سٹوڈنٹ بلاگ

    • مصنف, ہوش محمد دھامراہ
    • عہدہ, سندھ یونیورسٹی، جامشورو

بی بی سی اردو نے پاکستان کی جامعات کے طلباء کی آواز اور ان کی آراء کو سامنے لانے کا اہتمام کیا ہے۔ ’ کیا کریں؟‘ کے عنوان سے یہ ہفتہ وار سلسلہ تیرہ ہفتوں تک جاری رہے گا۔

ہر سنیچر کو ہونے والی بحث سے قبل بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر اس ہفتے کی منتخب جامعہ کے طلباء کی جانب سے لکھے گئے بلاگ بھی شائع کیے جائیں گے۔ اس سلسلے کا دوسرا بلاگ یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔

اس موضوع پر اپنی رائے کا اظہار کرنے کے لیے آپ پاکستان کے کسی بھی علاقے سے ہمیں اپنی رائے سے آگاہ کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں مفت فون کر سکتے ہیں۔ نمبر ہے080022275 جبکہ پاکستان سے باہر کے سامعین اپنی رائے کے اظہار کے لیے ہمیں اس نمبر پر فون کرسکتے ہیں: 0092512611139 (یہ نمبر ٹال فری نہیں ہے)

یونیورسٹی ایک ایسا ادارہ ہے جہاں طلب علم شعور اور لاشعور میں فرق سمجھنے لگتا ہے۔ اچھائی اور برائی ہر چیز سے واقف ہوجاتا ہے اور تعلیم کی اصل روح کو سمجھتا ہے۔

یہ ایک ایسا مقام ہے جہاں پر طالب علم کو اپنے اعمال پر اختیار حاصل ہوتا ہے وہ آزاد بن جاتا ہے۔ یونیورسٹی میں طالب علم بہت ساری چیزیں سیکھتا ہے۔جو اس نے شاید پہلے نہ سیکھی ہوں جو اہم بات وہ سیکھتا ہے وہ ہے وقت کا استعمال ۔ جس نے وقت کا صحیح استعمال کیا وہ کامیاب ہو جاتا ہے اور جس نے اپنا وقت ضائع کیا وہ ناکام ہوجاتا ہے ۔ذہن کی سرحدوں کو وسعت ملتی ہے۔ نئے نئے تجربات اور مشاہدات سے روشناس ہوجاتا ہے۔

یونیورسٹی میں رہ کر ایک طالبعلم کو کافی ساری باتوں کے سبب پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کوئی آؤٹلیٹ نہیں ملتا۔

جیسے کہ یونیورسٹی کی چمک دمک والی زندگی اور فیشن۔

کل میرا کیا ہوگا؟

ملک اور ادارے میں ہونے والی مختلف سرگرمیاں اور موجودہ غیر یقینی حالات۔

بڑھتی ہوئی مہنگائی۔

روزگار کی فکر۔

میں جو پڑھ رہا ہوں آگے کام آئے گا یا نہیں؟میرا مستقبل کیا ہوگا۔

ان تمام باتوں کے حوالے سے ایک طالب علم کو موقع نہیں ملتا کہ اپنی بات کسی اور تک پہنچا سکے۔وہ ان سب سوالات اور معاملہ پر سوچتا ہے۔ بات کرنا چاہتا ہے۔ اپنی بات دوسروں تک پہنچانا چاہتا ہے۔ کبھی کبھی خود کی صورتحال بھی اس کو مزید پریشان کر دیتی ہے کہ اس کی کوئی نہیں سنتا۔

اس کے حوالے سے بی بی سی اردو نے طلباء کے لیے ’کیا کریں؟‘ کے عنوان سے پروگرام کا آغاز کیا ہے جس کا پہلا پروگرام سندھ یونیورسٹی میں کیا گیا ہے۔ جہاں پر مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے طلباء نے شرکت کی اور اس پروگرام میں طلباء نے کُھل کر اظہارِ رائے کیا، یہ ایک مکالمہ تھا۔

ایسے پروگرام باہر تو ہوتے ہیں جہاں پر ہر عام وخاص بندے کو اپنے حق کی بات کرنے کی آزادی ہوتی ہے لیکن اس قسم کے پروگرام کا یونیورسٹی میں انعقاد ایک خوش آئندہ بات ہے۔ ایسے پروگرام کے ذریعے طلباء کے شعور میں اضافہ ہوگا اور بغیر کسی خوف کے اپنی آواز کو آگے تک پہنچا سکتا ہے۔

تعلیم حاصل کرنے کے لیے یونیورسٹی ایک آخری سٹیج مانی جاتی ہے، جہاں پر ایک طالب علم اپنی زندگی کے چار سے پانچ سال گزارتا ہے۔ یونیورسٹی میں رہ کر اپنے مستقبل کا لائحہ عمل طے کرتا ہے۔