کیا صبح سویرے گرم پانی پینا آپ کی صحت کے لیے مفید ہے؟

    • مصنف, کیٹ بووی
    • عہدہ, گلوبل ہیلتھ، بی بی سی ورلڈ سروس
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

’میں نے یہ سوشل میڈیا پر دیکھا، اور میں ایک کے بعد ایک ایسی ویڈیوز دیکھتی رہی... پھر میں نے سوچا، کیوں نہ اسے آزمایا جائے۔‘

یہ کہنا ہے کہ 21 سالہ مریم خان کا جو سوشل میڈیا پر جاری ایک ٹرینڈ کے بعد جس رجحان کو اپنا رہی ہیں وہ کوئی پیچیدہ ورزش یا سکن کیئر پروڈکٹ نہیں ہے بلکہ نہار منہ گرم پانی پینا ہے۔

گرم یا نیم گرم پانی پینے کے فوائد کو روایتی چینی طب اور آیوروید میں ہزاروں برسوں سے بیان کیا گیا ہے لیکن اس سال کے شروع میں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد اب یہ پرانی عادت پوری دنیا کے لوگوں تک پہنچ چکی ہے۔

ٹک ٹاک اور انسٹاگرام پر لاکھوں مرتبہ دیکھی جانے والی ویڈیوز کو ’نیولی چائنیز‘ اور ’چائنا میکسنگ‘ جیسے ٹیگز کے ساتھ شیئر کیا جا رہا ہے۔ ان میں زیادہ تر نوجوانوں کو دکھایا گیا ہے کہ وہ اپنے دن کا آغاز گرم پانی پینے، گرماگرم ناشتہ کرنے اور ورزش سے کرتے ہیں۔

لیکن کیا یہ عادات واقعی آپ کی صحت کو بہتر بنا سکتی ہیں؟

چینی روایتی ادویات کا نظریہ

روایتی ادویات کے بارے میں ایک بنیادی عقیدہ، جس پر چین میں لاکھوں لوگ عمل کرتے ہیں، یہ ہے کہ ’چی‘ (Qi) نامی توانائی، جسم میں بہتی ہے اور جب توانائی کا یہ بہاؤ مسدود یا غیرمتوازن ہو جاتا ہے تو انسان بیمار ہو جاتا ہے۔

اس خیال پر یقین رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ نیم گرم پانی جس کا درجہ حرارت 40 سے 60 ڈگری سینٹی گریڈ تک ہو، پینے سے ’چی‘ میں اضافہ ہوتا ہے اور جسم میں اس کا توازن برقرار رہتا ہے جس کا نتیجہ صحت میں بہتری اور طویل العمری کی شکل میں نکلتا ہے۔

روایتی چینی ادویات پر تحقیق کرنے والے پروفیسر شون او کا کہنا ہے کہ ’اسے ایک گھر کی طرح سمجھیں۔‘ ان کا کہنا ہے کہ صحت کے اس جامع نظام میں ٹھنڈا کھانا، گھر میں آنے والی ٹھنڈی ہوا کی مانند ہے۔

یہ سوچ روایتی چینی طب میں دیگر مشوروں سے بھی مطابقت رکھتی ہے، جیسے کہ گھر میں گرم چپل پہننا اور دن کا آغاز گرم ناشتے سے کرنا۔

مریم خان، لندن کی رہائشی اور ایک آرکیٹیکچرل اسسٹنٹ ہیں۔ انھوں نے سب سے پہلے اس ٹرینڈ کو ٹک ٹاک پر دیکھا اور ان کے لیے، یہ عادت ان کے روایتی چینی طب کو اپنانے کا نقطۂ آغاز ثابت ہوئی۔

وہ کہتی ہیں کہ انھیں اپنا دن تائی چی کے ساتھ شروع کرنے سے فائدہ ہوا ہے، جس میں آہستہ، ہموار حرکت، گہری سانسیں اور مراقبہ شامل ہیں۔ انھوں نے اپنی معمول کی کافی کو بھی گرم پانی سے بدل لیا ہے۔

وہ کہتی ہیں، ’مجھے صبح کیفین لینے کے بعد متلی محسوس ہوتی تھی، لیکن میں اس کی وجہ نہیں سمجھ پاتی تھی۔ پھر میں نے سادہ گرم پانی پینا شروع کر دیا اور کبھی کبھی اس میں پودینہ یا لیموں بھی شامل کر لیا۔ اس سے میں نے خود کو زیادہ تروتازہ محسوس کیا۔‘

لوگ روایتی ادویات سے کیوں رجوع کر رہے ہیں؟

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) میں گلوبل ٹریڈیشنل میڈیسن سینٹر کی عبوری ڈائریکٹر ڈاکٹر شیاما کروولا کہتی ہیں کہ روایتی چینی طرز زندگی سے متعلق تجاویز میں نوجوانوں کی آن لائن دلچسپی معاشرے میں بڑھتے ہوئے ایک نئے رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔

ان کا کہنا تھا ’یورپ میں آبادی پر مبنی مطالعات بھی کیے گئے ہیں۔ جرمنی میں ہونے والی ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ 70 فیصد یا اس سے زیادہ لوگ روایتی ادویات کی کسی نہ کسی شکل کو استعمال کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ چین اور انڈیا جیسے کچھ ممالک میں یہ تعداد 90 فیصد سے زیادہ ہو سکتی ہے۔‘

کچھ لوگ جدید طب پر اعتماد نہیں کرتے اور یہ سوچ کووڈ 19 کی وبا کے بعد بڑھی ہے۔ ایک امریکی تحقیق کے مطابق ڈاکٹروں اور ہسپتالوں پر اعتماد 2020 میں 70 فیصد سے کم ہو کر 2024 تک تقریباً 40 فیصد رہ گیا۔

کچھ لوگوں کے پاس جدید علاج تک رسائی نہیں ہے یا وہ روایتی ادویات کو ایک سستا متبادل سمجھتے ہوئے اپناتے ہیں۔

کچھ لوگ روایتی ادویات کی طرف بھی اس لیے بھی راغب ہوتے ہیں کیونکہ علاج کے لیے اس میں ذاتی اور جامع اندازِ فکر موجود ہے۔ گرم پانی پینے جیسی عادات صحت کے حوالے سے ایک ایسے نظام کا آغاز ہو سکتی ہیں جو دماغ، جسم اور ماحول کے درمیان توازن پر زور دیتا ہے۔

بہت سے لوگوں کے لیے شفایابی کے ایسے طریقوں کی گہری ثقافتی، روحانی اور تاریخی اہمیت بھی ہے۔

ڈاکٹر کروولا کے مطابق ’روایتی ادویات کے کئی ماہرین اور قبائلی کمیونٹیز کہتی ہیں کہ ہم اسے ہزاروں برس سے استعمال کر رہے ہیں اور ہم نے دیکھا ہے کہ اس سے لوگوں کو فائدہ ہوتا ہے۔‘

عالمی ادارۂ صحت کا عالمی مرکز برائے روایتی ادویات پالیسی سازوں اور مریضوں کو مناسب رہنمائی فراہم کرنے کے لیے شواہد کا جائزہ لیتا رہتا ہے۔

ڈاکٹر کروولا کے مطابق یہ ایک بہت مشکل کام ہے، کیونکہ اس وقت دنیا بھر میں ہیلتھ ریسرچ فنڈز کا ایک فیصد سے بھی کم روایتی ادویات پر تحقیق کے حوالے سے خرچ کیا جاتا ہے۔ ’اس شعبے میں ٹھوس شواہد کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔‘

ڈبلیو ایچ او کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مریضوں کو روایتی ادویات کو اپنانے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ یہ ان کے علاج کے لیے محفوظ ہے۔

لیکن خاص طور پر گرم پانی پینے کے بارے میں کیا خیال ہے؟

ڈبلیو ایچ او کے پاس اس بارے میں کوئی خاص رہنما خطوط نہیں ہیں، لیکن کروویلا کا کہنا ہے کہ یہ اس بات پر منحصر ہے کہ پانی کتنا گرم ہے، آپ کتنا پیتے ہیں اور آپ کی صحت کیسی ہے۔ ’یہ سب ثبوت اور توازن پر منحصر ہے۔‘

سائنس کیا کہتی ہے؟

جنرل پریکٹیشنر اور لمبی عمر کے ادویات کی ماہر ڈاکٹر روزی بروکس کا کہنا ہے کہ نہار منہ نیم گرم پانی پینے کے کچھ فوائد ہو سکتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں، ’اس سے ہاضمے میں تھوڑی مدد مل سکتی ہے اور قبض سے بھی نجات مل سکتی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا ہے کہ کچھ شواہد یہ بھی بتاتے ہیں کہ نیم گرم پانی غذائی نالی (جو گلے کو معدے سے جوڑتا ہے) میں ہونے والی اینٹھن کو آرام پہنچا سکتا ہے۔

’اس کے علاوہ، کسی بھی قسم کا پانی پینا، ٹھنڈا یا گرم، جسم میں پانی کی کمی کو پورا کرنے میں فائدہ مند تو ہے ہی۔‘

برطانیہ کے ایک نجی کلینک ڈاکٹر ہیلن میڈیکل کی جی پی اور لائف سٹائل فزیشن ڈاکٹر سلینا گرے کہتی ہیں، ’اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ ٹھنڈا پانی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔‘

وہ اس بات پر بھی زور دیتی ہیں کہ سوشل میڈیا پر دعووں کے باوجود، اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ نیم گرم پانی پینے سے چربی کم ہوتی ہے، میٹابولزم بڑھتا ہے یا یہ جسم کو ’ڈی ٹاکس‘ کرتا ہے۔

ان کے مطابق، ’اگر کسی کو نیم گرم پانی پسند ہے اور اس سے اسے زیادہ پانی پینے کا موقع ملتا ہے، تو یہ ٹھیک ہے، لیکن یہ میٹابولک شارٹ کٹ نہیں ہے۔‘

سنگاپور میں پلنے بڑھنے اور روایتی چینی ادویات کے ماحول میں رہنے والی ۔سلینا گرے کا کہنا ہے کہ ’مجھے اب بھی اپنی ماں کی آواز یاد ہے کہ گرم پانی پیو، یہ جسم کو اندر سے گرم رکھتا ہے۔‘

وہ مزید کہتی ہیں، ’یہ روایات ایسے معمولاتِ زندگی فراہم کرتی ہیں جو قدرتی محسوس ہوتے ہیں، اپنانے میں آسان ہیں اور ثقافتی معنی بھی رکھتے ہیں۔‘

تحقیق کیا کہتی ہے؟

اگرچہ گرم پانی پینے کے فوائد کے لیے بہت کم ٹھوس شواہد موجود ہیں، لیکن تحقیق بتاتی ہے کہ کچھ دوسرے روایتی طریقے فائدہ مند ہو سکتے ہیں۔

مثلاً مکمل قدرتی اجزا سے بنا گرم ناشتہ ٹھنڈے اناج سے زیادہ غذائیت بخش ہو سکتا ہے۔

اگرچہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ ٹھنڈے پاؤں بیماری کا باعث بنتے ہیں، جسم کو گرم اور آرام دہ رکھنا آرام دہ اور بہتر نیند کی وجہ بن سکتا ہے۔

کچھ چھوٹے لیکن امید افزا مطالعات سے پتہ چلا ہے کہ روایتی چینی مشقیں جیسے تائی چی اور چیگونگ جسم کی طاقت اور لچک کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ تناؤ کو کم کرنے میں مدد کر سکتی ہیں۔

چینی طب کے ماہر شون اؤ کا کہنا ہے کہ ’اکثر ہماری روزمرہ کی زندگی میں، ہمارا دماغ بہت تیزی سے چلتا ہے، اور ہمارا جسم اور دماغ مختلف جگہوں پر ہوتا ہے۔‘

وہ مزید کہتے ہیں، ’مراقبہ ہو چیگونگ یا تائی چی، ان کا مقصد اسے سست کرنا ہے۔‘

ڈاکٹر بروکس کا خیال ہے کہ نیم گرم پانی پینے کے صحت کے لیے کوئی خاص فوائد نہیں ہیں، لیکن یہ ذہنی طور پر فائدہ مند ہو سکتا ہے۔

وہ کہتی ہیں، ’یہ ایک طرح کا معمول ہے جو آپ کو اپنے لیے کچھ وقت دیتا ہے، جسے ہم اپنی مصروف زندگی میں اکثر بھول جاتے ہیں۔‘

مریم خان کا بھی کہنا ہے کہ صبح گرم پانی پینا اپنے لیے کچھ وقت نکالنے کے مترادف ہے اور انھوں نے اپنی ذہنی صحت پر مثبت اثر محسوس کیا ہے۔

وہ کہتی ہیں، ’میں اسے پرسکون ہونے اور اپنے دن کی شروعات سوچ سمجھ کر کرنے کے ایک موقع کے طور پر لیتی ہوں۔‘