ارشد پپو: لیاری گینگ وار کے اہم کردار کی جرم میں لپٹی زندگی اور تشدد سے بھری موت کی کہانی

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, جعفر رضوی
- عہدہ, صحافی، لندن
- مطالعے کا وقت: 40 منٹ
انتباہ: اس تحریر میں موجود تفصیلات چند قارئین کے لیے پریشان کن ہو سکتی ہیں۔
’کٹی ہوئی انگلیوں سے خون بڑی تیزی سے بہہ رہا تھا مگر اُس سے بھی زیادہ تیزی سے ارشد پپّو کی زبان سے گالیاں جاری تھیں۔ مرتے بلکہ قتل ہوتے وقت بھی وہ خوفزدہ ہرگز نہیں تھا۔ آپ اِس کو پپّو کی بے رحمی کہیں، بہادری مانیں یا جو چاہیں سمجھ لیں۔‘
یہ الفاظ اُس سابق سرکاری افسر کے ہیں جو اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مجھے لیاری گینگ وار کے سب سے بے رحم کرداروں میں سے ایک یعنی ارشد پپّو کی جرم میں لپٹی زندگی اور تشدد سے بھری ہوئی موت کی کہانی سنا رہے تھے۔
ارشد پپّو اور رحمٰن ڈکیت دونوں ہی اس خونی داستان کے سفاک کردار تھے جسے دنیا ’لیاری گینگ وار‘ کہتی ہے۔ رحمٰن ڈکیت اور ارشد پپّو دونوں تھے تو جانی دوست مگر اپنی اپنی موت سے پہلے ایک دوسرے کی جان کے دشمن بن چکے تھے۔
ارشد پپّو کو 13 سال قبل 17 مارچ 2013 کی شب اپنے بھائی اور ایک دوست کے ہمراہ ایک انتہائی مشتعل ہجوم میں شدید تشدد کے بعد قتل کر دیا گیا تھا لیکن ارشد پپو کون تھا اور کن حالات میں مارا گیا؟
یہ کہانی جاننے کے لیے لیاری کو جاننا ضروری ہے۔

،تصویر کا ذریعہSindh Police
لیاری گینگ وار
شہری سہولتوں سے محروم، شدید غربت اور پسماندگی کا شکار یہ آبادی دراصل دو حصّوں پر مشتمل ہے۔ کراچی بندرگاہ سے جڑی مولوی تمیز الدین روڈ سے لے کر لیاری ندی (لیاری ریور) تک ایک حصّہ لیاری کہا جاتا ہے جبکہ ندی کی دوسری جانب جہان آباد، میوہ شاہ قبرستان، پرانا گولیمار، پاک کالونی اور شیر شاہ تک کا علاقہ ’ٹرانس لیاری‘ کہلاتا ہے۔
1950 اور 1960 کی دہائی میں لیاری ندی کے دونوں جانب کئی جرائم پیشہ گروہ علاقہ وار متحرک تھے جہاں ان کی علیحدہ علیحدہ ’سلطنتیں‘ قائم تھیں۔ جہان آباد سے پاک کالونی، میوہ شاہ، پرانا گولیمار اور شیر شاہ کباڑی بازار تک کے علاقوں پر حاجی لالو کا راج تھا جن کا اصلی نام تھا حاجی لعل محمد۔ ہماری کہانی کے مرکزی کردار ارشد پپّو نے 1972 میں حاجی لالو کے گھر میں ہی آنکھ کھولی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سینیئر صحافی اور جیو نیوز کراچی کے سابق بیورو چیف فہیم صدیقی کے مطابق ’پپّو، لالو کے سات بیٹوں میں سب سے زیادہ بے رحم تھا۔‘ وہ کہتے ہیں کہ ’انتہائی سفّاک، جارح مزاج اور بے رحم، راہ چلتے لوگوں سے بلا وجہ کے جھگڑے۔ یہ سب پپّو کی روزمرّہ زندگی کا حصّہ تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
2006 میں ایس پی لیاری تعینات رہنے والے سابق پولیس افسر فیاض خان کا کہنا ہے کہ صرف لالو یا ٹرانس لیاری جرم میں اَٹے ہوئے نہیں تھے۔ ’ندی کے دوسرے کنارے پر کلاکوٹ کی افشانی گلی میں بھی کچھ اسی طرح کی بادشاہت داد محمد (دادل) کی بھی تھی۔‘
یہ داد محمد (دادل) دراصل رحمٰن ڈکیت کے والد تھے۔
سرکاری حکام اور ریکارڈ کے مطابق سنہ 1976 میں پیدا ہونے والا (عبدالرحمٰن بلوچ یا) رحمٰن ڈکیت، کلاکوٹ کی افشانی گلی میں واقع اسلام روڈ پر علی ہوٹل کے قریب ’دادل ہاؤس‘ کا رہائشی تھا۔ وہ دادل کی دوسری زوجہ کے بطن سے تھا۔
رحمٰن ڈکیت کے والد دادل چار بھائی تھے جن میں شیر محمد (شیرو) بیک محمد (بیکل) اور تاج محمد بھی شامل تھے۔
حاجی لالو ہی کی طرح دادل اور شیرو بھی اپنا گروہ چلا رہے تھے۔ دادل کے بھائی تاج محمد کی حاجی لالو سے پرانی دوستی بھی تھی۔
لیاری کے جرائم پیشہ گھرانوں میں پیدا ہونے والے رحمٰن ڈکیت اور ارشد پپّو بھی کئی برس تک ایک دوسرے پر جان دینے والے دوست رہے۔ تو پھر ایسا کیا ہوا کہ جان دینے پر تیار دوست ایسے دشمن بنے کہ ایک دوسرے کی جان لینے پر ہی تُل گئے؟
ارشد پپّو کی کہانی کے اس سب سے بڑے سوال کا جواب دراصل خود ارشد پپّو کی یہ کہانی ہی ہے۔
بالکل فلمی انداز کی اصلی زندگی کی اس کہانی میں ایک ولن بھی تھا۔ نام تھا اقبال عرف استاد بابو ڈکیت۔
بابو ڈکیت کا مسلّح اور خطرناک گروہ کلری، چاکیواڑہ، کمہار واڑہ اور آس پاس کے محلّوں میں منشیات اور جرائم کے کاروبار سے منسلک تھا۔
1990 کی دہائی کے ابتدائی زمانے تک دھندے پر اجارہ داری کے لیے ان تمام گروہوں کے درمیان کھینچا تانی آہستہ آہستہ باقاعدہ و منظم جنگ میں ڈَھل گئی اور ایک دن استاد بابو نے رحمٰن ڈکیت کے چچا تاج محمد کو قتل کر دیا۔

،تصویر کا ذریعہJAFFAR RIZVI
استاد بابو کی یہ پیشہ ورانہ دشمنی صرف رحمٰن ڈکیت کے خاندان تک محدود نہیں تھی۔ بابو کی رقابت و چپقلش ارشد پپو کے باپ لالو سے بھی تھی۔ تو جب استاد بابو کے ہاتھوں رحمٰن ڈکیت کے چچا تاج محمد کا قتل ہوا تو اس قتل کا بدلہ لینے اور رحمٰن کے خاندان کی مدد کے لیے لالو ڈھال بن کر سامنے آیا۔
لالو نے رحمٰن ڈکیت کو اپنے دائرہِ عافیت میں لے لیا۔ رحمٰن ڈکیت کے ایک قریبی رشتے دار (فرسٹ کزن) نے ایک ریکارڈڈ گفتگو میں مجھے بتایا کہ ’جب جھگڑوں (قتل کی وارداتوں) کے بعد ہمارے خاندان کے جرگے ہوتے تھے تو حاجی لالو بھی شریک ہوتا تھا۔ وہ ہمارے خاندان (کے بزرگوں) سے کہتا تھا۔۔۔ یہ لڑکا (رحمٰن ڈکیت) مجھے دے دو۔۔۔ یہ لڑکا مجھے دے دو۔ لالو کو رحمٰن میں بہت کچھ دکھائی دیتا تھا۔ لالو ایول جینیئس (شیطانی ذہانت سے بھرپور) تھا۔‘
لیاری گینگ وار کے نچلے درجے کے ایک کردار نے بھی اپنی موت سے قبل کراچی جیل میں ہونے والی ایک ملاقات میں مجھے بتایا تھا کہ ’لالو نے رحمٰن ڈکیت کو بلا وجہ اپنی سرپرستی میں نہیں لیا تھا۔۔۔ لالو بہت آگے تک دیکھتا تھا۔‘
رحمٰن کے ایک بزرگ عزیز نے مجھے بتایا کہ فوجی آمر جنرل ضیا الحق کے زمانہِ اقتدار میں رحمٰن ڈکیت کے والد دادل کو ’منشیات و دیگر جرائم کے مقدمے میں جیل جانا پڑا اور جیل ہی میں دل کے عارضے سے دادل کی موت واقع ہو گئی۔‘

،تصویر کا ذریعہFacebook
یعنی کم عمری میں والد دنیا سے چلے گئے تھے اور پھر سرپرستی کرنے والے چچا کو قتل کر دیا استاد بابو نے۔ تو اب کم عمر اور اکیلے رحمٰن ڈکیت کے ساتھ باپ، چچا کے گنے چُنے ساتھی ہی تھے جبکہ بابو بہت سے کارندوں کا خطرناک گروہ چلا رہا تھا۔ بابو کا مشترکہ خطرہ اور دھندے کے مفادات یکساں ہوئے تو ارشد پپّو کا باپ لالو اور پپو کا دوست رحمٰن ایک دوسرے کی ’ضرورت‘ بن گئے۔
لالو کی سرپرستی میں عادی جرائم پیشہ رحمٰن ڈکیت قتل و غارت کے اس راستے کا ایسا مسافر بنا جس نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ لالو ہی کی مدد سے رحمٰن نے آخرِ کار بابو ڈکیت اور اُس کے بیٹے کو بھی قتل کر کے اپنے چچا تاج محمد کے قتل کا بدلہ بھی لیا۔
پولیس اور خفیہ اداروں کی ایک مشترکہ تفتیش کے دوران رحمٰن نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ اُس نے 5 جون 2004 کو ریکسر لین کی عثمانیہ مسجد کے قریب واقع مولا بخش بیکری کے عقب میں جاری شادی کی ایک تقریب میں بابو ڈکیت کے بیٹے نعیم کو قتل کر دیا اور محض 18 روز بعد یعنی 23 جون 2004 کو چمن شاہ پلاٹ عید گاہ لین، کلاکوٹ کے قریب بابو ڈکیت کو بھی تب مار ڈالا جب وہ ایک رکشے میں عدالت جارہا تھا۔
بابو کو رحمٰن کے بھائی شریف نے گولی ماری۔ اس حملے میں بابو ڈکیت، رکشہ ڈرائیور عبدالغنی اور بابو کا محافظ ساجد تینوں ہلاک ہوئے۔
یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ لالو نے رحمٰن ڈکیت کی مدد کی ہو۔ رحمٰن پر لالو کی سرمایہ کاری کی ابتدا بہت پہلے ہی ہو چکی تھی۔
رحمٰن ڈکیت کے ایک کزن نے مجھے بتایا کہ جب سنہ 1993 میں راشد منہاس روڈ سے متصّل کراچی کے مشرقی علاقے ’ڈالمیا‘ میں رحمٰن کے چچا زاد بھائی (یعنی شیر محمد شیرو کے بیٹے) فتح محمد بلوچ کا قتل ہوا تھا تو الزام لگا تھا لیاری کے علاقے سنگُوُ لین کے سلیمان بروہی کے بیٹے غفور پر۔
سلیمان بروہی دراصل (6 اگست 1990 سے 5 مارچ 1992 تک سندھ کے وزیر اعلیٰ رہنے والے) جام صادق علی کے بزنس پارٹنر تھے۔
فتح محمد کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے جب رحمٰن کے خاندان کا ایک باقاعدہ جرگہ منعقد ہوا تو لالو وہاں بھی موجود تھا۔ رحمٰن کے ایک اور رشتے دار نے بھی ریکارڈڈ گفتگو میں مجھے بتایا کہ رحمٰن کا خاندان اس معاملے پر لالو کی مدد لینے پر راضی نہیں تھا ’کیونکہ حاجی (لالو) ہمارے خاندان کا رکن نہیں تھا ناں۔۔۔ قتل تو ہمارے خاندان کے رکن کا ہوا تھا۔ تو بلوچ روایت کا تقاضا تھا کہ بدلہ بھی خاندان ہی کے لوگ لیں۔ خاندان سے باہر کے لوگوں سے بدلے کے لیے مدد لینا بلوچوں کی بہادری اور روایات دونوں کے خلاف تھا۔‘
رحمٰن کے خاندانی ذرائع کے مطابق اس بدلے کے لیے بھی لالو نے رحمٰن کی بھرپور مدد کی اور رحمٰن نے سلیمان بروہی کو نارتھ ناظم آباد کے علاقے میں ڈی سی سینٹرل آفس کے پاس قتل کردیا۔ کزن نے کہا کہ ’لالو کی مدد ایسا احسان بن گئی جسے ہمارا (رحمٰن ڈکیت کا) خاندان ہمیشہ مانتا رہا اور رحمٰن ڈکیت سمیت خاندان کے کئی بزرگ بھی حاجی لالو کے ممنون و احسان مند رہے۔‘

،تصویر کا ذریعہJAFFAR RIZVI
یہ وہ دور تھا جب سیاسی منظر نامے پر موجود ہر جماعت، گروہ اور تنظیم میں مسلح جتّھوں کو غلبہ حاصل ہو رہا تھا۔ پیپلز پارٹی ہو یا (اُس وقت تک الطاف حسین کی قیادت میں متحد اور مہاجر قومی موومنٹ کہلانے والی) ایم کیو ایم، جماعت اسلامی ہو یا قوم پرست تنظیمیں، سب کے مسلح دھڑے اور عسکری بازو پوری طرح فعال اور سرگرم ہو چکے تھے۔
جب رحمٰن ڈکیت جرم کی زیرِ زمین دنیا (انڈر ورلڈ) میں لالو کا وارث سمجھا جانے لگا تب تک لالو کے اپنے بیٹے ارشد پپّو، عرفات اور دیگر بھی اور جرم و سزا اور قتل و غارت کے اس گھناؤنے کاروبار سے منسلک ہو چکے تھے۔
رحمٰن بھی لالو خاندان کے اتنا قریب ہو چکا تھا کہ اُسے بھی لالو کا بیٹا سمجھا جانے لگا۔ حتّیٰ کہ لالو کے بیٹے عرفات اور رحمٰن دونوں کی شادی گولیمار کے ایک ہی گھرانے یعنی سیٹھ یوسف کی دو بیٹیوں سے ہوئی۔
یہ دوستی جب دوسری نسل میں منتقل ہوئی تو ارشد پپّو اور رحمٰن ڈکیت ’یک جان دو قالب‘ بن گئے۔ کوئی واردات ہو یا عیش و عشرت کی محفل پپّو اور رحمٰن ساتھ ساتھ ہی رہتے تھے۔
دونوں کے اس گٹھ جوڑ نے جرائم کو صنعت بنا کر رکھ دیا۔ شہر کے جنوب میں لیاری سے لے کر شمال مشرقی ضلع ملیر تک، شیر شاہ کے کباڑی بازار سے کلفٹن کی پوش (متموّل) آبادی تک بھتّہ خوری، چھینا جھپٹی، لوٹ مار، گاڑی یا موٹر سائیکل کی چوری اور اغوا کی وارداتیں عروج پر پہنچ گئیں۔
رحمٰن، لالو اور ارشد پپّو کا دھندہ بڑھا تو کام کی تقسیم ضروری ہو گئی۔ فہیم صدیقی کے مطابق تب لالو، ارشد پپو اور رحمٰن ڈکیت کے گینگ کی نئی اور جوان قیادت نے علاقے بانٹ لیے۔ ٹرانس لیاری ارشد پپّو کے حصّے میں آیا اور لیاری رحمٰن کے زیرِ نگیں ہو گیا مگر پیسے کی تقسیم برابر برابر کی بنیاد پر ہوئی۔
رحمٰن کے حصّے کا سارا پیسہ بھی حاجی لالو ہی کے پاس جمع ہوتا رہا۔ دونوں جانب سے رضامندی رہی کہ رحمٰن کو جب ضرورت ہو اپنے حصّے کا پیسہ لے سکتا ہے مگر اب جُرم کا دائرہ لیاری تک محدود نہیں رہا تھا۔ شہر کے دیگر علاقوں تک پھیلنے لگا۔
اور یہی سب سے بڑی غلطی ثابت ہوئی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سرکاری و سیاسی حلقوں سے میری پسِ پردہ گفتگو سے اندازہ ہوتا ہے کہ لیاری سے باہر نکل کر جب بھتہ خوری یا اغوا برائے تاوان جیسی وارداتوں کا معاملہ ایسے علاقوں تک پہنچا، جہاں سیاسی قوّتیں ’سرگرم‘ تھیں تو جُرم و سزا کے اس کھیل کے ’باقی کھلاڑیوں‘ کے ’مالی مفادات‘ پر بھی زبردست ضرب پڑنے لگی۔
سیاسی جماعتوں کے مسلّح بازو کہیں ہفتہ بھتّہ وصول کر رہے تھے تو کہیں جوُا چل رہا تھا۔ جب رحمٰن اور پپّو کے ’گینگ‘ نے سیاسی قوتوں کے زیرِ اثر علاقوں تک اپنے پر پھیلائے تو خطرے کی گھنٹی صرف ’نظام‘ کے کانوں میں نہیں بجی، لالو اور اُس کے بیٹوں کے کانوں میں بھی بجنے لگی۔
لیاری کے باہر کا سیاسی موسم بھی بدل رہا تھا۔ نوے کی اس خونی دہائی میں جیسے جیسے بدامنی بڑھی، ویسے ویسے شہریوں اور تاجر برادری کی بے چینی میں اضافہ ہوا۔ خاص طور پر تاجروں کی جانب سے اغوا برائے تاوان کی بے انتہا اور منظم وارداتوں جیسی شکایات پر بالآخر 19 جون 1992 کو ریاست کی وہ کارروائی شروع ہوئی جسے ’کراچی آپریشن‘ کا نام دیا گیا۔
اس آپریشن کے مقاصد جو بھی رہے ہوں، مگر ایم کیو ایم نے شکایت کی کہ آپریشن کے نام پر صرف اردو بولنے والوں کی اکثریت رکھنے والے علاقوں میں ایم کیو ایم کے کارکنوں اور قیادت کو یکطرفہ کارروائی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
صحافی فہیم صدیقی کے مطابق شاید اسی شکایت کے ازالے اور آپریشن کو سیاسی بدنامی سے بچانے کے لیے وفاقی سطح پر فیصلہ ہوا کہ کراچی میں دیگر لسانی اکائیوں کے جرائم پیشہ افراد کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔
ایسی آبادیوں میں بھی آپریشن یا پولیس کارروائی کا فیصلہ ہوا جہاں صرف اردو بولنے والوں کی آبادی نہ ہو بلکہ بلوچ، سندھی اور پشتون بھی آباد ہوں تاکہ آپریشن کسی مخصوص کمیونٹی یا علاقے کے خلاف نہ لگے۔
جب آپریشن کا دائرہ عادی جرائم پیشہ عناصر اور گروہوں کے خلاف بڑھانا وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی حکومت کی سیاسی مجبوری بن گئی تو بلوچ اکثریتی آبادی اور پیپلز پارٹی کے اپنے گڑھ لیاری میں بھی کارروائی ضروری ہو گئی۔ اور تب ہی 1995 کے ایک دن پولیس نے لالو کے بیٹے اور پپّو کے بھائی عرفات اور رحمٰن ڈکیت کو میوہ شاہ قبرستان کے پاس ایک پُل سے گرفتار کر لیا۔
اس وقت یہ افواہ بھی گردش میں تھی کہ رحمان اور عرفات کی گرفتاری پولیس اور لالو کے درمیان ڈیل کا نتیجہ تھی۔
صحافی فہیم صدیقی نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’رحمٰن ڈکیت اور لالو کے بیٹے عرفات کی گرفتاری سے قبل پولیس نے لالو سے کہا کہ سیاسی قوتوں کے عسکری دھڑوں کے ساتھ ساتھ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بھی کارروائی ضروری ہو گئی ہے اور چونکہ رحمٰن اور لالو کے گینگ کا نام سیاسی طور پر بہت اچھالا جا رہا ہے لہٰذا اب لالو، اپنے گینگ سے رحمٰن ڈکیت اور کسی بیٹے کو پولیس کے حوالے کر دے۔‘
صحافی فہیم صدیقی نے بتایا کہ انھیں بھی اپنی تحقیق کے دوران سرکاری افسران کی پس پردہ گفتگو سے پتہ چلا کہ ’لالو نے پہلے تو ذرائع ابلاغ سے گورنر ہاؤس تک پہنچ رکھنے والے بااثر خاندان کی مدد سے حکام سے یہ یقین دہانی حاصل کی کہ اگر وہ عرفات اور رحمٰن کو گرفتاری کے لیے پیش کر دے تو انھیں ماورائے عدالت یا جعلی مقابلے میں قتل نہیں جائے گا۔ پھر لالو نے خود اپنے بیٹے عرفات اور رحمٰن ڈکیت کو پولیس حکام کے حوالے کیا۔‘
گرفتاری ڈیل تھی یا نہیں مگر طے یہ ہوا کہ عرفات اور رحمٰن دونوں کی گرفتاریاں الگ الگ ظاہر کی جائیں۔ (لالو کے بیٹے اور ارشد پپّو کے بھائی) عرفات پر جو مقدمہ بنایا گیا اس میں غیر قانونی اسلحہ ایکٹ نہیں لگایا گیا مگر رحمٰن ڈکیت پر جو مقدمہ درج کیا گیا اُس میں رحمٰن کو اورنگی ٹاؤن سے گرفتار دکھایا گیا اور غیر قانونی اسلحہ کی بازیابی بھی ظاہر کی گئی۔
’کراچی آپریشن‘ کے اس ماحول میں غیر قانونی اسلحہ ایکٹ کے مقدمے میں ملزم کو نچلی عدالت سے ضمانت نہیں مل سکتی تھی۔
اس زمانے میں رپورٹنگ کرنے والے صحافی جانتے ہیں کہ آپریشن سے قبل بعض مقدمات میں ضمانت مشکل ہوتی تھی مگر نچلے عدالتی عملے، ایف آئی آر لکھنے والے پولیس اہلکار سے تعلقات اور پیسے کے ذریعے یہ ممکن بنا لینا بہت آسان ہوتا تھا۔ میجر جنرل نصیر اللّہ بابر جیسے وزیر داخلہ اور ڈاکڑ شعیب سڈل جیسے افسران نے اس کی نشاندہی کی اور پھر سخت عدالتی پالیسی کے ذریعے یہ یقینی بنایا جانے لگا کہ غیر قانونی اسلحے سے متعلق مقدمات میں ضمانت نہ ہو سکے۔
فہیم صدیقی نے مجھ سے گفتگو میں یاد دہانی کروائی کہ 'آپ کو بھی یاد ہوگا کہ اس زمانے میں اسی قانونی پیچیدگی کے تحت صرف عرفات کو ضمانت مل سکی کیونکہ اس کے خلاف گرفتاری کے وقت جو مقدمہ درج کیا گیا تھا اس میں غیر قانونی اسلحے کی برآمدگی ظاہر نہیں کی گئی تھی اور رحمٰن ڈکیت کو اس ہی وجہ سے ضمانت نہیں مل سکی کہ اس کے خلاف مقدمے میں غیر قانونی اسلحہ ایکٹ سے متعلق دفعات شامل تھیں۔'
تو رحمٰن ڈکیت ضمانت پر رہا نہیں ہو سکا۔
خاندانی ذرائع کے مطابق جب رحمٰن نے لالو سے کہا کہ میری بھی ضمانت کروائی جائے اور اس کے لیے میرا وہ پیسہ جو آپ کے پاس ہے، استعمال کیا جائے تو لالو فوراً ہی مکر گیا کہ کون سی رقم ؟ تمہارا کوئی پیسہ میرے پاس نہیں۔
اور رحمٰن کے پیسے کے معاملے میں لالو کے مکر جانے سے اس کہانی نے ایک فیصلہ کُن کروٹ لی۔ لیاری گینگ وار کا حصہ رہنے والے چند سابق کارکنان بتاتے ہیں کہ ’اُس زمانے میں مجموعی طور پر کوئی ایک کروڑ کی رقم تھی جس کا تقاضہ رحمٰن لالو سے کر رہا تھا۔'‘
’پیسے کا دکھ تو شاید کم ہوا ہوگا مگر دغا بازی کے احساس سے رحمٰن کے دل میں لالو کے خلاف پہلی چنگاری ضرور بھڑک اٹھی۔‘
زیر حراست رحمٰن کو اندازہ ہو گیا کہ اب اُس کا راستہ لالو سے الگ ہونے کا وقت آ گیا۔ ایک رشتے دار نے بتایا کہ ’پیشی پر عدالت بھی آتا تھا تو وہ پہلے والا رحمٰن نہیں لگتا تھا۔‘
ایک سرکاری رپورٹ کے مطابق '10 جون 1997 کو رحمٰن کو ایسی ہی پیشی پر کراچی سینٹرل جیل سے لیاری کے قریب ہی واقع سٹی کورٹ لایا گیا جہاں وہ اپنی نگرانی پر مامور اے ایس آئی انتظار حسین اور کانسٹیبل نثار احمد کو چکمہ دے کر فرار ہو گیا۔'
تعلق میں دراڑ گینگ میں دونوں جانب کے وفاداروں کو بھی نظر آنے لگی۔ اب رحمٰن نے لیاری میں اپنے وفاداروں کو قریب کیا اور ٹرانس لیاری میں ارشد پپّو اور لالو نے اپنی گرفت مضبوط کرنا شروع کی۔
رحمٰن ڈکیت کے ایک کزن نے مجھے بتایا کہ ’جب لالو سے رحمٰن کی علیحدگی اور تقسیم واضح ہونے لگی تو میں نے خود رحمٰن سے کہا کہ کیا اب تم اُن لوگوں سے لڑو گے جو (فتح محمد کے قتل کا بدلہ لیتے وقت) ہمارے خاندان کی مدد کر چکے ہیں تو رحمٰن نے جواب دیا کہ نہیں، نہیں۔۔۔ اُن کے ہم پر بڑے احسانات ہیں۔ بلوچ روایت کے خلاف ہوگا کہ میں کہ اُن سے جھگڑ جاؤں۔‘
رحمٰن ارشد پپّو اور حاجی لالو سے الگ ہوا تو رفتہ رفتہ لیاری میں اپنی گرفت مضبوط کرنے لگا۔ اب وہ بھی جرم کی زیرِ زمین دنیا یعنی انڈر ورلڈ کا بڑا نام بنتا جا رہا تھا۔ اسی دوران 2003 میں ایک روز خود حاجی لالو کو بھی پولیس نے دَھر لیا جس نے اپنا دھندہ ارشد پپو کے حوالے کر دیا۔
رحمٰن کے خاندانی ذرائع مجھ سے گفتگو میں ہر مرتبہ اصرار کرتے رہے کہ رحمٰن لالو اور ارشد پپّو سے لڑنا نہیں چاہتا تھا لیکن پھر ایک ایسی وارداتیں رونما ہوئیں جنھوں نے رحمٰن ڈکیت اور ارشد پپّو کے درمیان سلگتی ہوئی اس آگ کو مزید بھڑکایا۔
پہلا قتل عنایت کا ہوا جو ارشد پپّو کا ہم زلف (اہلیہ کی بہن کا شوہر) تھا۔ رحمٰن کے کزن نے مجھ سے ایک ریکارڈڈ گفتگو میں دعویٰ کیا کہ 'عنایت کا قتل نہ تو رحمٰن نے کیا تھا اور نہ رحمٰن اس قتل کے حق میں تھا۔'
’رحمٰن کے لڑکے (گینگ کے کارندے) پہلے میرے پاس آئے کہ ارشد پپّو والے ہماری طرف فائرنگ کر کے جاتے ہیں۔ ہمیں بھی پسٹل دو۔ میں نے کہا پہلے رحمٰن سے تو پوچھ لو کہ وہ راضی ہے جواب دینے پر؟‘
لڑکوں نے رحمٰن سے پوچھا تو اس نے منع کر دیا بلکہ لڑکوں کے پاس جو اسلحہ موجود تھا وہ بھی واپس مانگ لیا تاکہ اُن کی پپّو والوں سے جھڑپ نہ ہو سکے

،تصویر کا ذریعہJaffer Rizvi
کزن نے بتایا کہ مگر کسی نے عنایت کو گولی مار کر قتل کر دیا تو الزام لامحالہ رحمٰن کے لڑکوں پر ہی آیا۔
بدھ 11 اکتوبر 2006 کو بی بی سی اردو کی ایک اشاعت میں بتایا گیا تھا کہ عنایت کا قتل تب ہوا جب رحمٰن ڈکیت کے کسی رشتے دار نے محض 150 روپے کی افیم خریدی۔ اسی خریداری پر ہونے والے جھگڑے کے بعد عنایت کو قتل کر دیا گیا۔
فہیم صدیقی کا دعویٰ ہے کہ عنایت کو قتل سے پہلے بدترین تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔
عنایت کا قتل کسی نے بھی کیا لیکن اس قتل سے ارشد پپّو اور رحمٰن ڈکیت کے درمیان خون کی لکیر ضرور کھنچ گئی۔
فہیم صدیقی کا کہنا ہے کہ اسی اثنا میں پپّو کے گھر پر اچانک ’چھاپے‘ میں پولیس نے پپّو کے ایک بھانجے اور ایک ملازم کو گرفتار کر لیا تو پپّو کو لگا کہ یہ کارروائی بھی پولیس نے رحمٰن کی ایما پر کی۔
پھر وہ ہوا جس نے رحمٰن اور پپّو کی دوستی کو ہمیشہ کی دشمنی میں بدل دیا یعنی فیض محمد (فیضو ماما) کا قتل۔
یہ فیضو ماما دراصل لیاری گینگ وار کے موجودہ ڈان اور رحمٰن ڈکیت کے جانشین عزیر جان بلوچ کے والد تھے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق رحمٰن نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ جب وہ اور لالو ساتھ تھے تب چاکیواڑہ کے علاقے سنگو لین کی جھٹ پٹ مارکیٹ کے قریب سندھ اور بلوچستان جانے والی پبلک ٹرانسپورٹ کے لی مارکیٹ بس اڈّے سے اُن کا گینگ بھتّہ لیتا تھا۔
2001 اور 2002 تک ارشد پپّو کا ایک کارندہ، حاجی مہران شاہ، بظاہر تو اڈے کی یونین کا صدر تھا لیکن درحقیقت وہ ’بیٹر‘ (بھتّہ جمع کرنے والا کارندہ) تھا۔
2002 میں رحمن نے دباؤ اور اثر و رسوخ کے بَل پر مہران کو یونین کی صدارت سے محروم کروا دیا اور اڈّے کے ایک اور ٹرانسپورٹر یعنی فیض محمد (فیضو ماما) کو یونین کا صدر بنوا دیا۔
فیضو، رحمٰن کا وفادار اور بہت خاص آدمی تھا لیکن فیضو کو فوراً ہی ارشد پپّو کا سامنا کرنا پڑا۔ جب ارشد پپّو نے فیضو سے کہا کہ اب بھتّہ رحمٰن کو نہیں ہمیں دینا ہوگا تو فیضو نے پپّو کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔
فہیم صدیقی بتاتے ہیں کہ ’تب ایک دن فیضو کو ایک آلٹو گاڑی میں اغوا کر لیا گیا۔ جب فیضو کی بوری میں بند لاش ماڑی پور میں مچھر کالونی والی جانب ریل کی پٹڑی سے ملی تو اس پر بدترین تشدد کے ایسے نشان تھے کہ جسم کا کوئی حصّہ سلامت نہیں بچا تھا۔ فیضو کی آنکھیں بھی نکال لی گئی تھیں۔‘
فیضو کا قتل 2003 میں ہوا۔ لیاری کے معاملات سے بخوبی واقف اور گینگ وار میں ارشد پپو اور رحمٰن ڈکیت کے اس تنازع سے بہت پہلے ہی دونوں جانب زبردست روابط رکھنے والی لیاری کی ایک اہم شخصیت نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مجھے بتایا کہ گینگ وار میں شامل عناصر کو اپنے طور پر بھی پتہ چل جاتا تھا کہ کون سی واردات میں کون ملوث ہے۔
جب میں رحمٰن ڈکیت کی کہانی پر کام کر رہا تھا تو اسی اہم شخصیت نے مجھے بتایا کہ گینگ وار میں ملوث عناصر نے جلد ہی پتہ لگا لیا کہ فیضو کے قتل میں ارشد پپو اور اس کا ساتھی رستم بروہی ملوث تھے۔
رحمٰن ڈکیت فیضو کا قتل کبھی نہیں بھولا۔
فیضو کا یہی قتل، پہلے رحمٰن ڈکیت اور ارشد پپّو کے درمیان تنازع کی اصل وجہ بنا اور آخرِ کار لیاری گینگ وار کی جڑ بن گیا۔
اس قتل کے بعد رحمٰن ڈکیت نے فیضو کے بیٹے عزیر جان بلوچ کو بالکل ویسے ہی اپنی سرپرستی میں لے لیا جیسے کبھی لالو نے خود رحمٰن ڈکیت کو اپنی سرپرستی میں لیا تھا۔
جلد عزیر رحمٰن کا سب سے قریبی اور چہیتا ساتھی بن گیا۔

،تصویر کا ذریعہPakistan Rangers
سابق پولیس افسر فیاض خان کے مطابق اب ایک جانب حاجی لالو، اس کے بیٹوں ارشد پپّو، عرفات اور دیگر کا گینگ تھا اور دوسری جانب رحمٰن ڈکیت، عزیر جان، بابا لاڈلہ، زاہد، شریف کیچو، فیصل پٹھان کا گینگ۔
فیاض خان کے مطابق محاذ آرائی کے اس رویّے نے دشمنی کی شکل اختیار کی تو لالو کے بیٹے ارشد پپّو نے کلاکوٹ میں رحمان کو راستے سے ہٹانے کی کوشش کی جس میں قسمت کا دھنی رحمن تو بچ نکلا مگر ارشد پپّو کے غیض کا رخ اس کے رشتہ داروں کی جانب ہوا اور ارشد پپّو کے ہاتھوں رحمن کے رشتہ دار مارے جانے لگے۔
رحمٰن ڈکیت کے ایک کزن نے مجھے بتایا کہ ایک روز ارشد پپّو نے بڑے ہی فلمی انداز میں حب چوکی کے پاس رحمٰن کے بہنوئی ارباب دُر محمد کو قتل کر دیا۔
فیاض خان کے مطابق ’پپّو نے قتل سے پہلے فون پر رحمان کو بتایا کہ ’سُن، میں اس کو مار رہا ہوں، سُن۔۔۔ اور پھر اس نے رحمان کے چاچا کو قتل کر دیا۔‘
رحمٰن کے ایک خاندانی عزیز نے بتایا کہ ’پھر (ارشد) پپّو والوں نے رحمٰن کے پھوپھی زاد بھائی انعام کو قتل کر دیا۔انعام بلوچ رحمٰن کے سسر بھی تھے۔ انھیں کلاکوٹ کی میوہ شاہ روڈ پر غریب شاہ مزار کے پاس قتل کیا گیا۔‘
اور پھر تو بات محلّے داروں تک چلی گئی۔ ’یعنی اگر رحمٰن کے علاقے سنگولین کا کوئی لڑکا، پپّو کے علاقے جہان آباد میں ملا میں ملا تو مارا جائے گا اور اگر پپّو کے علاقے میوہ شاہ کا کوئی مکین رحمٰن کے علاقے چاکیواڑہ میں دکھائی دیا تو زندہ واپس نہیں جائے گا۔‘
دو نسلوں کی دوستی سے دشمنی میں بدل جانے والی ارشد پپّو اور رحمٰن ڈکیت کی یہ جنگ یہاں تک آ گئی کہ ایک دوسرے کے خاندان بزرگوں کی قبریں تک مسمار کی جانے لگیں۔
خود مجھے اس داستان کا بہت سا حصّہ سنانے والوں میں سے بھی بعض افراد کے بزرگوں کی قبروں کے بے حرمتی ہوئی۔
کراچی میں جماعتِ اسلامی کے ایک ذریعے کے مطابق اس جنگ میں دونوں جانب سے 260 کے لگ بھگ ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں۔
صحافی اور محقق عزیز سنگہور کا تعلق بھی لیاری سے ہے۔ وہ دو کتابوں کے مصنف ہیں اور انگریزی اخبار ڈان سمیت ذرائع ابلاغ کے کئی اداروں سے وابستہ رہے۔ عزیز سنگہور مجھے بتا چکے ہیں کہ لیاری گینگ وار میں مجموعی طور پر تمام متحارب گروہوں سے تعلق رکھنے والے لگ بھگ ساڑھے تین ہزار افراد قتل ہوئے۔
پاکستانی ٹی وی چینلز اور اخبارات حتّیٰ کہ عالمی ذرائع ابلاغ بھی اُس زمانے میں ایسے ہی اعداد و شمار پیش کرتے رہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ارشد پپّو اور رحمٰن ڈکیت کے درمیان جاری گینگ وار نے جب سیکڑوں جانوں کی بھینٹ لے لی تو اہلیانِ لیاری میں سے چند دانشوروں، صحافیوں، قوم پرست رہنماؤں اور معززینِ علاقہ نے یہ قتل و غارت روکنے کی کوشش کی۔
لیاری میں قائم بلوچ اتحاد تحریک کے سربراہ انور بھائی جان، صحافی سعید سربازی، عزیز سنگہور اور پیپلز پارٹی کے رہنما نبیل گبول نے پارلیمان میں لیاری کی نمائندہ جماعت یعنی پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف زرداری سے ملاقات کی۔
پیپلز پارٹی کے ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مجھے بتایا کہ ’یہ ملاقات تب ہوئی جب زرداری صاحب جیل میں بیمار ہوئے اور علاج کے لیے اپنے قریبی معاون ڈاکٹر عاصم کے کلفٹن میں واقع ہسپتال لائے گئے۔‘
پیپلز پارٹی کے ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس کی تصدیق کی۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک سے زیادہ ذرائع کا کہنا تھا کہ جب آصف زرداری جیل میں تھے تو حاجی لالو بھی وہیں قید تھا۔ جیل میں یا پیشی پر آتے جاتے کبھی کبھار لالو کی علیک سلیک آصف زرداری سے ہو جایا کرتی تھی۔
لیاری سے تعلق رکھنے والے ذرائع کے مطابق ’اس صورتحال میں سب نے بلوچ اتحاد تحریک کے رہنما انور بھائی جان سے درخواست کی کہ وہ ثالث بنیں اور دونوں گروہوں میں صلح کی کوشش کریں۔‘
بلوچ اتحاد تحریک کے سربراہ یعنی انور بھائی جان کا لیاری میں خاصا احترام تھا۔ انور بھائی جان دراصل ارشد پپو کی اہلیہ کے ماموں بھی تھے اور رحمٰن ڈکیت سے بھی اُن کی کسی نہ کسی طرح قرابت داری تھی۔
ابھی انور بھائی جان ثالثی کی کوششیں شروع کر ہی رہے تھے کہ رحمٰن ڈکیت نے 8 جنوری 2005 کو اپنے ساتھیوں کی مدد سے کلاشکوف سے فائرنگ کر کے انھیں ہی قتل کر دیا۔
بعد میں سامنے آنے والی جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق رحمٰن نے گرفتاری کیے بعد تفتیش کاروں کو بتایا کہ انور بھائی جان ارشد پپو سے رشتہ داری کی بنا پر لالو گینگ کی جانب جھکاؤ رکھتے تھے اور اُن کی ثالثی غیر جانبدار نہیں تھی جس کی وجہ سے رحمٰن کو لیاری میں نقصان اور بدنامی کا سامنا تھا۔ اسی لیے جب انور بھائی جان ایک جنازے میں شرکت کے لیے میوہ شاہ روڈ پر غریب شاہ مزار کے پاس کے قریب سے گزرے تو رحمٰن نے انھیں قتل کر دیا۔
انور بھائی جان کے اس قتل کے ساتھ ہی صورتحال بدل گئی۔ ارشد پپّو اور رحمٰن ڈکیت کے درمیان کسی مصالحت یا سمجھوتے کی امید دم توڑ گئی۔

،تصویر کا ذریعہJAFFAR RIZVI
لیکن تب تک رحمٰن ڈکیت لیاری میں اتنا مضبوط ہو چکا تھا کہ سیاسی قوتوں کو بھی اُس کی ضرورت پڑتی تھی۔ بلدیاتی انتخابات ہوں یا قومی و صوبائی اسمبلی کا الیکشن، لیاری میں کامیابی رحمٰن کی مرضی کے بغیر مشکل ہوتی تھی۔
اور ٹرانس لیاری میں ارشد پپّو کی سیاسی رسائی اور پہنچ بھی بہت دور تک ہو چُکی تھی۔ صوبے اور وفاق کے حکمراں سیاسی اتحاد میں ایک قوت یعنی پیپلز پارٹی رحمٰن کی حامی تھی تو دوسری جانب الزام لگا کہ ایم کیو ایم ارشد پپّو کو ساتھ مل چکی تھی۔
ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما اور سابق وزیر داخلہ رؤف صدیقی، سابق گورنر ڈاکٹر عشرت العباد، اور اب ایم کیو ایم پاکستان سے وابستہ سینیٹر فیصل سبزواری سب ہی مجھ سے علیحدہ علیحدہ گفتگو میں تسلیم کرچکے ہیں کہ ایم کیو ایم کے بعض ارکان بھتّے کے دھندے میں ملوث رہے اور یہ معلوم ہوجانے پر خود ایم کیو ایم کی صوبائی حکومت نے کم از کم 48 ایسے افراد کو گرفتار کرکے اُن کے خلاف کارروائی کی اور بعد ازاں ایسے کارکنوں کو پارٹی سے خارج بھی کیا گیا۔
جبکہ ایم کیو ایم (لندن) کے کنوینر مصطفیٰ عزیز آبادی لیاری کے واقعات سے ایم کیو ایم کے کسی بھی طرح کے تعلق سے انکار کرتے ہیں۔ وہ کئی بار مجھے بتا چکے ہیں کہ ’یہ تو منشیات فروشوں کی نسل در نسل دشمنی کا سلسلہ تھا۔ جب قتل و غارت اور بھتہ خوری بڑھی تو ہم نے احتجاج اور ایوانوں میں مذمت ضرور کی کہ بھئی یہ کیا غنڈہ گردی ہو رہی ہے تو ہماری مذمت کو یہ رنگ دے دیا گیا کہ ہمارا اور گینگ وار کا کوئی تصادم چل رہا ہے۔ ہمارا ان سے کیا لینا دینا؟‘
مصطفی عزیز آبادی کا موقف اپنی جگہ مگر اس صورتحال نے رحمٰن پر لیاری میں مشکلات کے دروازے کھول دیے۔
تب ارشد پپو نے چُن چُن کر رحمٰن کے ساتھیوں کو ٹھکانے لگانا شروع کیا اور قتل و غارت عروج پر پہنچ گئی۔ رحمٰن پر زمین اتنی تنگ کر دی گئی کہ اُس کے پاس فرار کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا۔
دھندے اور صورتحال پر دوبارہ قابو پانے کے لیے رحمٰن کو مہلت درکار تھی اور تب تک کے لیے وہ کراچی اور بلوچستان کے سرحدی علاقے حب منتقل ہو گیا۔
اب پورا لیاری ارشد پپّو کی مُٹّھی میں تھا لیکن اس کہانی میں ایک اور کردار بھی تھا جس کا نام تھا چوہدری اسلم۔
کسی زمانے میں ایم کیو ایم کے عسکری بازو سے جُڑے عناصر مجھ سے ہونے والی نجی ملاقاتوں میں الزام لگاتے تھے کہ پولیس افسر چوہدری محمد اسلم خان ایم کیو ایم کے سیکڑوں کارکنوں کی ایسی ہلاکتوں میں ملوث رہے ہیں جنھیں جعلی پولیس مقابلہ یا ماورائے عدالت قتل کہا جاتا ہے۔
لیکن جب 2005 میں ایم کیو ایم کی سیاسی حمایت سے ہی قائم صوبائی حکومت نے لیاری ٹاسک فورس تشکیل دی تو اس کی سربراہی چوہدری اسلم کو ہی سونپی گئی۔
اس فورس کے سربراہ بنے ایس پی چوہدری اسلم۔ رحمٰن تب بھی حب میں اپنے خفیہ اڈّے میں چھپا رہا۔ رحمٰن کے اس خفیہ اڈّے کی اطلاع صرف چوہدری اسلم جیسے ہی کسی افسر کو مل سکتی تھی اور ایک دن مل بھی گئی۔
رحمٰن کے ٹھکانے کی اطلاع ملتے ہی چوہدری اسلم لیاری ٹاسک فورس کی نفری لے کر رحمٰن کو گرفتار کرنے حب پہنچ گئے۔ رحمٰن کو بھی پہلے ہی اطلاع مل گئی کہ کہ چوہدری اسلم کی پولیس ٹیم اُسے گرفتار کرنے آ رہی ہے۔ بھاری نفری کے ہمراہ چوہدری اسلم کے وہاں پہنچتے ہی، پہلے سے مورچہ بند رحمٰن اور اُس کے ساتھیوں نے سب کو گولیوں کے نشانے پر رکھ لیا۔
اس کارروائی میں شریک رہنے والے ایک افسر نے بتایا کہ ’پیٹ میں گولی لگنے سے چوہدری اسلم معمولی زخمی ہوئے اور کراچی پولیس کے ایک اور نامور افسر عرفان بہادر بھی شدید زخمی ہوئے جنھیں ہاتھ اور پیر میں سات گولیاں لگیں۔‘
رحمٰن اور اُس کے ساتھیوں کی مزاحمت اتنی شدید تھی کہ چوہدری اسلم اور عرفان بہادر کے زخمی ہو جانے پر پولیس کو پسپا ہونا پڑا۔ رحمٰن کو گرفتار کرنے کی اس کوشش میں ناکامی پر چوہدری اسلم اور پولیس کو شدید شرمندگی اور ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔
اِس ناکام چھاپے کے بعد رحمٰن کوئٹہ کے سیٹلائٹ ٹاؤن میں واقع اپنے ایک اور خفیہ اڈّے پر منتقل ہو گیا مگر پھر کسی نے چوہدری اسلم کو رحمٰن کے اس اڈّے کا پتہ بھی بتا دیا۔
بی بی سی کو دستیاب ایک خفیہ رپورٹ کے مطابق اطلاع ملتے ہی ’18 جون 2006 کو چوہدری اسلم کی سربراہی میں لیاری ٹاسک فورس نے وہاں بھی چھاپہ مارا۔‘

،تصویر کا ذریعہFacebook/ChaudhryAslam
اس دفعہ چوہدری اسلم نے رحمٰن ڈکیت کو دبوچ ہی لیا۔ چوہدری اسلم نے رحمٰن کی اس گرفتاری کی کہانی بہت سے کرداروں کو خود سنائی اور اُن میں سے ایک نے مجھے سنائی۔ وہ بھی ریکارڈڈ گفتگو میں۔
18 جون 2006 کو ہونے والی رحمٰن ڈکیت کی یہ گرفتاری سرکاری ریکارڈ پر کبھی ظاہر نہیں گئی۔ اسلام آباد میں تعینات رہنے والے ایک اور اعلیٰ افسر نے مجھے بتایا کہ ’اچانک ایک خفیہ فوجی ادارے (آئی ایس آئی نہیں) کے حکام وہاں پہنچے اور رحمٰن کو فوجی تحویل میں لے لیا۔‘
پھر کئی روز تک کسی خفیہ فوجی مرکز پر رحمٰن سے تفتیش کی جاتی رہی۔ تفتیش مکمل ہونے پر فوجی حکام نے رحمٰن کو دوبارہ لیاری ٹاسک فورس کے حوالے کر دیا۔ اب ایک نیا مسئلہ سامنے آیا کہ رحمن کو رکھا کہاں جائے؟ گرفتاری تو ظاہر کی ہی نہیں گئی تھی۔
تو پھر چوہدری اسلم کے ہی مشورے پر اعلیٰ حکام نے یہ فیصلہ کیا کہ بغیر اعلان کے گرفتار رحمن کو پہلے کچھ دن گارڈن پولیس لائنز میں واقع لیاری ٹاسک فورس کے افسر انسپکٹر ناصر الحسن کے گھر پر خفیہ رکھا جائے گا اور پھر سائیٹ کے علاقے میٹرووِل میں واقع (اس وقت کے) ایس ایچ او کلری بہا الدین بابر کی نجی رہائش گاہ پر منتقل کردیا جائے گا۔
واضح رہے کہ کراچی آپریشن میں انتہائی فعال رہنے والے یہ دونوں پولیس افسران بعد میں قتل ہو گئے۔
انسپکٹر ناصر الحسن 2 جولائی 2010 کو قتل کیے گئے اور انسپکٹر بہاؤالدین بابر31 دسمبر 2013 کو قتل ہو گئے۔
خفیہ سرکاری رپورٹ کے مطابق 20 اگست 2006 کی صبح 7:15 رحمٰن ڈکیت انسپکٹر بابر کے گھر سے بڑے ہی ’ڈرامائی انداز‘ میں فرار ہو گیا۔
پانچ ساتھیوں کی مدد سے رحمٰن کے یوں فرار ہو جانے پر پولیس اور دیگر اداروں کے اعلیٰ ترین حلقوں میں کھلبلی مچ گئی۔ شرمندگی اور ندامت سے بھرپور احتسابی عمل شروع ہوا۔
یکم جنوری 2014 کو انگریزی اخبار ڈان میں صحافی عمران ایوب نے اپنی رپورٹ ’بہاؤالدین بابر اے پروفائل‘ میں لکھا کہ بابر کو رحمان کے فرار کے بعد کڑی تفتیش، حراست اور حوالات کے مراحل سے بھی گزرنا پڑا۔
رحمان کی کہانی سے واقف سیاستدان اور چند پولیس افسران کے مطابق ’فوجی حکام کو شک تھا کہ رحمان کے اس فرار میں بابر کی ملی بھگت کا بھی کوئی نہ کوئی کردار ضرور تھا۔‘
انسپکٹر بابر 31 دسمبر 2013 کو ایک حملے میں قتل کر دیے گئے۔
چوہدری اسلم کو بھی سخت تفتیش کا سامنا کرنا پڑا اور پولیس ذرائع کے مطابق رحمٰن کے فرار ہو جانے پر چوہدری اسلم کو جن مراحل سے گزرنا پڑا وہ رحمٰن کے خلاف چوہدری اسلم کے دل میں غصّہ پیدا کرنے کے لیے کافی تھے۔
ارشد نے اپنی باری میں لیاری کا تخت رحمٰن سے چھین تو لیا تھا مگر لیاری واپسی آنے کے بعد اب حملہ کرنے کی باری رحمٰن ڈکیت کی تھی۔ پپّو کا ہر کارندہ، دوست یا حمایتی یا مارا گیا یا علاقہ چھوڑ جانے پر مجبور ہوگیا۔
اب جان بچانے کی فکر ارشد پپّو کو لاحق ہوئی۔ جس لیاری پر پپو نے کبھی راج کیا تھا اب وہی لیاری پپّو اور اُس کے گینگ کے لیے نو گو ایریا‘ بن گئی۔
منگل 10 اکتوبر 2006 کو پولیس نے ارشد پپّو کو دَھر لیا۔ یہ (لیاری کے علاقے) نیا آباد میں چھٹی منزل پر واقع فلیٹ تھا جہاں سے (اُس وقت کے) ایس پی لیاری فیاض خان نے ارشد پپّو کو گرفتار کر لیا۔
سابق ایس پی لیاری فیاض خان نے مجھے بتایا کہ ’یہ گرفتاری ایک زبردست منصوبہ بندی کا نتیجہ تھی۔ فلیٹ چھٹی منزل پر تھا۔ ارشد پپّو اُس روز پولیس سے بچ ہی نہیں سکتا تھا۔‘
بی بی سی اردو کی 11 اکتوبر 2006 کی اشاعت میں بتایا گیا کہ ارشد پپّو کی گرفتاری اتنی بڑی کامیابی تھی کہ اس کا اعلان کراچی کی پولیس کے (اُس وقت کے) سربراہ ڈی آئی جی نیاز صدیقی نے خود کیا اور بتایا تھا کہ پپّو کی گرفتاری پر 30 لاکھ روپے انعام مقرر تھا۔
اُس وقت ارشد پپّو قتل، اقدامِ قتل، اغوا برائے تاوان، بھتّہ، لوٹ مار جیسے سنگین جرائم کے 50 سے زائد مقدمات میں پولیس کو مطلوب تھا۔
پپو کی اہلیہ اسما کا کہنا تھا کہ پپو اس گرفتاری سے ایک ہفتہ قبل تک ایران میں تھا اور عید کرنے کی غرض سے گھر واپس پہنچا تھا کہ سادہ لباس پولیس اہلکاروں نے اُسے گرفتار کر لیا۔ اب ارشد پپّو جیل میں تھا اور رحمٰن ڈکیت کُھل کر کھیل رہا تھا۔
18 اکتوبر 2007 کو بے نظیر بھٹو، فوجی صدر پرویز مشرف کی جانب سے اعلان شدہ انتخابات میں شرکت کی غرض سے بیرونِ ملک سے وطن واپس پہنچیں۔ کراچی میں کارساز کے قریب بے نظیر بھٹو کے استقبالی قافلے پر پہلا خودکش حملہ ہوا اور 140 سے زیادہ لوگ مارے گئے۔ تو لیاری کے لوگوں نے ہی انھیں بحفاظت کلفٹن میں واقع بلاول ہاؤس پہنچایا۔ بے نظیر بھٹو اس حملے میں تو محفوظ رہیں مگر بالآخر 27 دسمبر 2007 کو لیاقت باغ راولپنڈی میں ہونے والے دوسرے بم حملے میں ہلاک ہوگئیں۔
تب تک لیاری اور آس پاس کے علاقوں میں رحمٰن کے اثر نفوذ کا عالم یہ ہوچکا تھا کہ ان علاقوں سے کون صوبائی یا قومی اسمبلی کا رکن بنے گا اور کون ٹاؤن ناظم ہو گا یہ فیصلہ بھی رحمٰن کی مرضی سے ہونے لگا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
رحمان بلوچ کی موت
18 فروری 2008 کے انتخابات تک تو ایک وقت ایسا بھی آیا کہ لیاری کے بلدیاتی انتخابات میں پیپلز پارٹی کے نامزد امیدوار ہار گئے اور جیتے وہ جنھیں رحمٰن ڈکیت کی حمایت حاصل تھی۔
2008 میں ارشد پپّو کو بلوچستان کی ایک عدالت سے اچانک ضمانت مل گئی تو وہ رہا ہو کر کراچی پہنچ گیا۔ ارشد پپّو کے باہر آنے کا مطلب تھا لیاری کے اندر رحمٰن کے لیے مشکل۔ زمین دوبارہ تنگ ہوئی تو رحمٰن نے پھر بلوچستان کا رُخ کیا۔
9 اگست 2009 کے دن، رحمٰن اور اُس کے تین قریبی ساتھی اورنگزیب بلوچ، عقیل بلوچ اور نظیر بلوچ (عرف بلا) پرانا گولیمار سے ایک فور وہیل ڈرائیو میں بلوچستان کے علاقے مندھ کے لئے روانہ ہوئے۔ کسی نے لیاری ٹاسک فورس کے سربراہ چوہدری اسلم کو بھی بتا دیا کہ رحمٰن لیاری سے نکلا۔
چوہدری اسلم اور پولیس کسی کی مدد کے ذریعے اُس مقام پر جا پہنچے جسے زیرو پوائنٹ کہتے ہیں۔ یہاں سے ایک راستہ گوادر کوسٹل ہائی وے اور دوسرا کوئٹہ کی سمت جاتا ہے۔ جہاں یہ راستہ انگریزی کے حرف وائی (Y) جیسی شکل اختیار کرتا ہے چوہدری اسلم اور پولیس کی بھاری نفری نے ایک سیاہ ٹویوٹا گاڑی میں رحمٰن اور اس کے ساتھیوں کو روکا۔
’ان سب کو نیشنل ہائی وے اسٹیل ٹاؤن لے جایا گیا اور نادرن بائی پاس، سپر ہائی وے سے ہوتے ہوئے یہ قافلہ لنک روڈ پہنچا۔ اور رحمٰن ’پولیس مقابلے میں تینوں ساتھیوں سمیت ہلاک ہو گیا۔‘
10 اگست 2009 کو انگریزی اخباروں ڈان اور دی نیشن نے بتایا کہ کراچی پولیس کا کہنا ہے کہ رحمٰن ڈکیت اور اُن کے تین ساتھی پولیس سے جھڑپ میں مارے گئے۔ کراچی پولیس کے سربراہ وسیم احمد نے رحمٰن ڈکیت کی ہلاکت پولیس کی بہت بڑی کامیابی قرار دی۔
سندھ کے سابق گورنر ڈاکٹر عشرت العباد نے بھی مجھ سے گفتگو میں کہا کہ یہ ایک حقیقی پولیس مقابلہ تھا مگر اس سب کے باوجود اس پولیس مقابلے کو عدالت میں چیلنج کردیا گیا۔
انگریزی اخبار ڈان نے 14 اکتوبر 2009 کی اشاعت میں بتایا کہ رحمٰن کی بیوہ فرزانہ نے اپنے وکلا عبدالمجیب پیرزادہ اور سید خالد شاہ کے ذریعے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سرمد جلال عثمانی کی عدالت میں درخواست دائر کی کہ ان کے شوہر کو جعلی مقابلے میں قتل کردیا گیا۔
رحمٰن کی موت پولیس مقابلے میں ہوئی یا ماورائے عدالت قتل تھی۔۔۔ یہ فیصلہ عدالت کو کرنا تھا لیکن رحمان کی پگڑی لیاری گینگ وار کی دوسری نسل کے نمائندے عزیر بلوچ کے سر پر رکھ دی گئی۔
خفیہ رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ عزیر نے لیاری میں ایس پی سے تھانیداروں تک کی سطح کے پولیس افسر اپنی مرضی سے تعینات کروائے جن میں کم از کم سات تھانوں کے انچارج (ایس ایچ اوز) بھی شامل تھے۔
اس تحقیقاتی رپورٹ میں عذیر بلوچ کے حوالے سے یہ لکھا گیا کہ وہ اپنی مرضی کے پولیس افسران کے تبادلے کرواتے رہے۔
کم ہی لوگ جانتے ہیں کہ 10 اکتوبر 1977 کو سنگو لین میں ٹرانسپورٹر فیض محمد کے گھر جنم لینے والا عزیر بچپن سے ہی فٹبال کا شوقین رہا۔
ایک سابق پولیس افسر کے مطابق ’عزیر اپنی زندگی کے آغاز پر جرم و سزا کی اس دنیا سے بالکل الگ تھلگ رہا۔ وہ لیاری جنرل ہاسپٹل میں وارڈ بوائے کی ملازمت کرتا تھا اور عزیر کا باپ تو اسے کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) میں فٹبالر کی حیثیت سے ملازمت دلوانا چاہتا تھا۔‘
اور یہاں ہوئی اس اصلی گینگسٹر فلم میں ایک بالکل نئے کردار کے انٹری ہوئی جس کا تذکرہ 37 برس میں آج میں بھی پہلی بار ہی کر رہا ہوں۔

،تصویر کا ذریعہHABIB JAN/SOCIAL MEDIA
ارشد پپو کی گرفتاری اور پرتشدد قتل
اس کردار کا نام کبھی کسی فلم، کتاب یا پوڈ کاسٹ میں تو کیا، سرکاری کاغذات تک میں نہیں آیا۔ اور یہ کردار تھا اے ایس آئی ذاکر کا جس کی زیادہ تر پوسٹنگ رہی جہان آباد کے علاقے یعنی لالو کے دارالحکومت میں۔
لیاری کے گینگ وار کے معاملات سے بہت اچھی طرح واقف ایک اعلیٰ سرکاری شخصیت نے نام خفیہ رکھنے کی شرط پر مجھے بتایا کہ ذاکر بھی لالو کا بہت با اعتماد ساتھی تھا۔
’جب ارشد پپّو جیل میں تھا تو ذاکر اس سے ملنے بھی جاتا تھا۔ اس کے دس کام بھی کرتا تھا۔ تم سمجھ لو بالکل لالو کے بیٹوں جیسا ہی تھا یہ ذاکر بھی۔‘
لیاری کے مقامی افراد دعویٰ کرتے ہیں کہ 2012 میں حاجی لالو بھی دنیا سے چلا گیا۔ لالو جیسے باپ کا سایہ اُٹھ جانے پر تو ارشد پپّو خاصا اکیلا ہو گیا۔
علاقہ چھنِ چکا تھا۔ لالو کا سایہ اٹھ چکا تھا۔ اگرچہ دوست سے جانی دشمن بن جانے والا رحمٰن بھی مارا جا چکا تھا مگر عزیر کا خطرہ موجود تھا۔ عزیر کی وجہ سے پپّو پر کسی بھی وقت مصیبت آسکتی تھی۔ اس لیے اب ارشد پپّو بھی بہت سوں کو بوجھ لگنے لگا۔
لیاری میں جرم کی دنیا سے تعلق رکھنے والے ہوں یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے ذرائع کا کہنا ہے کہ آج تک کسی کی سمجھ میں ہی نہیں آیا کہ ’وہی اے ایس آئی ذاکر جو پہلے لالو جیسے باپ کا وفادار رہا پھر کئی سال تک پپّو کا قریبی دوست بھی تھا، وہ پپو کو بیچنے کیوں نکل پڑا؟
’ہر اُس شخص کو، جو ارشد پپّو کا پتہ جاننا چاہتا تھا ذاکر یہ پیشکش کرتا پھر رہا تھا کہ وہ پپّو کا پتہ بتا سکتا ہے مگر قیمت ہوگی ایک سے دو کروڑ۔‘
ایک دن ذاکر عزیر تک پہنچ گیا۔
’عزیر نے ذاکر سے کہا کہ اب تو (شراب) پی پی کر ارشد پپو کے گردے خراب ہوچکے ہیں جگر کی بیماری بھی ہے اب تو وہ دو چار سال میں خود ہی مر جائے گا۔ کروڑ دو کروڑ میں کیوں خریدا جائے اُسے؟‘
میرے ذریعے نے بتایا کہ ’اور پپّو کی قیمت کم ہوتے ہوتے 25 لاکھ پر آ گئی۔ تب 25 لاکھ بھی بہت زیادہ پیسے تھے۔ نئی کرولا گاڑی 18 لاکھ کی تھی۔‘
ذاکر نے عزیر جان بلوچ کو بتایا کہ عوامی نیشنل پارٹی کا نوجوان کارکن جمعہ شیر خان عرف شیرا پٹھان اُس کا اور ارشد کا بہت قریبی دوست ہے۔ پپو کے یہ سب دوست شیرا پٹھان اور ذاکر وغیرہ کبھی کبھار ڈیفینس ہاؤسنگ اتھارٹی کے فیز 5 صبا ایوینیو کے بدر کمرشل کے علاقے میں ذاکر کے فلیٹ پر جمع ہوتے ہیں۔
پھر ذاکر اور عزیر نے طے کیا کہ وہ سنیچر 16 مارچ 2013 کو بھی ارشد پپو کو اپنے فلیٹ پر بلوائے گا۔ عزیر نے بھی اسی شام اپنے گھر پر ایک دعوت رکھی۔
میرے قابل اعتبار ذریعے نے بتایا کہ ’عزیر بلوچ نے اس دعوت میں کئی اعلیٰ پولیس افسران کو مدعو کیا۔ جو پولیس افسر اس شام عزیر کی دعوت میں تھے اُن میں سے دو تو اب دنیا سے چلے گئے اس لیے اُن کے نام بھی بتا دیتا ہوں۔ اُن میں ایک تھے ایس پی رئیس غنی، جو بعد میں ہارٹ اٹیک سے فوت ہوئے اور دوسرے تھے اکرم ابڑو، وہ بھی اب دنیا میں نہیں رہے۔‘
عزیر نے اپنے گھر مدعو اعلیٰ پولیس افسران کو کانوں کان بھی خبر نہیں ہونے دی کہ یہ دعوت کیوں دی گئی۔ دوسری جانب عزیر نے لیاری میں تعینات تین پولیس افسران کو پپّو کی ’گرفتاری‘ کی ذمہ داری سونپی۔
ان میں ایس ایچ او کلاکوٹ انسپکٹر جاوید بلوچ، ایس ایچ اور چاکیواڑہ انسپکٹر چاند خان نیازی اور انسپکٹر یوسف بلوچ شامل تھے۔
میرے ذریعے نے بتایا کہ ’کیونکہ اگر ارشد پپو کو اٹھانے لیاری سے عزیر کے گینگ کے لوگ جاتے تو یہ بھی ممکن تھا کہ عزیر کے لوگوں کو دیکھتے ہی پپّو یا اس کے ساتھی فرار یا مقابلے کی کوشش کرتے۔ عزیر کسی حال میں بھی ارشد پپّو کو دبوچ لینے کا یہ موقع کھونا نہیں چاہتا تھا۔‘
طے شدہ وقت پر جب ارشد پپّو اے ایس آئی کی ذاکر کی دعوت پر بدر کمرشل کے فلیٹ پر پہنچا تو پپّو کا بھائی عرفات اور دوست شیرا پٹھان بھی اس کے ساتھ آئے۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق تو پپو کا 10 سال کا بیٹا بھی اُس کے ساتھ تھا۔
ارشد پپو کے قتل کی ایف آئی آر کے مطابق، جو اس کے خاندان نے درج کروائی، میں بتایا گیا کہ ارشد پپو اپنے دس سالہ بیٹے، ایک بھائی اور ایک ساتھی کے ہمراہ 16 مارچ کو ایک پارٹی کے لیے ڈیفینس گیا تھا لیکن رات بارہ بجے کے بعد بیٹے نے واپس آ کر بتایا کہ تقریبا 20 افراد دو گاڑیوں میں آئے اور ارشد پپو سمیت تینوں کو ساتھ لے گئے۔
پولیس ذرائع کے مطابق ہوا کچھ یوں کہ ’پہلے سے طے شدہ منصوبے کے مطابق ذاکر چپس اور کولڈرنکس لانے کا بہانہ کر کے نیچے اتر گیا مگر پپّو، عرفات اور شیرا پٹھان تیسری منزل پر واقع اسی فلیٹ میں ذاکر کی واپسی کا انتظار کرنے لگے۔"
2020 میں منظرعام پر آنے والی جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق عزیر بلوچ نے تفتیش کاروں کو بتایا تھا کہ اُس کی ایما پر تین افسران پولیس کی بھاری نفری لے کر وہاں پہنچ چکے تھے۔
پولیس ذرائع نے مجھے بتایا کہ ’پپو نے فلیٹ کی کھڑکی سے نیچے جھانکا تو باہر ہر طرف سرکاری (اور نجی گاڑیوں میں بھی) پولیس ہی پولیس دکھائی دی۔ فلیٹ تیسری منزل پر تھا۔ کود کر بھاگ جانا ناممکن تھا۔‘
’پھر بھی پپّو نے کھڑکی سے اسلحہ نکال کر پولیس کو دھمکانا چاہا۔ تب ہی اس کو گرفتار کر لینے پر تُل جانے والے تینوں پولیس افسران نے ایک عجیب چال چلی۔ تینوں افسران نے پپّو کو جتا دیا کہ اب فرار یا پولیس سے الجھنا ممکن نہیں۔ اس لیے اگر پپّو خود کو پولیس کے حوالے کر دے تو پولیس بھی گولی نہ چلانے کی ضمانت دینے پر تیار ہے۔‘
پولیس سے ہی تعلق رکھنے والے ایک اور ذریعے نے دعویٰ کیا کہ ’پپو نے تینوں افسروں کو پیشکش کی اگر پولیس اُسے وہاں سے جانے دے تو کافی رقم ادا کی جا سکتی ہے‘ لیکن کسی پولیس افسر نے پپّو کی جانب سے رقم کی پیشکش پر کان نہیں دھرا۔‘
’پپّو کو یہ (جھوٹی) تسلّی ضرور دی کہ پولیس مقابلہ نہیں ہو گا بلکہ انھیں تھانے لے جایا جا رہا ہے۔‘
اور پپّو نے اسی وعدے پر اپنے آپ کو اُن کے حوالے کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی۔
پولیس ذرائع کے مطابق ’پولیس لانے تو گئی تھی صرف ارشد پپّو کو مگر عرفات تو انھیں تحفے کے طور پر مل گیا اور شیرا۔۔۔ وہ تو گیہوں کے ساتھ گھن کی طرح پس گیا۔‘
نیچے لاتے ہی پولیس نے پپو، عرفات اور شیرا سب کو ہتھکڑی پہنا دی، آنکھوں پر پٹّیاں باندھیں اور لے کر چلے مگر تھانے نہیں سنگو لین میں واقع عزیر کے گھر کی جانب۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق پپو کے کم سن بیٹے کو وہیں فلیٹ پر چھوڑ دیا گیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق پپو کو دبوچتے ہی پولیس نے عزیر کو بتایا دیا کہ گرفتاری ہو گئی۔
جب سب عزیر کے گھر کے بالکل قریب پہنچے اور وہاں موجود سینیئر پولیس افسران کو پتہ چلا کہ عزیر کے لوگ ارشد پپّو کو لے آئے ہیں تو وہاں تو کھلبلی مچ گئی۔‘
’کوئی اٹھ کر نوکری بچانے بھاگا۔۔۔۔ کوئی جان بچانے۔‘ جب ارشد پپّو، عرفات اور شیرا کی آنکھوں پر بندھی ہوئی پٹّیاں کھولی گئیں تب عزیر بلوچ، اپنے گینگ کے سب وار لارڈز کے ساتھ ایک ہجوم سمیت موت بن کر سامنے کھڑا تھا۔
انتہائی قابل اعتبار ذرائع کے مطابق عزیر ارشد پپو کو پہلے اپنی والدہ کے سامنے لے گیا اور بتایا کہ وہ اپنے باپ کے قاتل کو لے آیا مگر اُس کی والدہ نے کہا کہ ’اِسے ( پپّو کو) میرے سامنے سے لے جاؤ۔ میں اِسے دیکھنا بھی نہیں چاہتی۔‘
عزیر کے حکم پر میگا فون اور علاقے کی مساجد سے اعلانات کروائے گئے کہ لیاری میں سینکڑوں افراد کے قاتل ارشد پپو کو دھر لیا گیا۔ ’اب جس جس کا حساب ارشد پپّو کی جانب نکلتا ہے ۔۔۔۔ آ جائے۔‘
دیکھتے ہی دیکھتے ہجوم اکھٹّا ہونے لگا۔ اس پوری واردات کی ویڈیو بھی بنائی جاتی رہی۔ ویڈیو بنانے اور دیکھنے والوں نے بتایا کہ پپو، عرفات اور شیرا سب کو بدترین تشدد کرتے ہوئے علاقے بھر میں گھمایا گیا۔
کوئی جوتے مار رہا تھا کوئی ڈنڈے۔۔ کوئی بجلی کے تار سے مار رہا تھا کوئی لوہے کی سلاخ سے۔ کوئی تھپڑوں کی بارش کر رہا تھا کوئی لاتوں اور گھونسوں کی۔ کسی نے ہاتھ پاؤں توڑ دییے تو کسی نے ایک ایک کرکے انگلیاں ہی کاٹ ڈالیں۔ جب تیز دھار آلے سے ایک اک کر کے انگلیاں کاٹ دی گئیں تو کسی ٹھیلے جیسی سواری میں ڈال دیا۔
ایک سابق سرکاری افسر نے مجھے بتایا کہ ’اُس وقت کٹی ہوئی انگلیوں سے خون بڑی تیزی سے بہہ رہا تھا۔۔۔ مگر اُس سے بھی زیادہ تیزی سے پپّو کی زبان سے گالیاں جاری تھیں۔۔ مرتے بلکہ قتل ہوتے وقت بھی وہ خوفزدہ ہرگز نہیں تھا، اب آپ اِس کو ارشد پپّو کی بے رحمی کہیں، بہادری مانیں۔۔۔ جو چاہیں سمجھ لیں۔۔۔ وہ حملہ آور ہجوم کو مسلسل غلیظ گالیاں دیتا رہا۔‘
دیکھتے ہی دیکھتے یہ مشتعل ہجوم ایک پرتشدد جلوس بن گیا۔
لیاری میں میرے رابطوں کے مطابق آخرِ کار یہ جلوس میراں ناکہ اور بروہی چوک کے قریب واقع آدم ٹی ہاؤس کے ایک ایسے گودام کے احاطے تک پہنچا جو اب علاقے کے جرائم پیشہ افراد کی آماجگاہ بن چکا تھا۔ تب تک ارشد پپو، عرفات اور شیرا تینوں ہی تشدد سے نیم جان ہو چکے تھے۔
پھر بعض دعووں کے مطابق پہلے کسی نے گولیاں مار کر تینوں کو قتل کیا اور پھر کسی نے تیز دھار آلے سے پہلے لاشوں کے سروں کو تن سے علیحدہ کر دیا۔
شدید مشتعل ہجوم میں شامل جذبات سے مغلوب افراد نے ارشد پپو اور عرفات کے سر کو ٹھوکروں کی زد پر رکھ کیا۔ ذرائع ابلاغ، سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر اسی کارروائی کو ’کٹے ہوئے سروں سے فٹبال کھیلنے‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
عدالتی ریکارڈ اور خفیہ رپورٹس کے مطابق خود عزیر نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ لاشوں کو جلا کر باقیات گٹر میں بہا دی گئیں۔
ارشد پپو اور عرفات کی لاشیں کبھی نہیں مل سکیں۔
جلد ہی ذرائع ابلاغ نے پولیس اور خفیہ اداروں کے حکام سے ملنے والی اطلاعات پر ارشد پپو کی موت کی خبریں نشر کرنا شروع کردیں۔
اتوار 17 مارچ 2013 کو بی بی سی اردو پر چھپنے والی ایک خبر میں (اُس وقت کے) ڈی آئی جی کراچی ساؤتھ شاہد حیات نے نامہ نگار ارمان صابر سے گفتگو میں تصدیق کی کہ ارشد پپّو ہلاک ہو چکا ہے۔
’ہمیں یہ یقین ہو چکا ہے کہ ارشد پپو ہلاک ہو گیا۔ ابھی تک ہمیں اس کی لاش تو نہیں ملی لیکن ہماری اطلاعات ایسی ہیں جن پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے کہ پپّو ہلاک ہو چکا۔‘
18 مارچ 2013 کو انگریزی اخبار ڈان نے بتایا کہ شیرا کی لاش کی کچھ باقیات تب پولیس کو مل سکیں جب وہ شدید اشتعال انگیزی اور بلوے کے ختم ہو جانے اور ہجوم کے منتشر ہوجانے کے بعد علاقے میں داخل ہو سکی۔
لیاری کے ایک رہائشی اور گینگ وار کے معاملات سے بہت باخبر ایک ذریعے کے مطابق شیرا کی لاش کی باقیات ملنے پر (غالباً) اگلے روز یا تیسرے دن، شیرا کے خاندان نے آخری رسومات کا اہتمام کیا تو اے ایس آئی ذاکر ایک نئی کرولا گاڑی میں عسکری تھری اور کینٹ سٹیشن کے قریب شیرا کی رہائشگاہ پر پہنچ گیا۔
’مگر جیسے ہی ذاکر وہاں پہنچا، (مبینہ طور پر) پہلے ہی سے وہاں موجود ارشد پپو کے دو بھانجوں نے اپنے ہتھیار کی تمام گولیاں چلا کر ذاکر کو وہیں قتل کر ڈالا۔‘
ذرائع ابلاغ کے مطابق 6 اکتوبر 2011 کو (اُس وقت کے) چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چوہدری نے کراچی میں جاری اس بدامنی پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے کراچی اور لیاری کی اس بدامنی کیس کی سماعت شروع کی۔
جب اعلیٰ حکام آئی جی اور چیف سیکریٹری کو بھی شرمندہ کیا جانے لگا تو عزیر سمیت بہت سے افراد معاملے کی سنگینی کا اندازہ ہوتے ہی شہر یا پھر ملک سے باہر چلے گئے۔
ذرائع ابلاغ کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان کے ازخود نوٹس پر بالآخر ارشد پپو، عرفات اور شیرا پٹھان کے قتل کے مقدمہ درج کلاکوٹ تھانے میں درج کیا گیا۔ اس کیس میں عزیر جان بلوچ، اس کے بھائی زبیر جان بلوچ رکن قومی اسمبلی شاہ جہاں بلوچ، ڈاکر ڈاڈا اکرم بلوچ اور یوسف اور دیگر نامزد ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
پولیس افسران کا قتل
میری تحقیق کے مطابق پپّو کوعزیر تک پہنچانے والے تین میں سے دو پولیس افسر انسپکٹر جاوید بلوچ اور چاند خان نیازی دونوں اپنے ایک ساتھی سمیت الگ الگ وارداتوں میں قتل کر دیے گئے۔
31 دسمبر 2021 کو جنگ اخبار نے بتایا کہ (سابق ایس ایچ او) انسپکٹر جاوید بلوچ اور اُن کے ساتھی محمد مصدق کو سولجر بازار نمبر 2 میں اُس وقت قتل کردیا گیا جب وہ سینٹرل جیل کراچی میں واقع انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نمبر 10 میں پیشی کے بعد گھر واپس جا رہے تھے۔ اخبار نے بتایا کہ تعاقب میں آنے والے 2 موٹر سائیکلوں پر سوار 4 ملزمان نے انسپکٹر جاوید اور اُن کے ساتھی کو قتل کیا۔
23 مارچ 2022 کو ڈان نے بتایا کہ برطرف پولیس انسپکٹر چاند خان نیازی اور اُن کے ایک رشتے دار کو تھانہ صدر کی حدود میں قتل کردیا گیا۔ اخبار کے مطابق دوہرے قتل کا واقعہ منگل کو 11 بجے پیش آیا جب سابق جب ایس ایچ او چاند خان نیازی اور ان کے رشتہ دار عبدالرحمٰن، ارشد پپو قتل کیس کی سماعت کے بعد موٹر سائیکل پر واپس گھر آرہے تھے۔
مقتولین جب صدر میں راجا غضنفر علی خان روڈ پہنچے تو موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے ان کا راستہ روکتے ہوئے ان پر گولی چلا دی۔ عبدالرحمٰن تو موقع پر ہی ہلاک ہو گئے مگر چاند خان نیازی جان بچا کر بھاگے تو ملزمان نے تعاقب کرکے نیازی کو کئی گولیاں ماریں۔ وہ ہسپتال جاتے ہوئے دم توڑ گیا۔
اطلاعات کے مطابق عزیر 2013 میں ملک سے فرار ہو گیا۔
30 جنوری 2016 کو بی بی سی اردو نے بتایا کہ عزیر جان بلوچ عالمی ادارے (انٹر پول یا بین الاقوامی پولیس) نے عزیر کو 2014 میں اس وقت گرفتار کر لیا جب وہ جعلی سفری دستاویزات پر دبئی جانے کی کوشش کر رہا تھا۔
بی بی سی اردو نے 4 جولائی 2020 کو بتایا کہ عزیز بلوچ نے گرفتاری کے بعد کئی خفیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی 2016 میں ہونے والی مشترکہ تفتیش میں اعتراف کیا کہ اُس نے ارشد پپو سمیت تینوں مقتولین کو پولیس موبائل کی گاڑیوں میں پولیس افسران اور گینگسٹرز کی مشترکہ مدد سے اغوا کیا ایک گودام میں قتل کرے لاشوں کو آگ لگا دی اور باقیات گٹر میں پھینک دیں۔
اسی رپورٹ کے مطابق عذیر بلوچ نے جے آئی ٹی کو بتایا کہ اس نے پولیس کی مدد سے ارشد پپو کو مار کر اپنے والد کے قتل کا بدلہ لیا۔ جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق سنہ 2013 کو 16 اور 17 مارچ کی شب تین پولیس انسپکٹروں، دیگر اہلکاروں اور اپنے کارندوں کے ساتھ ارشد پپو، یاسر عرفات اور شیرا پٹھان کو اغوا کر لیا گیا اور یہ واردات پولیس موبائلوں کے ذریعے کی گئی جن کا انتظام انسپکٹر جاوید نے کیا تھا۔
عزیر نے اس تفتیش میں تقریباً 198 افراد کے قتل میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا۔
بی بی سی اردو نے 12 مارچ 2017 کو بتایا کہ پاکستانی فوج کا کہنا ہے فوج نے عزیر بلوچ کو غیر ملکی خفیہ اداروں کو ملکی راز فراہم کرنے کے الزام کے تحت اپنی تحویل میں لے لیا۔ فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کی جانب سے ٹوئٹر پر شائع پیغامات میں بتایا گیا کہ عزیر بلوچ کو پاکستان آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت فوجی تحویل میں لیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے سربراہ کے مطابق عزیر بلوچ پر ملک کی جاسوسی یعنی غیر ملکی خفیہ اداروں کو حساس حفاظتی معلومات کی فراہمی کا الزام ہے۔
لیکن کیا لیاری گینگ وار ختم ہو گئی؟
شاید نہیں۔۔۔
اب تیسری نسل اس کا حصّہ بنتی جا رہی ہے۔
25 مارچ 2022 کو پاکستانی اخبار ایکسپریس نیوز نے بتایا کہ رینجرز حکام نے برطرف انسپکٹر شان خان نیازی کے قتل کے الزام میں ارشد پپو کے بیٹے جان عالم کو گرفتار کر لیا۔

























