امریکہ کی عراق میں اپنے فوجی طیارے کی تباہی میں چھ ہلاکتوں کی تصدیق: ’KC135‘ کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

مطالعے کا وقت: 6 منٹ

امریکی حکام نے عراق میں اپنا فوجی طیارہ گرنے کے واقعے میں چھ امریکیوں کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس طیارے پر عملے کے چھ اراکین سوار تھے۔ حکام کے مطابق ہلاک شدگان کے اہلخانہ کو مطلع کرنے کے بعد اُن کی شناخت ظاہر کی جائے گی۔

امریکی فوج کا KC-135 ایندھن بھرنے والا طیارہ جمعرات کو مغربی عراق میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ اس بارے میں امریکی فوج نے بتایا تھا کہ طیارہ ’دوستانہ ملک کی فضائی حدود‘ میں گر کر تباہ ہوا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ فوج کا ایک کے سی 135 ایندھن بردار جہاز ’دو طیاروں کے درمیان پیش آنے والے ایک واقعے‘ کے بعد گِر کر تباہ ہوا۔

امریکی حکام کے مطابق اس واقعے میں دوسرا طیارہ بحفاظت لینڈ کر گیا تھا لیکن ایک طیارے کو حادثہ پیش آیا۔ ایندھن بھرنے والا طیارہ فضا میں لڑاکا طیاروں کو ایندھن فراہم کرنے کے کام آتا ہے۔

دوسری جانب ایران کے حمایت یافتہ ایک عسکریت پسند گروہ نے عراق میں امریکی فوجی طیارے پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق عراق میں ایران کے حمایت یافتہ مسلح دھڑوں کے اتحاد ’اسلامک مزاحمتی گروپ عراق‘ نے امریکی طیارے پر حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا۔

گروپ کے مطابق اس نے امریکی فوجی طیارے کو ’عراق کی قومی خودمختاری اور فضائی حدود کے دفاع‘ میں نشانہ بنایا تاہم سینٹرل کمانڈ کا کہنا تھا کہ اس واقعے میں ’دوستانہ یا دشمن کے فائر کا کوئی عمل دخل نہیں‘۔

سینٹ کام کی جانب سے طیارے کے حادثے کی تصدیق کے چند منٹ بعد ہی ایران کے اندر موجود خبر رساں اداروں نے بھی دعویٰ کیا کہ طیارے کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق اس واقعے میں شامل دوسرا طیارہ بحفاظت لینڈ کر گیا۔

طیارے میں کتنے افراد سوار تھے، اس بارے میں ابھی تک کوئی معلومات نہیں اور نہ ہی ہلاکتوں کے بارے میں کوئی اطلاع ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ یہ واقعہ عراقی فضائی حدود میں پیش آیا تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ پڑوسی ملک ایران سے کتنی دور پیش آیا۔

یہ ایندھن بھرنے والے ٹینکر طیارے جنگ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ وہلڑاکا طیاروں اور بمباروں کو فضا میں دوران پرواز ایندھن فراہم کرتے ہیں، جس سے وہ طویل فاصلے تک پرواز کر سکتے ہیں۔

’ہم عملے کی سلامتی کے لیے دعا گو ہیں‘

امریکی قانون سازوں نے بھی ایندھن بھرنے والے طیارے کے حادثے پر ابتدائی ردِعمل دیا۔

ڈیمو کریٹس رُکن کانگریس جم ہیمز نے بی بی سی نیوز نائٹ کو بتایا کہ اس واقعے کی وجہ کا تعین کرنا ابھی ’بہت قبل از وقت‘ ہے۔

جم ہیمز کا کہنا تھا کہ ’یہ تنازع کی ناگزیر قیمت کا حصہ ہے، یہاں تک کہ بہترین فوج کو بھی حادثات کا سامنا رہتا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ یہاں ایسا ہی ہوا۔‘

امریکی ایئر فورس کے نقصان اور ایرانی فضائیہ کیخلاف کارروائی کے دعوے

خیال رہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران کے خلاف شروع کی گئی کارروائی کے بعد سے لے کر اب تک چار امریکی طیاروں کی تباہی کی تصدیق ہو چکی ہے۔

ایندھن بھرنے والے طیارے کے اس حادثے سے قبل یکم مارچ کو امریکہ کے تین ایف 15 طیارے تباہ ہو گئے تھے۔

سینٹ کام کی جانب سے دو مارچ کو جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا تھا کہ تین امریکی ایف 15 ’سٹرائیک ایگلز‘ ’فرینڈلی فائر‘ کی وجہ سے گر گئے۔

بیان میں کہا گیا تھا ایرانی طیاروں، بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں کے دوران امریکی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کو کوِیتی ایئر ڈیفنس نے غلطی سے مار گرایا تھا۔ سینٹ کام کے مطابق اس واقعے میں تمام پائلٹس محفوظ رہے تھے۔

سات مارچ کو اسرائیل کی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ تہران کے قریب مہرآباد ہوئی اڈے میں تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا اور اس دوران متعدد ایرانی لڑاکا طیاروں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

بعدازاں مختلف کارروائیوں میں اسرائیل کی جانب سے ایرانی فضائیہ اور اس کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں تاہم آزادانہ ذرائع سے یہ تصدیق نہیں ہو سکی کہ اب تک ایرانی فضائیہ کے کتنے طیارے تباہ ہوئے ہیں۔

لڑاکا طیاروں میں ایندھن کیسے بھرا جاتا ہے؟

یہ ایک بہت بڑا لاجسٹک آپریشن ہوتا ہے، جس میں ایک ہی وقت میں بہت سے طیارے فضا میں موجود ہوتے ہیں۔

فضا میں ایندھن بھرنے کے عمل میں لڑاکا طیارے کو ٹینکر طیارے کے بہت قریب آنا پڑتا ہے۔ اس کے بعد ٹینکر سے فیول پائپ نکال کر نیچے کی طرف لایا جاتا ہے۔

ایندھن لینے والا ہوائی جہاز اس پائپ کے قریب آتا ہے اور ٹینکر کے نیچے نصب لائٹ سسٹم کی مدد سے اپنی پوزیشن درست کرتا ہے، تاکہ پائپ کو جہاز سے جوڑا جا سکے۔

پائپ جڑنے کے بعد ایندھن کی منتقلی شروع ہو جاتی ہے اور یہ عمل کئی منٹ تک جاری رہ سکتا ہے۔

اس دوران طیارہ ٹینکر سے صرف چند فٹ کے فاصلے پر پرواز کرتا ہے اور اکثر یہ کام رات کو کیا جاتا ہے۔

پائلٹ کو اس وقت کے دوران پائپ یا بعض اوقات شٹل کاک کی شکل والے ڈروگ سے رابطہ برقرار رکھنے کے لیے کافی مہارت کی ضرورت ہوتی ہے، خاص طور پر جب قریب میں بہت سے دوسرے طیارے اڑ رہے ہوں۔

کئی بار دشمن سے بچنے کے لیے طیاروں کی لائٹس بھی مکمل طور پر بند رکھی جاتی ہیں۔

KC-135 میں عام طور پر تین افراد کا عملہ ہوتا ہے۔ ایک پائلٹ، معاون پائلٹ اور ایک بوم آپریٹر جو فضا میں ایندھن کی منتقلی کے اس عمل کو کنٹرول کرتا ہے۔

امریکی فضائیہ کے مطابق اس کے پاس تقریباً 400 ٹینکر طیارے ہیں۔