تنخواہ ایک کروڑ 17 لاکھ روپے سالانہ مگر ساتھ میں تنہائی اور سخت سردی: کیا یہ ملازمت آپ کے لیے ہے؟

Dan McKenzie sits on a snowmobile outside the Halley VI Research Station in Antarctica

،تصویر کا ذریعہDan McKenzie

،تصویر کا کیپشنڈین میکنزی انٹارٹیکا میں ہی ملازمت کرتے ہیں
    • مصنف, میریلو کوسٹا
    • عہدہ, نامہ نگار برائے بزنس
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

برطانیہ اور امریکہ دونوں ہی انٹارٹکا میں اپنے تحیقیقی مراکز کے لیے نئے ملازمین کی تلاش میں ہیں۔

وہاں ملازمت حاصل کرنے کے لیے آپ کا سائنسدان ہونا ضروری نہیں کیونکہ وہاں کارپینٹرز، الیکٹریشنز، باورچی اور یہاں تک کہ حجاموں کی بھی ضرورت ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا آپ انٹارٹکا کی سردی اور تنہائی برداشت کرنے کی ہمت رکھتے ہیں؟

ڈین میکنزی نے 19 برس کی عمر میں برطانیہ کے شہر ویگن میں واقع اپنا گھر چھوڑ دیا تھا اور تب سے وہ دنیا کے کئی دُور دراز مقامات پر کام کر چکے ہیں۔

سابق میرین انجینیئر ڈین اب 38 برس کے ہو چکے ہیں اور اس وقت اپنے کیریئر کی سب سے مشکل ملازمت کر رہے ہیں۔ وہ اب انٹارٹکا میں ہالی ششم تحقیقی مرکز کے سٹیشن لیڈر ہیں۔

یہ انٹارکٹکا کی برفیلی سرزمین پر قائم پانچ میں سے ایک تحقیقی مرکز ہے، جنھیں برطانیہ کا قطبی تحقیقاتی ادارہ برٹش انٹارکٹک سروے (بی اے ایس) چلاتا ہے۔

بی بی سی سے سیٹلائٹ کے ذریعے ویڈیو پر بات کرتے ہوئے ڈین کہتے ہیں کہ ’میں ہمیشہ سے مہم جو رہا ہوں اور ویران اور غیر آباد جگہیں تلاش کرنے میں دلچسپی رکھتا ہوں۔‘

’میں پہلے سمندری جہازوں پر کام کرتا تھا لیکن اسے جاری نہیں رکھنا چاہتا تھا۔ کچھ ایسا کرنا چاہتا تھا جو اس کام سے ملتا جلتا ہو، میں نے سوچا کہ یہ کام میری صلاحیتوں کے ساتھ اچھی طرح مطابقت رکھے گا۔‘

Dan McKenzie sat at his desk at the Halley VI Research Station

،تصویر کا ذریعہDan McKenzie

،تصویر کا کیپشنڈین اب انٹارٹکا میں ہالی ششم تحقیقی مرکز کے سٹیشن لیڈر ہیں
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ڈین انٹارٹکا کے ایک گرم دن میں ہم سے اپنی ملازمت کے بارے میں بات کر رہے تھے اور درجہ حرارت منفی 15 ڈگری تھا۔ ان کی کھڑکی کے باہر تاحدِ نگاہ برف نظر آ رہی تھی، جسے نیلے آسمان کی اتنی ہی وسیع چادر نےڈھک رکھا تھا۔

ڈین کہتے ہیں کہ ’یہ درجہ حرارت بہت مناسب ہے، یہاں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت منفی پانچ تک جاتا ہے۔ مگر کبھی کبھی یہ منفی 40 ڈگری تک بھی جا سکتا ہے تاہم عمومی طور پر یہاں درجہ حرارت منفی 20 تک ہی ہوتا ہے۔‘

ڈین انٹارکٹکا کے موسمِ گرما، یعنی نومبر سے فروری کے وسط تک، ہالی ششم میں تعینات 40 افراد کی ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔

بی اے ایس کے سٹیشن جنگلی حیات اور ماحول کے مختلف پہلوؤں کی نگرانی کرتے ہیں۔ ہالی ششم بنیادی طور پر خلائی اور فضائی معلومات پر توجہ دیتا ہے، ساتھ ہی برنٹ آئس شیلف کا مطالعہ بھی کرتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ زمین کی اوزون کی تہہ میں موجود سوراخ کا جائزہ بھی لیتا ہے۔

یہاں نہ صرف ٹیم کو انتہائی سردی کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ انٹارکٹکا کی گرمیوں میں مسلسل دن کی روشنی بھی ہوتی ہے، جو ایک ایسے غروبِ آفتاب پر ختم ہوتی ہے جو کئی ہفتوں تک جاری رہتا ہے۔

ڈین نے 2019 میں اپنا پہلا ملازمت کا معاہدہ پورا کیا تھا اور اس کے بعد سٹیشن لیڈر کے عہدے تک رسائی حاصل کی۔

انھوں نے بی اے ایس کے روستھرا ریسرچ سٹیشن پر بطور مکینیکل مینٹیننس انجینیئر کام شروع کیا، جو ہالی ششم سے ایک ہزار میل دور واقع ہے۔

سٹیشن لیڈر کے طور پر وہ صحت و حفاظت اور تربیت سے متعلق امور دیکھتے ہیں۔ ڈین کو ٹیم کو جذباتی تعاون بھی فراہم کرنا پڑتا ہے، خاص طور پر جب تنہائی یا تنگ جگہوں میں قریبی میل جول کے باعث پیدا ہونے والے باہمی تنازعات حد سے زیادہ بڑھ جائیں۔

’لوگ آپ کے دفتر میں آ کر کہتے ہیں کہ ان کا دن اچھا نہیں گزر رہا یا گھر پر کچھ ہو گیا ہے اور پھر آپ کو دیکھنا ہوتا ہے کہ آپ انہیں کس طرح سہارا دے سکتے ہیں۔ یہ کام بہت مختلف نوعیت کا ہوتا ہے۔‘

ڈین اُن 120 بی اے ایس ملازمین میں شامل ہیں جو اس موسمِ گرما میں انٹارکٹکا میں موجود تھے تاہم ان کا یہ سیزن اب اختتام کو پہنچ رہا ہے۔ زیادہ تر افراد، بشمول ڈین، مئی کے آخر تک برطانیہ واپس آ جائیں گے، جبکہ تقریباً 50 افراد وہاں رک کر سردیوں کی تاریکی میں کام جاری رکھیں گے۔

ڈین سال کے باقی حصے میں کیمبرج میں بی اے ایس کے ہیڈکوارٹر میں تعینات رہیں گے، لیکن اس سے قبل انھوں نے بھی انٹارکٹکا میں سردیاں گزار رکھی ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’جب سردی آتی ہے تو ایک ناقابلِ یقین قسم کی آزادی محسوس ہوتی ہے کیونکہ زیادہ تر لوگ یہاں سے چلے جاتے ہیں۔‘

’آپ کو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے آپ دنیا کے سب سے آزاد انسان ہیں۔ آپ کے پاس چند مضبوط اعصاب کے لوگ ہوتے ہیں اور آپ سب ایک دوسرے کا واقعی خیال رکھتے ہیں، آپ ایک چھوٹے سے خاندان کی طرح بن جاتے ہیں۔ ہر کوئی ایک دوسرے کا خیال رکھتا ہے۔‘

Mariella Giancola, a cook at the Rothera Research Station, takes a cake out of an oven

،تصویر کا ذریعہBAS

،تصویر کا کیپشنبرطانیہ سے زیادہ تر عملہ انٹارٹکا موسم گرما گزارنے جاتا ہے

برطانوی ادارہ بی اے ایس ہر سال انٹارکٹکا کے لیے 150 تک نئے افراد کو بھرتی کرتا ہے۔ اس کے مراکز میں سائنس اور انجینیئرنگ کے ماہرین ریڑھ کی ہڈی سمجھے جاتے ہیں، لیکن تقریباً 70 فیصد ملازمتیں عملی ذمہ داریاں سے متعلق ہیں جو ان مراکز کا اتظام چلانے کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔

الیکٹریشنز اور باوچیوں کے علاوہ یہاں نرسز، ڈاکٹروں اور پلمبروں کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ یہاں تنخواہ ایک کروڑ 17 لاکھ پاکستانی روپے سالانہ سے شروع ہوتی ہے اور اس کے علاوہ یہاں آپ کے سفری اخراجات اٹھائے جاتے ہیں، رہنے کا، کھانے پینے کا اور خصوصی کپڑوں کا بھی انتظام کیا جاتا ہے۔

مجموعی طور پر تقریباً پانچ ہزار لوگ انٹارکٹکا میں گرمیوں کے مہینوں کے دوران یہاں واقع 30 ممالک کے زیرِ انتظام 80 تحقیقی مراکز میں کام کرتے ہیں۔

بی اے ایس اور امریکہ کا انٹارکٹک پروگرام دونوں اپنی ملازمتوں کا اعلان آن لائن کرتے ہیں۔ بی اے ایس مارچ میں ایک اوپن ڈے بھی منعقد کرتا ہے۔

لیکن شوق میں اس طرح کی ملازمتوں کی طرف متوجہ ہونے والے افراد کو چاہیے کہ وہ پہلے پوری طرح معلومات حاصل کر لیں کہ ملازمت ملنے کے بعد انھیں کن حالات میں کام کرنا بڑ سکتا ہے۔

یہاں تازہ خوراک کم ملتی ہے اور شراب کی مقدار محدود ہوتی ہے۔ بی اے ایس کی رہائش گاہوں میں مشترکہ کمرے ہوتے ہیں اور عملہ سات دن کے روٹیشن شیڈول پر کام کرتا ہے۔

بی اے ایس ملازمین کا انتخاب کرتے ہوئے امیدواروں کی تنازعات سے نمٹنے اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیتوں کو جانچتا ہے، جس کے بعد کامیاب امیدواروں کو تعیناتی سے قبل مکمل تربیت دی جاتی ہے۔

Two members of staff skiing outside the Halley VI Research Station

،تصویر کا ذریعہBAS

،تصویر کا کیپشنہالی ششم تحقیقی مرکز

بی اے ایس کی ہیڈ آف ایچ آر میریلا جیانکولا کے مطابق جسمانی چیلنجز اور سردی کے بجائے اصل مسائل اکثر ساتھی ملازمین کے نہایت قریب رہنے اور سخت منظم روٹین کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔

وہ اسے ’یونیورسٹی واپس جانے‘ کے مترادف قرار دیتی ہیں۔

’ہمیں اکثر لوگ کہتے ہیں ’مجھے لوگوں کے ساتھ رہنے میں کوئی مسئلہ نہیں۔‘ پھر بعد میں انھیں احساس ہوتا ہے کہ وہ دراصل دوسروں کے ساتھ جگہیں شیئر کرنے میں اچھا محسوس نہیں کرتے۔‘

’یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہاں آپ کو بالکل بھی پرائیویسی نہیں ملے گی کیونکہ لوگ ہر وقت آپ کے بالکل سامنے ہوں گے۔ لوگ اپنے گھر کی آزادی سے نکل کر ایسی جگہ آتے ہیں جہاں سٹیشن لیڈر اھہیں قواعد و ضوابط بتاتا ہے۔ چند لوگ اس صورتحال کے ساتھ ڈھلنے میں مشکل محسوس کرتے ہیں۔‘

کلینیکل سائیکولوجسٹ ڈاکٹر ڈنکن پریشس نے سنہ 2013 سے 2020 تک برطانوی اور آسٹریلوی مسلح افواج میں خدمات انجام دیں۔ وہ اب ڈیفنس کنسلٹنسی ’سی ڈی ایس ڈیفنس اینڈ سیکیورٹی‘ کے کلینیکل ڈائریکٹر اور ریزیلیئنس کنسلٹنٹ ہیں۔

اگرچہ انٹارکٹکا میں جسمانی خطرات کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں لیکن ڈنکن پریشس کے مطابق سماجی رویّے اکثر زیادہ مسئلہ پیدا کر سکتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جب تعلقات خراب ہو جاتے ہیں تو اُس کے نتائج کو سنبھالنا مشکل بھی ہوتا ہے اور اُن پر قابو پانا بھی۔

A map showing the location of the Halley Research Station

تاہم ڈین کہتے ہینں کہ جسمانی اور جذباتی مشکلات کے باوجود اس ملازمت کے دوران حاصل ہونے والے تجربات کا کوئی مقابلہ نہیں اور ساتھ ہی ماحولیات سے متعلق تحقیق میں حصہ لینے سے جو اطمینان ملتا ہے وہ بھی بےمثال ہے۔

تاہم ڈین اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ’جب میں پہلی بار یہاں پہنچا تو لوگوں کے ساتھ کمرہ شیئر کرنا مشکل تھا اور موسم بھی کافی خراب تھا۔ پہلے مہینے میں میں نے سوچا، شاید یہ کام میرے لیے نہیں ہے۔‘

’لیکن پھر آپ باہر جانا شروع کرتے ہیں اور وہیل مچھلیاں، سیل اور کشتیوں سے جزیرے دیکھتے ہیں، اور پھر چھوٹے طیاروں میں مختصر سفر ہوتے ہیں۔ آپ سوچتے ہیں، ’یہ تو واقعی کمال ہے‘۔ اس سال مجھے خوش قسمتی سے پینگوئنوں کی ایک کالونی دیکھنے کا موقع ملا۔ یہ بالکل ایسا تھا جیسے ڈیوڈ ایٹنبرو کی کسی ڈاکیومنٹری کا منظر ہو۔‘