مجتبیٰ خامنہ ای: ایران کی بقا کی جنگ اور نئے رہبر اعلیٰ کا پہلا امتحان

    • مصنف, لیز ڈوسیٹ
    • عہدہ, بی بی سی کی نامہ نگار برائے عالمی امور
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

تسلسل اور روابط نے 56 برس کے مجتبیٰ خامنہ ای کو اس وقت قیادت کے منصب تک پہنچایا جب ان کے والد آیت اللہ علی خامنہ ای اس جنگ کے آغاز میں ہی قتل کر دیے گئے۔

سنہ 1979 کے انقلاب کے بعد اب ایران کا تیسرا رہبر اس منصب پر فائز ہو رہا ہے جب ایران کو اپنی بقا کی جنگ کا سامنا ہے۔

ایران میں لوگ بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے اور ’اللہ اکبر‘ کے نعرے لگا کر مجلس خبرگان رہبری کے فیصلے کا جشن منایا، جس نے انھیں رہبر منتخب کیا۔

تمام سکیورٹی فورسز نے عہد کیا کہ وہ اپنے ’خون کے آخری قطرے تک‘ نئے سپہ سالار کے ساتھ ہیں۔

سرکاری ٹی وی نے وہ مناظر دکھائے جن میں ان کے نام پر داغے گئے پہلے میزائل پر یہ تحریر درج تھی: ’حاضر ہیں، سید مجتبیٰ۔‘

تاہم، جنوری میں ان کے والد کو ’آمر‘ قرار دے کر ان کی موت کے نعرے لگانے والے مظاہرین کل رات اپنے گھروں سے یہ نعرہ لگاتے سنے گئے: ’مجتبیٰ مردہ باد!‘

ان لوگوں کے لیے سخت گیر ایرانی حکومت مزید سخت ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ لیکن وہ اب بھی یہ امید رکھتے ہیں کہ خامنہ ای اور اس نظام کے دن گنے جا چکے ہیں۔

ایران کے دوسرے آیت اللہ کا دوسرا اور سب سے نمایاں بیٹا اپنے والد کے انتہائی قدامت پسند سانچے میں ڈھلا ہوا ہے۔

مجتبیٰ خامنہ ای دہائیوں تک اپنے والد کے سائے میں کام کرتے رہے اور وہ یہ بخوبی جانتے ہیں کہ ریاست کا اندرونی نظام یا ڈھانچہ کس طرح بیرونی خطرات اور اندرونی ہلچل کا مقابلہ کرتا ہے۔

پاسداران انقلاب بھی ان کے لیے نئی نہیں جس میں وہ ہائی سکول کے فوراً بعد شامل ہوئے اور پھر قم گئے، جو شیعہ اسلامی تعلیم کا سب سے بڑا مرکز مانا جاتا ہے۔

پاسداران انقلاب 1979 میں انقلاب کے تحفظ کے لیے قائم کی گئی فورس تھی اب ایک کثیر سطحی سکیورٹی نظام اور وسیع معاشی سلطنت کی حامل ہے۔ اس کے کمانڈر اب اہم ترین فیصلے کر رہے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ کم عمر خامنہ ای انھی کے امیدوار تھے۔ یہ جنگ اب محض سیاسی لڑائی نہیں رہی بلکہ یہ نہایت شخصی ہو چکی ہے۔

یہ انتقام کا معاملہ بھی ہے۔

مجتبیٰ خامنہ ای نے اسرائیلی حملے میں نہ صرف اپنے والد کو کھویا بلکہ ان کی والدہ منصوره خجستہ باقرزاده، اہلیہ زہرہ حداد عادل اور ایک بیٹا بھی مارے گئے۔

اطلاعات کے مطابق وہ زخمی بھی ہوئے تھے لیکن اس کے بعد نہ کوئی تفصیل سامنے آئی اور نہ ہی ان کی کوئی جھلک دکھائی دی۔

یہ معاملہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے بھی نہایت ذاتی نوعیت کا بن چکا ہے، جو بار بار واضح کرتے ہیں کہ وہ اپنے احکامات پر اعتراض کرنے والوں کو پسند نہیں کرتے۔

جانشینی کے حوالے سے قیاس آرائیاں جاری تھیں کہ ٹرمپ نے ایک سے زیادہ مرتبہ کہا کہ علی خامنہ ای کا سخت گیر بیٹا ’ناقابل قبول‘ ہے۔

اب وہ خبردار کر رہے ہیں کہ مجتبیٰ خامنہ ای ’زیادہ دیر نہیں چلیں گے‘۔ وہ اسرائیل کے نشانے پر بھی ہیں، جہاں وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے انھیں ’ایک غیر مبہم ہدف‘ قرار دیا۔

یوں ممکن ہے کہ خامنہ ای کچھ عرصہ مزید پردے میں رہیں۔ یوں گوشہ نشین رہبر اعلیٰ ایک راز ہی بنیں رہیں گے۔

ان کی کوئی عوامی تقریر ریکارڈ پر موجود نہیں، وہ شاذ و نادر ہی عوام میں دکھائی دیے ہیں، اور انھوں نے کبھی کوئی باضابطہ حکومتی عہدہ نہیں سنبھالا۔ ان کی تصویر کبھی ان کے والد کی عام جگہوں پر آویزاں تصاویر کے ساتھ نظر نہیں آئی۔

ان کےوالد آیت اللہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھوں نے انھیں جانشینی کی فہرست سے نکال دیا تھا تاکہ 1979 کے انقلاب میں ختم کی گئی بادشاہت کے موروثی نظام سے محفوظ رہا جا سکے۔

زیادہ تر ایرانیوں نے تو کبھی ان کی آواز تک نہیں سنی۔ تاہم، ان کے خیالات کے کچھ آثار ضرور ملے ہیں۔

اب جس اہم لمحے کا ذکر کیا جا رہا ہے وہ سنہ 2005 میں قدامت پسند صدارتی امیدوار محمود احمدی نژاد کی انتخابی کامیابی ہے۔ ان کے اصلاح پسند حریفوں نے اس وقت الزام لگایا کہ کم عمر خامنہ ای نے پسِ پردہ سازش کر کے ان کی فتح کو یقینی بنایا۔

سنہ 2009 میں احمدی نژاد کی متنازع دوبارہ کامیابی نے ایک بے مثال احتجاجی لہر کو جنم دیا، جو آج ’سبز انقلاب‘ کے نام سے یاد کی جاتی ہے۔ نمایاں اصلاح پسند سیاستدانوں کو نظر بند کر دیا گیا اور وہ آج تک سزا بھگت رہے ہیں۔

ایران کے نئے رہبر کے دیگر امیدواروں میں ایک شخصیت حسن خمینی بھی تھے، جو پہلے رہبر آیت اللہ روح اللہ خمینی کے پوتے ہیں اور ان کا شمار اصلاح پسندوں میں کیا جاتا ہے۔

خامنه ای کی ترقی اس بات کا اشارہ ہے کہ اصلاح پسند، جو ایران کے پیچیدہ سیاسی منظرنامے میں نسبتاً معتدل سمجھے جاتے ہیں اور جن میں موجودہ صدر مسعود پزشکیان بھی شامل ہیں، مزید پیچھے دھکیل دیے گئے ہیں۔

سیاسی طور پر خامنہ ای دو اہم شخصیات کے قریب ہیں، جو پاسداران انقلاب سے بھی جڑی ہیں اور اب کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں اور وہ تجربہ کار سیاستدان علی لاریجانی، جو فیصلہ کن سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ ہیں اور محمد باقر قالیباف، سابق فوجی افسر اور موجودہ سپیکرِ پارلیمنٹ ہیں۔

آیت اللہ خامنہ ای کے دوستوں اور ساتھیوں کو حالیہ مہینوں کی اہم ترین منصوبہ بندی میں زیادہ ذمہ داریاں دی گئیں، جس میں قطر کی ثالثی کے ذریعے ٹرمپ کے نمائندوں سے مذاکرات اور دشمنوں کی فوجی و انٹیلی جنس طاقت کے ساتھ مکمل تصادم کی تیاری شامل تھی۔

ایک مغربی اہلکار، جس نے گذشتہ ماہ ایران اور امریکہ کے درمیان ناکام جوہری مذاکرات میں لاریجانی سے ملاقات کی، نے انھیں ایک حقیقت پسند قرار دیا۔

اس لمحے میں جب سخت گیر عناصر، جو اپنے نظام کے دفاع میں خود کو ’اصول پسند‘ کہتے ہیں، مرکزی دھارے میں ہیں، کچھ کے خیال میں یہ رخ مختلف بھی ہو سکتا ہے۔

خامنہ ای کے قریب ایک سیاستدان عبدالرضا داوری نے عوامی بیانات اور نیویارک ٹائمز کو دیے گئے حالیہ انٹرویو میں انھیں ’انتہائی ترقی پسند‘ قرار دیا اور کہا کہ وہ ’سخت گیروں کو حاشیے پر دھکیل دیں گے‘۔

انھوں نے انھیں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ایرانی ورژن کے طور پر پیش کیا، جنھوں نے سلطنت میں سماجی آزادیوں کو نمایاں طور پر بڑھایا جبکہ طاقت پر سخت گرفت برقرار رکھی۔

ایران اب ایک بڑھتی ہوئی جنگ کے شکنجے میں ہے، جو پورے مشرقِ وسطیٰ کو ہلا رہی ہے، ہمسائیوں کے ساتھ تعلقات کو تباہ کر رہی ہے اور دور دور تک معاشی جھٹکے دے رہی ہے۔

مجتبیٰ خامنہ ای کے عروج کو ٹرمپ نے بدترین منظرنامہ قرار دیا۔ امریکہ اور اسرائیل کے خلاف لڑنے والی قوتیں انھیں اپنی بہترین امید سمجھتی ہیں کہ وہ اس جنگ کو انجام تک پہنچا سکیں۔