے آئے۔ لاس اینجلس، جہاں ایران کے دو میچ شیڈول ہیں، دنیا کی سب سے بڑی ایرانی کمیونٹیز میں سے ایک کا گھر ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم فیئر سکوائر کے نک مک گیہن نے کہا کہ ’ہم ایک انجان مرحلے میں ہیں کیونکہ ورلڈ کپ کے آغاز میں صرف تین ماہ باقی ہیں اور میزبان ملک نے ابھی ایک شریک ملک کے خلاف جارحانہ جنگ شروع کی ہے۔‘
’اگر ایران اپنی ٹیم واپس لے لیتا ہے، جو بالکل ممکن نظر آتا ہے تو فیفا شاید احتجاج اور بدامنی کے امکانات کے پیش نظر سکون کا سانس لے گا۔‘
لیکن اگر ایران غیر حاضر بھی ہو، کشیدگی بڑھ سکتی ہے، خاص طور پر اس لیے کہ یہ ایونٹ امریکی اعلانِ آزادی کی 250ویں سالگرہ کے جشن کا حصہ ہوگا اور ٹرمپ کی نمایاں موجودگی متوقع ہے جیسا کہ وہ گذشتہ سال کلب ورلڈ کپ اور رائیڈر کپ میں تھے۔
یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب امریکی حکام کو خبردار کیا گیا تھا کہ اگر 11 امریکی شہروں کو، جو میچز کی میزبانی کریں گے، فنڈنگ نہ ملی جو جزوی حکومتی شٹ ڈاؤن کے باعث منجمد ہے، تو ’تباہ کن‘ سکیورٹی نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
ٹورنامنٹ میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی آئی) ایجنسی کے اہلکاروں کے استعمال پر بھی بڑھتی ہوئی تشویش ہے، اور پڑوسی و شریک میزبان میکسیکو میں کارٹیل تشدد کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ امریکہ اور شریک میزبان کینیڈا کے تعلقات بھی ٹرمپ کی جانب سے تجارتی محصولات عائد کرنے سے آزمائش میں ہیں۔
ہفتے کے آخر میں وائٹ ہاؤس کے ورلڈ کپ ٹاسک فورس کے سربراہ اینڈریو جیولیانی نے ایران پر ٹرمپ کے حملوں کی تعریف کی اور سوشل میڈیا پر لکھا کہ یہ ’دنیا کو محفوظ جگہ بنا دے گا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم کل فٹبال میچز سے نمٹیں گے۔ آج رات ہم (ایرانی عوام) کے آزادی کے موقع کا جشن مناتے ہیں۔‘
تاہم مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع فیفا کے صدر جیانی انفانتینو پر بھی مزید دباؤ ڈال سکتا ہے، خاص طور پر ٹرمپ کے ساتھ ان کے قریبی تعلقات کے باعث۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فیفا کا ’امن ایوارڈ‘ مگر ٹرمپ تو ایران جنگ چھیڑ چکے ہیں
دسمبر میں فیفا نے یہ کہتے ہوئے 2026 ورلڈ کپ کی قرعہ اندازی کی تقریب میں ٹرمپ کو اپنا افتتاحی ’امن انعام‘ دیا کہ انھوں نے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان جنگ بندی قائم کرنے میں ’اہم کردار ادا کیا‘ اور دیگر تنازعات ختم کرنے کی کوشش کی۔
چند ہفتوں کے اندر ہی امریکہ نے وینیزویلا، نائیجیریا اور ایران میں فوجی کارروائیاں کیں اور گرین لینڈ، شریک میزبان میکسیکو، اور کولمبیا، جو ٹورنامنٹ میں شریک ہے، میں مزید آپریشنز کے اشارے دیے۔ جنوری میں ٹرمپ نے کیوبا کو بھی کہا کہ ’معاہدہ کرو‘ ورنہ نتائج بھگتو۔
ٹرمپ نے اپنی خارجہ پالیسی کا بھرپور دفاع کیا ہے اور اصرار کیا ہے کہ وہ امریکہ کے مفاد میں کام کر رہے ہیں۔
گذشتہ ماہ انفانتینو نے ’امن انعام‘ دینے کے فیصلے کا دفاع کیا، حتیٰ کہ وہ امریکی صدر کے ’بورڈ آف پیس‘ کے پہلے اجلاس میں ٹرمپ تھیم والی ’یو ایس اے‘ والی کیپ پہنے ہوئے نظر آئے جس پر ’45-47‘ درج تھا، جو ان کی صدارت کی مدتوں کی طرف اشارہ تھا۔
ایران پر حملے کے فیصلے کو حمایت اور مذمت دونوں ملی ہیں، لیکن یقینی بات یہ ہے کہ اس سے فیفا کے فیصلے پر مزید نظر رکھی جائے گی کہ اس نے ٹرمپ کے ساتھ خود کو کیوں جوڑا۔ ناقدین کے مطابق اس سے ادارے کے سیاسی ہونے کا خطرہ ہے۔
گذشتہ ماہ لیبر، لبرل ڈیموکریٹس، گرین پارٹی اور پلائیڈ کمرو کے 27 سیاستدانوں نے پارلیمنٹ میں ایک قرارداد پر دستخط کیے جس میں بین الاقوامی کھیلوں کے اداروں سے کہا گیا کہ امریکہ کو بڑے عالمی مقابلوں بشمول ورلڈ کپ، سے نکالنے پر غور کریں۔
قرارداد میں کہا گیا کہ ایسے ایونٹس ’طاقتور ریاستوں کی جانب سے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں کو جائز یا معمول بنانے کے لیے استعمال نہیں ہونے چاہئیں۔‘ اسی ماہ جرمن فٹبال ایسوسی ایشن کے ایک اہلکار نے کہا کہ ٹرمپ کے اقدامات کے بعد 2026 ورلڈ کپ کے بائیکاٹ پر غور کرنے کا وقت آ گیا ہے۔
ایسی مطالبات دوبارہ سامنے آ سکتے ہیں اور خلیجی ریاستیں بھی ایران کو ان کے جوابی حملوں پر سزا دینے کا مطالبہ کر سکتی ہیں۔
فیفا کا اصرار ہے کہ بطور منتظم اس پر غیر جانبدار رہنے کی قانونی ذمہ داری ہے۔
گذشتہ سال انفانتینو نے کہا تھا کہ فیفا ’جغرافیائی سیاسی مسائل حل نہیں کر سکتا‘ جب اسرائیل پر پابندی لگانے کے دباؤ کے دوران اقوامِ متحدہ کی تحقیقاتی کمیشن نے نتیجہ اخذ کیا تھا کہ ملک نے غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کی ہے۔
اسرائیل کی وزارتِ خارجہ نے اس رپورٹ کو مکمل طور پر مسترد کر دیا اور اسے ’گمراہ کن اور جھوٹی‘ قرار دیا۔
کچھ ناقدین کا خیال ہے کہ فیفا کے قوانین کو مضبوط کیا جانا چاہیے تاکہ وہ سنگین جغرافیائی سیاسی واقعات پر مناسب ردعمل دے سکے، اور یہ پہلی بار نہیں ہے کہ ورلڈ کپ کے میزبان ملک کے اقدامات پر دباؤ آیا ہو۔
سنہ 2018 میں ٹورنامنٹ روس میں ہوا حالانکہ ملک نے چار سال پہلے کریمیا کو اپنے ساتھ ملا لیا تھا۔ روس پر سائبر حملوں، مغربی انتخابات میں مداخلت اور سالسبری میں نوویچوک اعصاب شکن حملے کا الزام بھی تھا۔
بالآخر روس کو 2022 میں یوکرین پر حملے کے بعد فیفا نے پابندی لگا دی، جب کئی یورپی ممالک نے اس کے خلاف کھیلنے سے انکار کر دیا۔
تاہم انفانتینو نے حال ہی میں کہا کہ یہ سزا کارگر نہیں رہی اور وہ اسے ختم کرنے پر غور کرنا چاہتے ہیں، ساتھ ہی فیفا کے قوانین میں تبدیلی تاکہ بائیکاٹ روکے جا سکیں۔ لیکن امریکہ کو سزا دینے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا، چاہے اس کی خارجہ پالیسی کتنی ہی متنازع کیوں نہ ہو۔
اب یہ واضح ہے کہ گذشتہ 48 گھنٹوں میں ورلڈ کپ کے لیے پہلے سے پیچیدہ سیاسی منظرنامہ مزید مشکل ہو گیا ہے۔













