فیس بُک کی انفلوئنسرز کو ماہانہ تین ہزار ڈالر دینے کی پیشکش: اس سکیم سے کون فائدہ اٹھا سکتا ہے؟

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنکانٹینٹ کریئیٹرز کو ماہانہ 15 ریلیز فیس بُک پر پوسٹ کرنی ہوں گی
    • مصنف, عمران رحمان-جونز
    • عہدہ, ٹیکنالوجی رپورٹر
  • مطالعے کا وقت: 4 منٹ

فیس بُک اپنے ’کانٹینٹ فاسٹ ٹریک پروگرام‘ کے تحت بڑے انفلوئنسرز کو فیس بُک پر اپنا کانٹینٹ (مواد) پوسٹ کرنے کی عوض ماہانہ تین ہزار ڈالر کی پیشکش کر رہا ہے۔

فیس بُک، جس کے دنیا بھر میں صارفین کی تعداد اب تین ارب تین ارب سے زائد ہو چکی ہے، کا کہنا ہے کہ یہ سکیم اُن کانٹینٹ کریئیٹرز (تخلیق کاروں) کے لیے ہے جن کے دیگر ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارمز جیسا کہ انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور یوٹیوب پر ایک ملین (یعنی 10 لاکھ) سے زیادہ فالوورز ہیں۔

تاہم کم فالوروز رکھنے والے بھی اس سکیم کے تحت ماہانہ ایک ہزار ڈالر کما سکتے ہیں۔

فیس بک کی پیرنٹ کمپنی ’میٹا‘ کا کہنا ہے کہ انھوں نے سنہ 2025 میں مختلف مونیٹائزیشن پروگرامز کے ذریعے تخلیق کاروں کو تقریباً تین ارب ڈالر ادا کیے ہیں۔

کانٹینٹ کریئیٹر گروپ ’سائیڈمین‘ کے مینیجر جورڈن شوارٹزن برگَر کہتے ہیں کہ ’ایک کانٹینٹ کریئیٹر (تخلیق کار) کے طور پر آپ ہمیشہ اپنے ناظرین کی پسند کا خیال رکھتے ہیں اور اُن کے پیچھے چلتے ہیں، اس لیے (فیس بُک کی جانب سے ماہانہ تین ہزار ڈالر کی پیشکش) سے مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ مجھے فیس بُک اور میٹا دونوں پسند ہیں، لیکن اُن کی جانب سے اٹھایا گیا یہ اقدام صارفین کی تعداد بڑھانے کی ایک مایوس کُن کوشش محسوس ہوتا ہے۔‘

میٹا کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق اُن کا ’کریئیٹر فاسٹ ٹریک پروگرام‘ اُن کانٹینٹ کریئیٹرز کے لیے ہے جنھوں نے فیس بُک کو ابھی جوائن کیا ہے یا وہ اس پلیٹ فارم پر دوبارہ فعال ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یہ پروگرام فی الحال امریکہ اور کینیڈا میں دستیاب ہے اور اس کے تحت کانٹینٹ کریئیٹرز کو زیادہ سے زیادہ تین ماہ تک ادائیگی کی جائے گی۔

اس پروگرام کا حصہ بننے والے کانٹینٹ کریئیٹرز کو ثابت کرنا ہو گا کہ اُن کے ٹک ٹاک، یوٹیوب یا انسٹاگرام پر 10 لاکھ سے زائد فالوورز ہیں، اور کامیاب امیدواروں کو ہر ماہ فیس بُک پر 15 ریلز یا مختصر دورانیے کی ویڈیوز پوسٹ کرنا ہوں گی۔

دیگر پلیٹ فارمز پر ایک ملین سے کم فالوورز رکھنے والے کانٹینٹ کریئیٹرز کو اسی سکیم کے تحت ماہانہ ایک ہزار ڈالر تک کما سکتے ہیں۔

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنایک ملین سے کم فالوروز رکھنے والے بھی اس سکیم کے تحت ایک ہزار ڈالر ماہانہ کما سکتے ہیں
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

شوارٹزن برگَر، جو مینجمنٹ کمپنی آرکیڈ کے چیف ایگزیکٹو اور بانی بھی ہیں، نے بی بی سی کو بتایا کہ ’فیس بُک گذشتہ تقریباً ایک دہائی سے کانٹینٹ کریئیٹرز کی ترجیح نہیں رہا ہے۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ حقیقت یہ ہے کہ عام صارفین کانٹینٹ کریئیٹرز سے پہلے پلیٹ فارمز پر جاتے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ فیس بک پر زیادہ کانٹینٹ کریئیٹرز لانے سے ضروری نہیں کہ اُن کو دیگر پلیٹ فارمز پر فالو کرنے والے بھی فیس بک پر واپس آئیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’امکان ہے کہ وہی مواد (جو کانٹینٹ کریئیٹرز تین ہزار ڈالر ماہانہ لے کر فیس بُک کے لیے بنائیں گے) انھیں (فالوروز کو) ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور دیگر پلیٹ فارمز پر بھی مل جائے گا۔‘

سائیڈمین، جس میں ’کے ایس آئی‘ اور ’وِک سٹار‘ جیسے انتہائی مقبول انفلوئنسر شامل ہیں، فیس بُک پر اپنا مواد دوبارہ پوسٹ تو کرتے ہیں، لیکن شوارٹزن برگَر کے مطابق یہ مواد کوئی ’خاص توجہ‘ حاصل نہیں کر پاتا۔

اور پھر بات آتی ہے رقم کی، جو شوارٹزن کے بقول ’یقینی طور پر کافی نہیں ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’زیادہ تر کانٹینٹ کریئیٹرز (جن کے فالوورز ایک ملین سے زیادہ ہیں) وہ برانڈ ڈیلز، یوٹیوب کی براہِ راست آمدنی یا ممبرشپس کے ذریعے کہیں زیادہ پیسے کما لیتے ہیں۔‘

فیس بک 15 ریلز اپ لوڈ کرنے پر ماہانہ تین ہزار ڈالر ادا کرے گا، جو فی ویڈیو تقریباً 200 ڈالر بنتے ہیں۔ شوارٹزن برگَر کے مطابق ’یہ رقم تو کچھ کانٹینٹ کریئیٹرز کے ایک ویڈیو پر اٹھنے والے پروڈکشن اخراجات بھی پورے نہیں کرتی، اس لیے میرے نزدیک یہ رقم کوئی خاص معنی نہیں رکھتی۔‘

میٹا کے اس نئے پروگرام کے تحت کانٹینٹ کریئیٹرز کو فیس بُک کے مونیٹائزیشن پروگرام تک رسائی بھی ملے گی، جو ویوز کی تعداد، ناظرین کے دیکھنے کے دورانیے اور دیگر عوامل کی بنیاد پر ادائیگی کرتا ہے۔

تاہم، شوارٹزن برگَر کا خیال ہے کہ ’یہ پروگرام صرف چھوٹے تخلیق کاروں کو ہی اپنی جانب راغب کرے گا، جن کی فیس بُک پر موجودگی، اُن کے مطابق 'کوئی حقیقی اثر نہیں ڈالی گی اور نہ ہی کوئی صارفین کی بڑی تعداد (فیس بُک پر) لائے گی۔‘