متحدہ عرب امارات کو دفاع کا حق حاصل ہے، امریکہ کو ایران پر حملے کے لیے فضائی و علاقائی حدود نہیں استعمال کرنے دیں گے: اماراتی وزیر

متحدہ عرب امارات کی وزیرِ مملکت لانا نسیبہ نے خطے کے ممالک پر ایران کے ’ گھناؤنے، غیرقانونی اور بلا اشتعال حملوں‘ کی مذمت کی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ یہ صورتحال صرف حملوں کی شدت کے باعث ہی حیران کن نہیں، بلکہ اس لیے بھی ہے کہ ایران نے اس تنازع میں پورے خطے کو گھسیٹ لیا ہے۔

خلاصہ

  • ایرانی نائب وزیرِ خارجہ ماجد تخت روانچی نے ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے کی تردید کی ہے۔
  • وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب کے دورے کے دوران شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کریں گے جس میں خطے میں جاری کشیدگی اور علاقائی سلامتی کی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوگا۔
  • ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے باعث مشرقِ وسطیٰ کے سفر اور سیاحت کے شعبے کو یومیہ کم از کم 600 ملین ڈالر (448 ملین پاؤنڈ) کا نقصان
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی
  • ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے مطابق ’جنگ ختم کرنے کا واحد راستہ ایران کے حقوق کو تسلیم کرنا، معاوضے کی ادائیگی اور بین الاقوامی ضمانتیں ہیں۔‘

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ اب مزید اپڈیٹ نہیں کیا جا رہا

    بی بی سی اردو کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے تاہم یہ صفحہ اب مزید اپڈیٹ نہیں کیا رہا۔

    تازہ ترین خبروں کو اہم تجزیوں کے لیے آپ اس لنک پر کلک کریں۔

  2. امریکی طیارہ عراق میں گِر کر تباہ ہو گیا: سینٹرل کمانڈ کی تصدیق

    کے سی 135 ایندھن بردار جہاز

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی فوج نے تصدیق کی ہے کہ عراق میں اس کا ایک طیارہ گِر کر تباہ ہو گیا ہے۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ فوج کا ایک کے سی 135 ایندھن بردار جہاز دو طیاروں کے درمیان پیش آنے والے ایک واقعے کے بعد گِر کر تباہ ہو گیا ہے۔ تاہم سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں ’دوستانہ یا دشمن کے فائر کا کوئی عمل دخل نہیں‘ ہے۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق مغربی عراق میں ’دوستانہ فضائی حدود‘ میں ’ریسکیو کی سرگرمیاں‘ جاری ہیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ اس واقعے میں شامل دوسرا طیارہ بحفاظت لینڈ کر گیا ہے۔

  3. ایرانی میزائل حملوں کے خطرے کے پیش نظر یروشلم کے مقدس مقامات پر عبادات ’عارضی‘ طور پر معطل: اسرائیل

    یروشلم

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    اسرائیل کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ایرانی میزائل حملوں کے پیشِ نظر یروشلم کے مقدس مقامات پر عبادات ’عارضی طور پر معطل‘ کر دی گئی ہیں۔

    وزارتِ خارجہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ: ’ایک (میزائل) پرانے شہر، مغربی دیوار، مسجدِ اقصیٰ اور چرچ آف دی ہولی سیپلکر سے چند سو میٹر کے فاصلے پر گِرا ہے۔‘

    وزارتِ خارجہ کا مزید کہنا ہے کہ نتیجتاً جانوں کے تحفظ اور عبادت گزاروں کے تحفظ کے لیے ’تمام مقدس مقامات‘ پر عبادات کو عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔

  4. مشرقِ وسطیٰ میں صورتحال ’بہت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے‘: ٹرمپ

    ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ڈونلڈ ٹرمپ نے کچھ دیر پہلے وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ایک تقریب کے دوران مختصراً ایران کے بارے میں بات کی ہے۔

    امریکی صدر نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال ’بہت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے‘ اور ’بہت اچھی ہے۔‘

    انھوں نے اپنی تقریر میں ایران کو ’دہشت گرد اور نفرت انگیز ملک‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ ملک اس وقت ’بھاری قیمت ادا کر رہا ہے۔‘

    ٹرمپ بارہا کہہ چکے ہیں کہ ایران کے خلاف مشترکہ امریکی اور اسرائیلی جنگ ایک قلیل المدتی کارروائی ہے، لیکن انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ آپریشن کب ختم ہوگا۔

  5. امریکہ کو ایران پر حملے کے لیے فضائی و علاقائی حدود نہیں استعمال کرنے دیں گے: اماراتی وزیر, کلائیو مائری، ابو ظہبی

    لانا نسیبہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    متحدہ عرب امارات کی وزیرِ مملکت لانا نسیبہ نے خطے کے ممالک پر ایران کے ’ گھناؤنے، غیرقانونی اور بلا اشتعال حملوں‘ کی مذمت کی ہے۔

    وہ کہتی ہیں کہ یہ صورتحال صرف حملوں کی شدت کے باعث ہی حیران کن نہیں، بلکہ اس لیے بھی ہے کہ ایران نے اس تنازع میں پورے خطے کو گھسیٹ لیا ہے۔

    نسیبہ اس بات پر بات کرنے سے گریز کرتی ہوئی نظر آئیں کہ آیا ان کا ملک ایران کے حملوں کے جواب میں عسکری کارروائی کرے گا یا نہیں۔

    انھوں نے کہا کہ آگے بڑھنے کا واحد راستہ سفارت کاری ہی ہونا چاہیے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، تاہم امریکہ کو ایران پر حملہ کرنے کے لیے متحدہ عرب امارات کی فضائی حدود یا علاقے کا استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    اماراتی وزیر لانا نسیبہ نے مزید کہا کہ ملکی معیشت مضبوط ہے اور اپنے تیل کے انفراسٹرکچر اور سیاحت کی صنعت پر ہونے والے حملوں کے جھٹکے کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

    انہوں نے یہ بھی کہا کہ انھیں کچھ اطلاعات کا علم ہے کہ ملک میں کچھ افراد کو سخت قوانین کے تحت گرفتار کیا گیا ہے، جو ڈرون اور میزائل حملوں کی تصاویر لینے سے متعلق ہیں۔

    نسیبہ اس بات کی تردید کرتی ہیں کہ یہ اس وقت متحدہ عرب امارات میں زندگی کی حقیقی صورتحال کی پریشان کن تصویر سامنے آنے سے روکنے کی کوئی کوشش ہے۔

  6. شمالی عراق میں فوجی اڈے پر حملے میں کوئی برطانوی فوجی اہلکار زخمی نہیں ہوا

    اس سے قبل ہم نے رپورٹ کیا تھا کہ گذشتہ رات شمالی شام کے شہر اربل میں ایک فوجی اڈے پر حملہ ہوا ہے، جہاں برطانوی اور امریکی فوجی اہلکار موجود ہیں۔ گذشتہ رات برطانوی فررسز نے وہاں دو ڈرون بھی مار گرائے تھے۔

    جب امریکہ کے ایک دفاعی عہدیدار سے اس حملے کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ اس حملے کے نتیجے میں کوئی زیادہ زخمی نہیں ہوا اور وہاں موجود تمام فوجی اہلکار اب بھی اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔

    امریکی عہدیدار کا کہنا تھا کہ اس جنگ کی ابتدا سے ہی شمالی عراق میں موجود امریکی فوج ایسے حملوں کے خلاف اپنا دفاع کر رہی ہیں۔

    بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ اس حملے میں کوئی برطانوی فوجی اہلکار بھی زخمی نہیں ہوا۔

  7. وزیرِ اعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات: ’پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کے ساتھ کھڑا رہے گا‘

    پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہPM House

    پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے جدہ میں سعودی عرب کے ولی عہد سے ملاقات کی ہے۔

    پاکستان کے وزیرِ اعظم ہاؤس سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس ملاقات میں چیف آف ڈیفینس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار بھی موجود تھے۔

    بیان کے مطابق ’پاکستانی وزیراعظم نے ان آزمائشی حالات میں مملکت سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی اور بھرپور حمایت کا اعادہ کیا ہے۔‘

    ’دونوں رہنماؤں کے درمیان خطے میں حالیہ پیش رفت پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے مشترکہ طور پر کام جاری رکھا جائے گا۔‘

    وزیرِ اعظم ہاؤس کے مطابق شہباز شریف نے محمد بن سلمان کو یقین دلایا کہ پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا رہے گا اور خطے میں امن کے مشترکہ حصول کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھے گا۔

  8. ایران آبنائے ہرمز کے پرامن استعمال کا مخالف نہیں: سفیر

    جنیوا میں اقوامِ متحدہ کے لیے ایران کے سفیر نے بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ہے کہ ملک کے نئے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای محفوظ ہیں اور اس وقت ملک کا انتظام چلا رہے ہیں۔

    بی بی سی ریڈیو 4 پروگرام میں بات کرتے ہوئے علی بحرینی کا کہنا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کا انتخاب ایران میں ’استحکام اور تسلسل کی علامت‘ ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ: ’آبنائے ہرمز جنگی صورتحال سے متاثر ہے۔ اسی وجہ سے کوئی بھی توقع نہیں کر سکتا کہ گزرگاہیں معمول کے مطابق کھلی ہوں گی۔‘

    علی بحرینی کا مزید کہنا تھا کہ ایران آبنائے ہرمز کے ’پُرامن استعمال کا مخالف نہیں ہے‘ اور تہران صرف یہ یقینی بنا رہا ہے کہ ’امریکہ اور اسرائیل کو اس خطے میں ہمارے خلاف کوئی خطرہ پیدا کرنے نہ دیا جائے۔‘

    ’ایران اپنا دفاع کر رہا ہے۔ یہ دفاع جارحیت کرنے والوں کے رُکنے تک جاری رہے گا۔ ہمارے لیح یہ جنگ تب ہی ختم ہوگی جب جارحیت کرنے والے رُک جائیں گے۔‘

    علہی بحرینی کہتے ہیں کہ ’ایران نے یہ جنگ نہیں شروع کی تھی بلکہ اسرائیل اور امریکہ نے اس کی ابتدا کی تھی۔‘

  9. تہران میں امریکی اور اسرائیلی حملوں کے سبب کچھ عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں

    ہم اس وقت تہران سے آنے والی تصاویر کو دیکھ رہے ہیں، جہاں امریکی اور اسرائیلی حملوں کے سبب کچھ عمارتیں ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکی ہیں۔

    لوگوں کو اپنے گھروں کو جانچتے ہوئے اور اپنے بچ جانے والے سامان کو جمع کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

    تہران شہر میں ریسکیو اہلکاروں کو بھی دیکھا گیا ہے، جو سراغ رساں کتوں کی مدد سے ملبے کی تلاشی رہے تھے۔

    تہران کے ایک رہائشی نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ ’میری زندگی میں اب کوئی ایسی چیز نہیں جسے میں روٹین قرار دے سکوں۔ میں باہر نہ سائیکل چلا سکتا ہوں اور نہ ہی دوڑ سکتا ہوں۔‘

    تہران

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنتہران کے تباہ شدہ اپارٹمنٹ میں موجود ایک خاتون
    تہران

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنتہران میں لوگ تباہ شدہ عمارتوں سے اپنا سامان نکال رہے ہیں
    تہران

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنتہران میں ریسکیو اہلکار ملبے کی تلاشی لیتے ہوئے
  10. ایران کے بحری ڈرونز تباہی پھیلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں, پال ایڈمز، نامہ نگار برائے سفارتی امور

    علامتی تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنعلامتی تصویر

    ایران کے جانب سے بحری حملہ آور ڈرونز، جنہیں خودکش ڈرون بھی کہا جاتا ہے، کا استعمال اس تنازع کی غیر متوازن نوعیت کی ایک اور مثال ہے اور ساتھ ہی یہ یوکرین کی روس کے خلاف جنگ سے مماثلت کو بھی ظاہر کرتا ہے۔

    ایران دہائیوں سے بغیر پائلٹ کے چلنے والے بحری ہتھیار تیار کر رہا تھا، اسے معلوم تھا کہ اس کی بحریہ کو سمندر میں اپنے سے زیادہ طاقتور امریکی فورسز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    ایران کی روایتی بحریہ کا بڑا حصّہ اب خلیج فارس یا بحیرۂ ہند کی تہہ میں ڈوب چکا ہے، ایسے میں دھماکہ خیز مواد سے لدے بحری ڈرونز کا استعمال ہمیشہ سے متوقع تھا۔

    انھیں صرف ایک ہی مقصد کے لیے تیار کیا گیا ہے: دفاعی اقدامات سے بچتے ہوئے تیز رفتار سے بڑے بحری جہازوں سے ٹکرانا اور ہدف کو ناکارہ یا تباہ کر دینا۔

    یوکرین نے گذشتہ چار برسوں کے دوران اپنے بحری ڈرونز تیار کیے ہیں اور انھیں بحیرۂ اسود میں روسی جہازوں کے خلاف استعمال کیا ہے۔

    ایران کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس بڑے پیمانے پر ایسے ہی ڈرونز موجود ہیں۔

    اگر وہ انھیں تباہی سے بچا سکا تو دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہوں میں سے ایک میں تباہی مچانے کی اس کی صلاحیت کچھ عرصے تک برقرار رہ سکتی ہے۔

  11. اسرائیل کا تہران میں ’وسیع پیمانے پر حملوں‘ کا اعلان

    اسرائیلی فوج کا سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں کہنا ہے کہ اس نے تہران میں ’وسیع پیمانے پر نئے حملوں کی ابتدا‘ کی ہے۔

    اس کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے درالحکومت میں حکومتی انفراسٹرکچر کو اپنا ہدف بنا رہی ہے۔

  12. ایران کی آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے کی تردید

    ماجد تخت روانچی

    ایرانی نائب وزیرِ خارجہ ماجد تخت روانچی نے ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے کی تردید کی ہے۔

    اس سے قبل امریکہ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے کچھ ایرانی کشتیوں کو نشانہ بنایا ہے جو اس مقصد کے لیے وہاں موجود تھیں۔

    ایرانی نائب وزیرِ خارجہ نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ ’کچھ ممالک نے ہم سے آبنائے ہرمز عبور کرنے کے لیے بات چیت کی تھی اور ہم نے ان کے ساتھ تعاون کیا ہے۔‘

    تاہم ان کا کہنا تھا کہ جن ممالک نے ایران کے خلاف ’جارحیت میں حصہ‘ لیا انھیں ’یہاں سے گزرنے کا فائدہ نہیں دیا جائے گا۔‘

    ماجد تخت روانچی کا مزید کہنا تھا کہ ان کی حکومت یہ یقینی بنانا چاہتی ہے کہ جنگ کو دوبارہ ان پر ’مسلط‘ نہ کیا جا سکے۔

    ’جب گذشتہ برس جون میں جنگ شروع ہوئی تو 12 دن کے بعد حملے بند ہو گئے تھا لیکن پھر آٹھ، نو مہینے بعد انھوں (امریکہ اور اسرائیل) نے خود کو یکجا کیا اور دوبارہ حملے کیے۔‘

  13. ایران کے بجلی کے گرڈ پر حملہ ہوا تو پورا خطہ اندھیرے میں ڈوب جائے گا: علی لاریجانی

    ایرانی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران کے بجلی کے نیٹ ورک کو نقصان پہنچا تو ’آدھے گھنٹے کے اندر پورا خطہ تاریکی میں ڈوب جائے گا۔‘

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ میں انھوں نے لکھا: ’اندھیرا خطے میں بھاگتے ہوئے امریکی فوجیوں کو شکار کرنے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔‘

    انھوں نے یہ بات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کے جواب میں کہی۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ ’ایک گھنٹے کے اندر ایران کی بجلی کا نظام ختم کر سکتے ہیں۔‘

    ایک اور ایکس پوسٹ میں علی لاریجانی نے لکھا: ’ٹرمپ کہتے ہیں کہ وہ جلد فتح دیکھ رہے ہیں۔ جنگ شروع کرنا آسان ہے، لیکن اسے چند ٹویٹس کے ذریعے نہیں جیتا جا سکتا۔ جب تک آپ اندازے کی سنگین غلطی پر پچھتائیں گے نہیں، اس وقت تک ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔‘

  14. ایرانی ڈرونز سے امریکی سر زمین کو ’کوئی خطرہ‘ نہیں: وائٹ ہاؤس پریس سیکریٹری

    وائٹ ہاؤس پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکی سر زمین کو ایرانی ڈرونز سے ’کوئی خطرہ‘ نہیں ہے۔

    یہ بیان اے بی سی نیوز کی اس خبر کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ایف بی آئی نے کیلیفورنیا پولیس ڈیپارٹمنٹس کو ایران کے ممکنہ جوابی حملوں سے خبردار کیا ہے۔ خبر میں درج تھا کہ امریکی حملوں کے جواب میں ایران امریکہ کے مغربی ساحل کے قریب کسی بحری جہاز سے ’ڈرون حملے‘ کر سکتا ہے۔

    لیویٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا: ’انھوں (اے بی سی نیوز) نے ایسا ایک ای میل کی بنیاد پر لکھا جو کیلیفورنیا میں قانون نافذ کرنے والے ایک مقامی ادارے کو بھیجی گئی تھی۔ اور یہ ای میل واحد، غیر مصدقہ اطلاع پر مبنی تھی۔‘

    انھوں نے مزید لکھا: ’واضح رہے کہ ہماری سر زمین کو ایران سے کوئی خطرہ نہ اب ہے نہ پہلے کبھی تھا۔‘

    گذشتہ روز کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسوم نے کہا تھا کہ وہ اس وقت ریاست کے لیے ’کسی بھی فوری خطرے‘ سے آگاہ نہیں ہیں تاہم سکیورٹی اور انٹیلی جنس حکام کے ساتھ ’مسلسل رابطے‘ میں ہیں۔

  15. ’حزب اللہ سے منسلک‘ قرار دے کر اسرائیلی فوج نے بیروت میں عمارات خالی کرانے کے احکامات جاری کر دیے

    اسرائیلی فوج نے بیروت کے رہائیشیوں کو فوری طور پر علاقہ خالی کرنے کی وارننگ جاری کر دی ہے۔ یہ انتباہ خاص طور پر بچورا کے علاقے میں رہنے والوں کو دیا گیا ہے۔

    اسرائیلی فوج کے ترجمان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک نقشہ پوسٹ کیا جس میں یونیورسٹی سینٹ جوزف کے قریب واقع ایک عمارت کو نمایاں کیا گیا ہے۔

    عمارت میں موجود افراد کو مخاطب کرتے ہوئے انھوں نے لکھا: ’آپ ایک ایسی عمارت کے قریب موجود ہیں جو دہشت گرد تنظیم حزب اللہ سے منسلک ایک مرکز کے قریب ہے اور اسرائیلی فوج اس کے خلاف کارروائی کرے گی۔‘

    انھوں نے مزید لکھا: ’اپنی اور اہل خانہ کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آپ کو فوری طور پر اس مخصوص عمارت اور اس سے ملحقہ عمارات کو خالی کرنا ہوگا اور ان سے کم از کم 300 میٹر کے فاصلے پر رہنا ہو گا۔‘

  16. بیروت پر اسرائیلی فوج کے حملوں کی نئی لہر

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    چند منٹ قبل ٹیلیگرام پر شیئر کی گئی ایک پوسٹ میں، اسرائیلی دفاعی افواج نے کہا کہ اُن کی جانب سے بیروت پر ایک مرتبہ پھر سے سلسلہ وار حملوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

    شہر سے موصول ہونے والی تصاویر میں فضا میں بلند ہوتے دھوئیں کے بادل دیکھے جا سکتے ہیں۔

  17. آپریشن ایپک فیوری میں شامل امریکی بحری جہاز میں آگ دشمن کے حملے کی وجہ سے نہیں لگی: امریکی بحریہ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے خلاف آپریشن ایپک فیوری میں شامل امریکی بحریہ کے بحری جہاز میں آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا ہے، تاہم امریکی بحریہ کی جانب سے ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آگ لگنے کا یہ واقعہ دشمن کے کسی حملے کی وجہ سے پیش نہیں آیا ہے۔

    امریکی بحریہ کی جانب سے ایکس پر جاری بیان میں مزید کہا گیا کہ ’12 مارچ کو یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ (CVN 78) میں آگ لگنے کا ایک واقع پیش آیا جو جہاز کے مرکزی لانڈری ایریاز سے شروع ہوئی۔ آگ دشمن کے حملے یا جنگی حالات کی وجہ سے نہیں لگی اور اس پر قابو پا لیا گیا ہے۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’جہاز کے پروپولشن پلانٹ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور ایئرکرافٹ کیریئر مکمل طور پر فعال ہے۔‘

    امریکی بحریہ کا بیان میں کہنا تھا کہ ’اس واقعے میں دو افراد معمولی زخمی ہوئے ہیں جنھیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے اور ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔‘

    واضح رہے کہ ’جیرالڈ آر فورڈ کیریئر سٹریک گروپ اس وقت ریڈ سی میں آپریشن ایپک فیوری کے سلسلے میں تعینات ہے۔‘

  18. ہم ایران کے نئے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یہ بات درست ہے کہ ایران کے نئے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای اب تک سرکاری میڈیا پر نظر نہیں آئے، اور اس بات کی وجہ سے خاص طور پر بیرونِ مُلک مقیم ایرانیوں کے دلوں میں برے پیمانے پر مختلف سوالات نے جنم لیا ہے۔

    اس حوالے سے بہت سی قیاس آرائیاں بھی ہوں رہی ہیں کہ آیا ایران کے نئے سپریم لیڈر زخمی ہوئے ہیں یا وہ زندہ بھی ہیں کہ نہیں۔

    تاہم اب تک ہمارے پاس ایران کے نئے رہبرِ اعلیٰ سے متعلق معلومات محدود ہیں:

    ایران کے سرکاری ٹی وی نیوز چینل نے انھیں ’جنگی تجربہ کار اور قربانی دینے والا رہنما ظاہر‘ کیا ہے، لیکن یہ واضح نہیں کیا کہ آیا وہ زخمی ہوئے ہیں یا نہیں۔

    رائٹرز نے ایک ایرانی اہلکار کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ وہ ’معمولی زخمی‘ ہوئے ہیں۔

    اپنے والد، اور سابق ایرانی رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ، مجتبیٰ خامنہ ای کی والدہ اور اہلیہ بھی امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں ہلاک ہو گئی تھیں۔

    اب تک ہم نے انھیں عوام میں یا سرکاری میڈیا پر ویڈیوز یا تصاویر میں نہیں دیکھا، حالانکہ وہ آٹھ مارچ کو ایران کے تیسرے رہبرِ اعلیٰ بنے ہوئے انھیں تقریباً چار دن ہو چکے ہیں۔

    ایران کے سپریم لیڈر کو مجلس خبرگان کے ذریعے منتخب کیا جاتا ہے، جو ایک آئینی ادارہ ہے جس کے 88 رکن سپریم لیڈر کے انتخاب اور نگرانی کے ذمہ دار ہیں۔

    مجتبیٰ خامنہ ای کے پہلے پیغام میں ایک چیز نے خاص توجہ حاصل کی ہے اور وہ یہ کہ انھوں نے کہا کہ انھیں اس بات کا علم ملک کے سرکاری ٹی وی چینل کے ذریعے ہوا کہ وہ ایران کے سپریم لیڈر بن گئے ہیں۔

  19. اسرائیلی فوج نے مُمکنہ حملوں کے پیشِ نظر بیروت کے جنوبی علاقوں کو خالی کرنے کا حکم دے دیا

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیلی فوج نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں کے رہائشیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ علاقے ہو فوری طور پر خالی کر دیں۔

    اسرائیلی فوج نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں کے سات اضلاع کے رہائشیوں کو خبردار کرتے ہوئے انھیں علاقے میں ممکنہ حملوں سے قبل فوری طور پر اپنے گھروں کو خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔

    فوج کے ترجمان اویخائی ادرعی نے ایکس پر لکھا کہ ’جنوبی مضافاتی علاقوں کے رہائشیوں کے لیے فوری انتباہ، خاص طور پر حارہ حریک، الغبیری، اللیلکی، الحدث، برج البراجنة، تحویطات الغدیر اور الشیاح نامی اضلاع کے رہائشیوں کے لیے۔‘انھوں نے مزید کہا کہ ’آپ کی جان کی حفاظت کے لیے ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ فوری طور پر ان علاقوں کو خالی کریں اور مزید اطلاع تک واپس نہ جائیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ فوج حزب اللہ کے اہلکاروں، ان کے اڈوں یا ٹھکانوں کے قریب موجود کسی بھی شخص کو نشانہ بنانے سے گُریز نہیں کرے گی اور خبردار کیا کہ ’آپ اپنی جان کو خطرے میں ڈال رہے ہیں، اس لیے فوری طور پر علاقے کو خالی کریں۔‘

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  20. تیل کی قیمتوں میں اضافہ امریکا کے لیے نفع بخش ہے: صدر ٹرمپ

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایران میں نئے رہبرِ اعلیٰ کے پہلے بیان کے نشر ہونے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھی ردِعمل سامنے آیا ہے جنھوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’عالمی توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے امریکہ کو کافی فائدہ ہوا ہے۔‘

    انھوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا کہ ’امریکہ دنیا میں سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے۔ اس لیے جب تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو ہم بہت زیادہ پیسہ کماتے ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ایک صدر کے طور پر میرے لیے اس سے کہیں زیادہ اہم اور دلچسپی کی بات یہ ہے کہ ایک ’شرپسند سلطنت‘ یعنی ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکا جائے کیونکہ وہ مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کو تباہ کر سکتا ہے اور میں کبھی ایسا نہیں ہونے دوں گا۔‘

Trending Now