گلف سٹریم جہاز کی ویانا میں موجودگی پر تنازع: پنجاب حکومت کا ’من گھڑت کہانیوں پر مبنی‘ مہم کے خلاف قانونی کارروائی کا اعلان

G500

،تصویر کا ذریعہGulfstream

    • مصنف, ترہب اصغر
    • عہدہ, بی بی سی اردو، لاہور
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

پنجاب حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ سرکاری گلف سٹریم جہاز سے متعلق ’بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈا مہم‘ میں حصہ لینے والے افراد اور پلیٹ فارمز کے خلاف ہتک عزت کے قوانین کے تحت کارروائی کرے گی۔

یہ وہی جہاز ہے جو گذشتہ مہینے بھی سوشل میڈیا پر موضوعِ گفتگو بنا ہوا تھا اور سوال اُٹھ رہے تھے کہ یہ جہاز کسی نئی ایئر لائن کے لیے خریدا گیا ہے یا وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے استعمال کے لیے۔

اس جہاز پر نیا تنازع اس وقت کھڑا ہوا جب دوبارہ سوشل میڈیا پر خبریں گردش کرنے لگیں کہ یہ لگژری گلف سٹریم طیارہ آسٹریا کے شہر ویانا میں موجود ہے اور پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ کے صاحبزادے جنید صفدر اس کا استعمال کر کے یورپ گئے ہیں۔

انسٹاگرام پر جنید صفدر الزامات کی تردید کر چکے ہیں اور کہہ چکے ہیں کہ وہ اس وقت لاہور میں ہیں لیکن اس کے باوجود بھی افواہوں کا سلسلہ رُکنے کا نام نہیں لے رہا۔

حکومت کا مؤقف اور سوشل میڈیا پر ردِ عمل

اس طیارے کی ویانا میں موجودگی کی تصدیق پنجاب کی وزیرِ اطلاعات اعظمیٰ بخاری نے کی تھی اور کہا تھا کہ ’پنجاب حکومت کا جہاز تکنیکی معائنے کے لیے ویانا گیا ہے، جس کے بارے میں جاری قیاس آرائیاں نہ صرف حقائق کے برعکس ہیں بلکہ افسوسناک بھی ہیں۔‘

’ایک متعین مدت میں جہاز کا تکنیکی معائنہ کنٹریکٹ کا حصہ ہوتا ہے۔ معمول کے معائنے پر بے پر کی اڑانے والوں کو بامقصد کاموں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔‘

Gulfstream

،تصویر کا ذریعہGulfstream

تاہم ان کی وضاحت کے باوجود سوشل میڈیا پر افواہوں کا سلسلہ نہ رُک سکا، جس کے بعد سینیئر صوبائی وزیرِ مریم اورنگزیب نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک پیغام میں لکھا کہ ’پنجاب حکومت کے سرکاری طیارے کے استعمال کے بارے میں جھوٹ، من گھڑت کہانیوں اور بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈا کی ایک منظم مہم چند معروف جھوٹ کے عادی عناصر اور جعلی خبریں پھیلانے والوں کی جانب سے چلائی جا رہی ہے۔‘

انھوں نے اعلان کیا کہ صوبائی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اس مہم میں شامل ہر فرد اور پلیٹ فارم کے خلاف ہتک عزت قانون 2024 کے تحت کارروائی کی جائے گی۔

دوسری جانب وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے صاحبزادے جنید صفدر نے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر لکھا کہ ’میں نے گلف سٹریم (جہاز) استعمال نہیں کیا ہے اور نہ ہی میں اسے ویانا لے کر گیا ہوں۔‘

تاہم سوشل میڈیا صارفین سمجھتے ہیں کہ حکومت کو قانونی کارروائی کے بجائے شہریوں کو ان کے سوالات کے جوابات دینے چاہییں۔

اس سے قبل وزیرِ اطلاعات اعظمیٰ بخاری نے کہا تھا کہ یہ جہاز ایئر پنجاب نامی حکومتی ایئر لائن کے لیے خریدا گیا ہے۔

مریم نواز اور نواز شریف کے سابق ترجمان محمد زبیر نے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے مریم اورنگزیب کو جواب دیا: ’میں آپ کا نقطہ سمجھتا ہوں لیکن آپ کو اس معاملے کی ہینڈلنگ پر بھی غور کرنا چاہیے۔ اگر وزیرِ اطلاعات نے پہلے شفافیت کے ساتھ تفصیلات فراہم کی ہوتیں تو معاملہ یہاں تک نہ پہنچتا۔‘

’مثال کے طور پر اعظمیٰ نے کہا کہ یہ جہاز پنجاب ایئر کے لیے تھے، اس کے بعد پنجاب حکومت بیانیہ کھو بیٹھی اور اب بھی اسے مشکلات کا سامنا ہے۔‘

X

،تصویر کا ذریعہX

خیال رہے پنجاب حکومت کے ترجمان ادارے ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز نے گذشتہ برس اپریل میں ایک اعلامیہ جاری کیا تھا جس میں پہلی مرتبہ ’ایئر پنجاب‘ کا ذکر سامنے آیا۔

ڈی جی پی آر کے بیان میں کہا گیا تھا کہ وزیرِ اعلیٰ نے خصوصی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پاکستان کی پہلی صوبائی اِیئر لائن ایئر پنجاب کے قیام کی منظوری دی۔

ڈی جی پی آر کے مطابق وزیر اعلی نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ اس ایئر لائن کے لیے فوری طور پر چار ایئر بس طیارے لیز پر حاصل کیے جائیں۔

وزیر اعلی کا کہنا تھا کہ ایئر پنجاب ابتدائی مرحلے میں ڈومیسٹک پروازیں چلائے گی اور ایک برس بعد بین الاقوامی پروازیں بھی شروع کی جائیں گی۔

X

،تصویر کا ذریعہX

تاہم ابھی تک گلف سٹریم جہاز کو نہ تو پنجاب حکومت نے اپنے نام پر رجسٹر کروایا ہے اور نہ ہی یہ جہاز کسی ایئر لائن کے فلیٹ کا حصہ ہے۔

ماہرِ معیشت ڈاکٹر علی حسنین نے بھی مریم اورنگزیب کو کہا کہ وہ ’پنجاب کے ٹیکس دہندگان کو جہاز کی قیمت کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کریں۔ بتائیں کہ اس کی کیا ضرورت تھی اور اس کے بجائے ایک چھوٹے جہاز، ہیلی کاپٹر یا گاڑیوں کا انتخاب کیوں نہ کیا گیا۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’آپ اس جہاز کے فلائٹ ڈیٹا کو شیئر کرنے کا بھی وعدہ بھی کریں۔‘

پنجاب حکومت کی جانب سے قانونی کارروائی کے فیصلے پر صحافی رؤف کلاسرا نے لکھا کہ ’اگر سیاستدان عوامی پیسہ استعمال کرتے ہیں تو انھیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کے بجائے سوالات کے جوابات دینے کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے۔‘

اس طیارے کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

گلف سٹریم G500 لگژری طیارے امریکی کمپنی ’گلف سٹریم ایئرو سپیس‘ تیار کرتی ہے۔ کمپنی کی ویب سائٹ کے مطابق گلف سٹریم جیٹ طیارے مسافروں کی آسائش کی سہولیات سے لیس ہیں اور تیز رفتاری کے ساتھ مسافروں کو اُن کی منزل مقصود پر پہنچاتے ہیں۔

ویب سائٹ کے مطابق گلف سٹریم GVII-G500 لانگ رینج لگژری ایئر کرافٹ وقت بچاتا ہے اور یہ 1000 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اُڑتے ہوئے ایک ہی پرواز میں آٹھ ہزار 334 کلومیٹر تک سفر طے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ویب سائٹ کے مطابق اس طیارے میں 13 مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے جبکہ طویل روٹس کے دوران مسافر طیارے میں آرام بھی کر سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کے مطابق نیا G500 طیارہ ساڑھے چار کروڑ ڈالر تک میں فروخت ہوتا ہے۔

کمپنی کی جانب سے ویب سائٹ پر دی گئی ایک عمومی G500 کی تصاویر کے مطابق جدید سہولیات سے آراستہ اس طیارے میں مسافروں کے آرام اور سہولت کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔ طیارے میں آرام دہ صوفہ سیٹس کے ساتھ ساتھ کھانے پینے کے لیے ڈائننگ ٹیبل بھی موجود ہیں۔

ایک نجی ایئر لائن سے وابستہ پائلٹ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ اسے ’بزنس جیٹ کہا جاتا ہے اور یہ دُنیا بھر میں بزنس ٹائیکون اور اہم حکومتی شخصیات استعمال کرتی ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’بڑے ارب پتی افراد اور شخصیات ان جہازوں کا ذاتی استعمال کرتے ہیں۔ خاص طور پر عرب ریاستوں کے حکمران اور اشرافیہ ان جہازوں کا استعمال کرتی ہے۔‘

Gulfstream

،تصویر کا ذریعہGulfstream

اُنھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ خالصتاً ایک بزنس جیٹ ہے اور اس میں اتنی نشستیں نہیں ہوتیں کہ اسے کمرشل بنیادوں پر استعمال کیا جا سکے۔‘

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ ’پاکستان میں طیارے کی خریداری یا لیز پر لینے کا طویل عمل ہے جس کے لیے پہلے سول ایوی ایشن اتھارٹی کو درخواست دینا پڑتی ہے اور پھر لائسنس ملتا ہے اور اس کے بعد پائلٹ ہائر کیا جاتا ہے اور اس کے بعد طیارہ خریدا جاتا ہے۔‘