ٹرمپ کو ’ناقابل قبول‘ مجتبیٰ خامنہ ای: ایران کے نئے رہبرِ اعلیٰ کون ہیں؟
،تصویر کا ذریعہTasnim News Agency
- مصنف, بی بی سی
- عہدہ, فارسی
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
ایران کی مجلسِ خبرگان رہبری نے مجتبیٰ خامنہ ای کو اپنے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد ملک کا نیا رہبرِ اعلیٰ یا سپریم لیڈر منتخب کر لیا ہے۔
ایران کے نو منتخب رہبر اعلیٰ کے نام کے اعلان سے متعلق مجلسِ رہبری کا بیان سرکاری ٹی وی پر اینکر کی جانب سے پڑھ کر سنایا گیا۔
اس بیان میں کہا گیا کہ ’شدید جنگی حالات، اس عوامی ادارے کے خلاف دشمنوں کی براہِ راست دھمکیوں اور اس کے باوجود کہ سیکریٹریٹ کے دفاتر پر بمباری کے نتیجے میں عملے اور سکیورٹی ٹیم کے کئی ارکان شہید ہوئے، اسلامی نظام کی قیادت کے انتخاب اور تعارف کے عمل میں ایک لمحے کی تاخیر بھی نہیں ہوئی۔‘
یاد رہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکی، اسرائیلی حملے میں ہلاک ہونے والے ایران کے رہبر اعلیٰ سید علی خامنہ ای کے جانشین کے طور اُن کے بیٹے، مجتبیٰ خامنہ ای کا انتخاب ’ناقابل قبول‘ ہو گا۔
خبررساں اداروں روئٹرز اور ایکسیوس کو دیے گئے انٹرویوز میں امریکی صدر نے زور دیا تھا کہ ایران کے لیے نئے رہبر اعلیٰ کے انتخاب میں اُن (ٹرمپ) کا بھی کردار ہونا چاہیے، بالکل ویسے ہی جیسا کہ وینزویلا میں نئی قیادت کے انتخاب کے موقع پر ہوا۔
انٹرویو کے دوران ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ مجتبیٰ خامنہ ای اس عہدے کے لیے فرنٹ رنر (یعنی سب سے آگے) ہیں، تاہم انھوں نے واضح کیا کہ وہ اس نتیجے (مجتبیٰ بطور رہبر اعلیٰ) کو ناقابلِ قبول سمجھتے ہیں۔
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے کہا ہے کہ تہران کے ’دشمنوں‘ کو امید تھی کہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد ملک ’تعطل کا شکار ہو جائے گا‘، لیکن مجلسِ خبرگان نے بالآخر مجتبیٰ خامنہ ای کو منتخب کرنے کا عمل مکمل کر لیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اپنے والد کے برعکس، مجتبیٰ زیادہ عوامی نہیں رہے ہیں۔ انھوں نے کبھی کوئی سرکاری عہدہ نہیں سنبھالا۔ نہ ہی انھوں نے عوامی تقاریر یا انٹرویوز دیے اور ان کی صرف محدود تعداد میں تصاویر اور ویڈیوز شائع کی گئی ہیں۔
تاہم، ان کے اثر و رسوخ کے بارے میں طویل عرصے سے افواہیں گردش کرتی رہی ہیں کہ اُن کے والد تک رسائی کے لیے مجتبیٰ سے ہو کر ہی گزرنا پڑتا تھا۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی سفارتی کیبلز میں (جو وکی لیکس نے سنہ 2000 کی دہائی کے آخر میں شائع کیں) انھیں ’عبا کے پیچھے ایسی طاقت‘ کے طور پر بیان کیا، جسے حکومت میں وسیع پیمانے پر ’قابل اور طاقتور رہنما‘ سمجھا جاتا تھا۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
وہ بیٹا جو کئی دہائیوں تک اپنے والد کے سائے میں کام کرتا رہا، اب ان کی جگہ سنبھال چکا ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای کا ایران کی طاقتور پاسدارانِ انقلاب سے بھی قریبی تعلق ہے۔ وہ ہائی سکول کے فوراً بعد اس فورس میں شامل ہو گئے تھے اور بعد میں سینئر علما سے دینی تعلیم حاصل کی۔
ان کے انتخاب کے بعد پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں مجتبیٰ خامنہ ای کے لیے ’احترام، عقیدت اور اطاعت‘ کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آئی جی آر سی ان کے احکامات پر عمل کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
دو سال قبل علی خامنہ ای نے اس خیال کو مسترد کر دیا تھا کہ مجتبیٰ ان کے جانشین بن سکتے ہیں، کیونکہ وہ اس موروثی طرزِ حکمرانی سے گریز کرنا چاہتے تھے جسے ایرانی انقلاب نے ختم کیا تھا۔ تاہم اب ان کے بعد باقی رہ جانے والا مذہبی نظام اپنے وجود کے بحران سے دوچار ہے۔
اس وقت اصل طاقت پاسدارانِ انقلاب کے پاس ہے، جو ریاستی اختیار کے تقریباً تمام اہم ذرائع پر کنٹرول رکھتے ہیں۔
تاہم ان کی تقرری ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک واضح پیغامِ مزاحمت بھی ہے، جنھوں نے انھیں ’ناقابلِ قبول‘ قرار دیا تھا، اور اسرائیل کے لیے بھی، جس نے انھیں قتل کرنے کی دھمکی دی ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای کون ہیں؟
،تصویر کا ذریعہReuters
آٹھ ستمبر 1969 کو شمال مشرقی شہر مشہد میں پیدا ہونے والے مجتبیٰ، علی خامنہ ای کے چھ بچوں میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ انھوں نے اپنی ثانوی تعلیم تہران کے مذہبی علوی سکول سے حاصل کی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق، 17 سال کی عمر میں، مجتبیٰ نے ایران عراق جنگ کے دوران کئی بار مختصر مدت کے لیے فوج میں خدمات انجام دیں۔ اس آٹھ سالہ خونریز تنازع نے ایرانی حکومت کو امریکہ اور مغرب کے بارے میں مزید مشکوک بنا دیا، جو عراق کی حامی تھے۔
سنہ 1999 میں مجتبیٰ قم (جو ایک مقدس شہر ہے اور شیعہ الہیات کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے) گئے تاکہ اپنی مذہبی تعلیم جاری رکھ سکیں۔ یہ قابل ذکر ہے کہ انھوں نے اس وقت تک مذہبی لباس نہیں پہنا تھا، اور یہ واضح نہیں کہ انھوں نے 30 سال کی عمر میں مدرسے میں داخلہ کیوں لیا۔
مجتبیٰ اب بھی درمیانے درجے کے عالم دین ہیں۔
حالیہ دنوں میں، ایران میں طاقت کے مراکز کے قریبی میڈیا اداروں اور حکام نے مجتبیٰ خامنہ ای کو ’آیت اللہ‘ کہہ کر پکارنا شروع کر دیا ہے۔ آیت اللہ ایک سینیئر مذہبی عہدہ ہے۔ کچھ مبصرین کے نزدیک یہ تبدیلی اُن کی مذہبی حیثیت کو بلند کرنے اور انھیں ملک کی اعلیٰ قیادت کے لیے ایک معتبر امیدوار کے طور پر پیش کرنے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔
مدرسہ نظام میں ’آیت اللہ‘ کا رتبہ رکھنا اور اعلیٰ درجے کی تعلیم دینا کسی شخص کی علمی سطح اور علم کی علامت سمجھا جاتا ہے، اور اسے مستقبل کے رہنما کے انتخاب کے لیے ایک شرط بھی سمجھا جاتا ہے۔
لیکن اس کی ایک مثال پہلے ہی موجود ہے۔ علی خامنہ ای جب 1989 میں ایران کے دوسرے رہبر اعلیٰ منتخب ہوئے تھے تو انھیں وقت سے قبل ’آیت اللہ‘ بنایا گیا تھا۔
سیاسی مداخلت کے الزامات
،تصویر کا ذریعہReuters
مجتبیٰ کا نام پہلی بار سنہ 2005 کے صدارتی انتخابات کے دوران عوامی توجہ کا مرکز بنا۔ ان انتخابات کے نتیجے میں محمود احمدی نژاد ایران کے صدر بنے تھے۔
خامنہ ای کو لکھے گئے ایک کھلے خط میں، اصلاح پسند امیدوار مہدی کروبی نے مجتبیٰ پر الزام لگایا کہ انھوں نے پاسدارانِ انقلاب اور بسیج ملیشیا کے عناصر کے ذریعے ووٹنگ کے عمل میں مداخلت کی اور یہ عناصر احمدی نژاد کی جیت میں مدد کے لیے مذہبی گروہوں میں پیسے تقسیم کرتے تھے۔
چار سال بعد، ایک بار پھر مجتبیٰ پر یہی الزام لگا۔ احمدی نژاد کے دوبارہ انتخاب نے ملک بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاج کو جنم دیا جسے ’گرین موومنٹ‘ کہا جاتا ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس وقت کے نائب وزیر داخلہ مصطفیٰ تاج زادہ نے اس نتیجے کو ’انتخابی بغاوت‘ قرار دیا۔ انھیں سات سال قید کی سزا دی گئی اور اس فیصلے کو مصطفیٰ نے ’مجتبیٰ خامنہ ای کی براہ راست خواہش‘ قرار دیا تھا۔
دو اصلاح پسند امیدوار، میر حسین موسوی اور مہدی کروبی، کو سنہ 2009 کے انتخابات کے بعد گھر میں نظربند کر دیا گیا۔ ایرانی ذرائع نے بی بی سی نیوز فارسی کو بتایا کہ فروری 2012 میں، مجتبیٰ ان سے ملے تھے اور انھوں نے موسوی سے احتجاج ترک کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
بہت سے لوگ توقع کرتے ہیں کہ اگر مجتبیٰ اپنے والد کی سخت گیر پالیسیوں کو جاری رکھیں گے۔ کچھ لوگوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ ایک ایسا شخص جس نے اپنے والد، والدہ اور بیوی کو امریکی، اسرائیلی حملوں میں کھو دیا ہو، اس کے مغربی دباؤ کے سامنے جھکنے کا امکان کم ہو گا۔
لیکن انھیں اسلامی جمہوریہ کی بقا کو یقینی بنانے اور عوام کو اس بات پر قائل کرنے کا مشکل کام درپیش ہو گا کہ وہ ملک کو سیاسی اور معاشی تباہی سے نکالنے کے لیے صحیح شخص ہیں۔
ان کا قیادت کا ریکارڈ زیادہ تر آزمودہ نہیں اور یہ تاثر کہ جمہوریہ ایران ایک موروثی نظام میں تبدیل ہو رہی ہے، عوامی بےچینی کو مزید گہرا کر سکتا ہے۔
یاد رہے کہ اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا ہے کہ علی خامنہ ای کے کسی بھی جانشین کو ’ختم کرنا ان کا واضح ہدف ہو گا۔‘
اہم خبریں
فیچر اور تجزیے
مقبول خبریں
مواد دستیاب نہیں ہے