انگلینڈ سے شکست کے بعد پاکستان کا سیمی فائنل تک رسائی کا اگر مگر والا نیا کھیل: ’اب سب کچھ نیوزی لینڈ پر منحصر ہے‘

Pakistan vs England

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مطالعے کا وقت: 7 منٹ

ٹی 20 ورلڈ کپ کے سپر ایٹ مرحلے کے اہم میچ میں انگلینڈ نے ٹی 20 ورلڈ کپ میں سپر ایٹ مرحلے کے دوسرے میچ میں پاکستان کو شکست دے دی ہے۔ انگلینڈ نے 165 رنز کا ہدف آخری اوور میں حاصل کر لیا۔

انگلینڈ کی اننگز کی خاص بات ہیری بروک کی 51 گیندوں پر سینچری تھی۔ ان کی اس اننگز پر انھیں خوب داد مل رہی ہے۔ انگلینڈ کے سابق کپتان سے لے کر پاکستانی کرکٹرز بھی انھیں سوشل میڈیا پر شاباشی دیتے نظر آئے۔ جب 100 رنز پر شاہین آفریدی نے ہیری بروک کو بولڈ کیا تو پھر انھوں نے جشن نہیں منایا بلکہ سیدھا ان کے پاس گئے اور ان سے ہاتھ ملایا اور انھیں اس اننگز پر داد دی۔

اس میچ میں پاکستان کی طرف سے شاہین آفریدی نے انگلینڈ کے چار کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔ عثمان طارق اور محمد نواز نے دو دو وکٹیں حاصل کیں۔

پاکستان کی طرف سے سب سے زیادہ رنز صاحبزادہ فرحان نے بنائے جو 45 گیندوں پر 63 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

سری لنکا کے پالیکلے سٹیڈیم میں منگل کو پاکستانی کپتان سلمان علی آغا نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا، جو کہ اننگز کے آغاز میں اچھا فیصلہ نہیں محسوس ہوا۔

پاکستان، انگلینڈ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

صائم ایوب ایک بار پھر کوئی بڑا سکور کرنے میں ناکام رہے اور اننگز کے تیسرے ہی اوور میں سات رنز بنا کر جوفرا آرچر کی گیند پر کیچ آؤٹ ہو کر پویلین واپس لوٹ گئے۔ ان کے بعد کپتان سلمان علی آغا کریز پر آئے لیکن وہ بھی مجموعی سکور میں کچھ زیادہ بڑا اضافہ نہیں کر سکے۔

سلمان علی آغا صرف پانچ رنز بنا کر آؤٹ ہوئے اور اس طرح 27 رنز کے مجموعی سکور پر پاکستان کی دوسری وکٹ گِر گئی۔

اس کے بعد اوپنر صاحبزادہ فرحان اور بابر اعظم نے ٹیم کو سہارا دینے کی کوشش کی، لیکن اپنے پرستاروں میں ’کنگ‘ کے نام سے مشہور بابر اعظم بھی زیادہ دیر وکٹ پر رُک نہیں سکے اور 24 گیندوں پر 25 رنز بنا کر پویلین واپس لوٹ گئے۔ ان کے علاوہ فخر زمان نے 16 گیندوں پر 25، شاداب خان نے 11 گیندوں پر 23، عثمان خان نے پانچ گیندوں پر آٹھ اور شاہین شاہ آفریدی اور سلمان مرزا نے دو، دو رنز بنائے۔

صاحبزادہ فرحان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ٹاپ آرڈر پر تنقید

ٹی20 ورلڈ کپ میں پے در پے ناکامیوں کے بعد صائم ایوب، سلمان علی آغا اور بابر اعظم شدید تنقید کی زد میں نظر آ رہے ہیں۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان محمد یوسف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر صائم ایوب کی بیٹنگ میں تکنیکی خرابیوں کو اُجا گر کرتے ہوئے لکھا کہ ’یہ غلطیاں اتنے اونچے لیول پر بہت مہنگی ثابت ہوتی ہیں۔‘

پاکستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنبابر اعظم 24 گیندوں پر 25 رنز بنا کر آوٹ ہوئے

پاکستانی کپتان کے بارے میں انھوں نے لکھا کہ ’سلمان علی آغا کو بیٹنگ آرڈر میں نیچے بیٹنگ کرنی چاہیے جہاں ان کو اپنا نیچرل گیم کھیلنے کا زیادہ وقت ملے گا۔‘

ایک صارف نے طنز و مزاح کا سہارا لیتے ہوئے لکھا کہ ’جن کے گھر صائم ایوب کے ہوتے ہیں انھیں دوسروں کے ابھیشیک شرما پر بات نہیں کرنی چاہیے۔‘

Yousuf

،تصویر کا ذریعہX

خیال رہے انڈیا کے جارح مزاج اوپنر ابھیشیک شرما بھی ورلڈ کپ میں کوئی خاطر خواہ کارکردگی نہیں دکھا سکے ہیں اور انھیں شائقین کی طرف سے تنقید کا سامنا ہے۔

کرکٹ پر گہری نظر رکھنے والے صحافی مظہر ارشد سمجھتے ہیں کہ عادل رشید نے بابر اعظم پر اتنا دباؤ ڈالا کہ وہ اوورٹن کی گیند پر رسک لینے کے چکر میں آؤٹ ہو گئے۔

دوسری جانب سابق پاکستانی فاسٹ بولر شعیب اختر فخر زمان کو پانچویں نمبر پر بیٹنگ پر بھیجنے پر ٹیم مینجمنٹ سے نالاں نظر آئے۔

Mazhar Arshad

،تصویر کا ذریعہX

پاور پلے میں کم اوسط سے رنز بنانے پر بھی پاکستانی بیٹرز کو تنقید کا سامنا ہے۔

ہارون رشید نے لکھا کہ ’پاکستان کے ٹاپ آرڈر بیٹرز کو پولیس میں ڈٹیکٹو ہونا چاہیے تھا۔ گیارہ میں سے صرف دو فیلڈر پیچھے فیلڈنگ کر رہے ہیں اور تب بھی بیٹرز انھیں ڈھونڈنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔‘

تاہم کچھ تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ یہ پاکستان کی سب سے اچھی ٹیم ہے۔ انڈین کمنٹیٹر ہرشا بھوگلے لکھتے ہیں کہ ٹورنامنٹ شروع ہونے کے بعد سے سب کچھ پاکستان کے حق میں جا رہا ہے ’شاید انھوں نے اپنی بہترین ٹیم کا انتخاب کر لیا ہے۔‘

ہیری بروک

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’ہیری بروک نے کمال کر دکھایا ہے‘

پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹر محمد یوسف نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر لکھا کہ ہیری بروک نے کمال کر دکھایا اور انگلینڈ کو سیمی فائنل میں پہنچا دیا ہے۔ کیا شاندار مقابلہ تھا۔ انھوں نے کہا کہ ’پاکستان کا دشوار سفر ابھی جاری ہے۔‘

انگلینڈ کے سابق کپتان مائیکل وان نے تبصرہ کیا کہ ہیر بروک کو تیسرے نمبر پر کھیلتے ہوئے دیکھ کر مجھے لگنے لگا ہے کہ یہ ممکن ہے۔ یہ وہ اننگز ہے جو ثابت کرتی ہے کہ انگلینڈ ٹیم میں ہمارے پاس ایک بہترین کھلاڑی موجود ہے۔

کرکٹ مبصر ہرشا بھوگلے نے ہیری بروک کے کھیل پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’بلا شبہ یہ ٹی 20 ورلڈ کپ کی تاریخ کی عظیم ترین سنچریوں میں سے ایک ہے۔ یہ ہیری بروک کے کریئر میں ایک سنگِ میل ثابت ہوگی۔‘

پاکستان کے سابق کرکٹر محمد حفیظ نے لکھا کہ تکنیکی غلطیوں نے نہ صرف اس میچ میں بلکہ پورے ٹورنامنٹ میں ہی تعاقب جاری رکھا۔

امرکرک نامی صارف نے لکھا کہ آغا کی ناقص کپتانی اور کھلاڑیوں کے انتخاب میں عجیب فیصلے شاید پاکستان کو سیمی فائنل تک پہنچنے سے محروم کر گئے ہیں۔

@MichaelVaughan

،تصویر کا ذریعہ@MichaelVaughan

پاکستان کی اب سیمی فائنل تک رسائی کیسے ممکن ہے؟

صحافی فیضان لاکھانی نے تبصرہ کیا کہ ’پاکستان کے لیے اگر مگر کا کھیل شروع ہو چکا ہے۔‘

ٹی 20 ورلڈ کپ کے سپر ایٹ مرحلے میں پاکستان کی مہم ایک ایسے موڑ پر آ پہنچی ہے جہاں قسمت کا دروازہ اب خود پاکستان کے ہاتھ میں نہیں رہا۔

انگلینڈ کے خلاف شکست کے بعد سیمی فائنل تک رسائی کا راستہ تنگ ہو چکا ہے، اور اب پوری قوم کی نظریں نیوزی لینڈ کے میچز پر جمی ہوئی ہیں۔

نیوزی لینڈ کے پاس ابھی دو میچ باقی ہیں۔ پاکستان کے لیے سیمی فائنل کا دروازہ کھلا رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ قسمت بھی ساتھ دے اور نیوزی لینڈ کی کارکردگی بھی پاکستان کے حق میں جائے۔

پاکستان اور انگلینڈ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پہلا منظر: نیوزی لینڈ دونوں میچ ہار جائے

اگر کیویز اپنے دونوں باقی میچ ہار جاتے ہیں، تو پاکستان کے لیے راستہ آسان ہو جائے گا۔ صرف سری لنکا کے خلاف ایک جیت پاکستان کو سیمی فائنل میں پہنچا سکتی ہے۔ یہ وہ منظر ہے جس کی دعا ہر پاکستانی کر رہا ہے۔

دوسرا منظر: نیوزی لینڈ ایک میچ ہارے، ایک جیتے

یہ وہ موڑ ہے جہاں کہانی میں سنسنی بڑھ جاتی ہے۔ ایسی صورت میں پاکستان کو نہ صرف سری لنکا کو ہرانا ہوگا بلکہ بڑے مارجن سے جیتنا ہوگا تاکہ نیٹ رن ریٹ بہتر ہو سکے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں ہر چوکا، ہر چھکا، ہر وکٹ اہم ہو جاتی ہے۔

تیسرا منظر: نیوزی لینڈ دونوں میچ جیت جائے

اگر ایسا ہوا تو کہانی یہیں ختم — پاکستان کی ورلڈ کپ مہم سیمی فائنل سے پہلے ہی اختتام پذیر ہو جائے گی۔ یہ وہ انجام ہے جس سے ہر پاکستانی بچنا چاہتا ہے۔