ظالموں کے نہیں شریفوں کے سبب

ان دنوں پاکستان میں کچھ لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ فلسطینیوں کے حق میں آخر اتنے مظاہرے کیوں ہورہے ہیں اور غزہ کے متاثرین کے لیے کیوں امداد کی اپیلیں ہورہی ہیں جبکہ سوات میں جاری خونریزی کے خلاف نہ تو کوئی بڑا مظاہرہ ہورہا ہے اور قبائلی علاقوں کے لاکھوں بے گھروں کے لیے کوئی وسیع تر امدادی سرگرمی نظر نہیں آرہی۔ ان لوگوں کے بقول ججوں کی بحالی یا سترہویں ترمیم کی تنسیخ کے مطالبے پر تو ہر کوئی کچھ نہ کچھ بول رہا ہے۔لیکن اپنے ہی ملک کے پچھواڑے میں جو آگ لگی ہے اس کی تپش کوئی اور کیوں محسوس نہیں کرپارہا۔ ان لوگوں کا خیال ہے کہ یہ قومی بے حسی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ قومی بے حسی ہے بھی تو کیوں نہ ہو۔ کیا یہ کوئی نئی بات ہے۔
یاد کیجیے جب سینتیس، اڑتیس برس پہلے اسی پاکستان کی چھپن فیصد آبادی سیاسی و عسکری محاذوں پر زبردست مار کھا رہی تھی تو مغربی پاکستان کے کس شہر یا قصبے میں ہزاروں نہ سہی سینکڑوں یا سینکڑوں نہ سہی درجنوں لوگ یہ کہتے ہوئے باہر نکلے ہوں کہ اس بدمعاشی سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے۔ حبیب جالب نے یوں ہی تو نہیں کہا تھا کہ
چاروں جانب سناٹا ہے دیوانے یاد آتے ہیں
اس کے بعد جب بلوچستان پر فروغِ جمہوریت اور وفاق کے دفاع کے نام پر چار برس تک عسکر کشی ہوتی رہی تو بھلا باجوڑ سے تھرپارکر تک کتنے قوم پرستوں یا مذہب پرستوں نے امدادی کیمپ لگائے تھے اور یہ محسوس کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے تھے کہ فیڈریشن یوں نہیں چلا کرتی۔ کمزور ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ زورآور اسے جوتے کی نوک پر رکھ لے۔
اسی طرح جب انیس سو تراسی میں سندھ پورے پاکستان میں بحالی جمہوریت کے لیے جوتے کھا رہا تھا تو کوئٹہ سے گوادر، لنڈی کوتل سے ڈیرہ اسماعیل خان، اور اوکاڑہ سے صادق آباد تک کتنے لوگوں نے ان سندھیوں کے حق میں دھرنا دیا تھا۔
اور جب نوے کے عشرے میں کراچی میں ایک ایک دن میں ڈیڑھ سو لاشیں اٹھائی جارہی تھیں تو ٹھٹھہ سے کشمیر تک ، سبی سے دالبندین تک، راجن پور سے مری تک اور باجوڑ سے کوہاٹ تک کیوں سناٹا چھایا ہوا تھا۔ کتنے لوگوں نے اپنے اپنے رہنماؤں کا یہ کہہ کر گھیراؤ کیا تھا کہ کراچی منی پاکستان ہے اسے خون میں لت پت ہونے سے بچاؤ۔
یا جب آٹھ برس پہلے وسطی پنجاب کے ایک ملین کسان مشرف حکومت کی جانب سے جبری زمینی بے دخلی کے خلاف مزاحمت کررہے تھے تو باقی صوبے تو رہے ایک طرف، ان کسانوں سے صرف ڈیڑھ سو کلومیٹر دور شرقاً غرباً لاہور اور ملتان میں کتنے شہری یا سیاسی حلقوں کے کان پر جوں رینگی تھی۔
چلیے یہ سب چھوڑیے۔ کیا کسی کو یاد ہے کہ سن پینسٹھ کی جنگ یا آٹھ اکتوبر دو ہزار پانچ کے زلزلے کے علاوہ کبھی بھی ایسا ہوا ہو کہ سب لوگوں اور ان کے نمائندہ تمام گروہوں نے بیک وقت یہ آواز بلند کی ہو کہ یہ مسئلہ صرف ان کا نہیں بلکہ ہم سب کا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اگر مرغیاں کووں سے یہ سیکھ لیتیں کہ جب بھی کوئی اجنبی ان کی طرف بڑھے تو آسمان سر پر اٹھا لینا ہے اور ٹھونگیں مار مار کر اس کا ہاتھ زخمی کردینا ہے۔ کیا اس کے بات کسی بھی قصاب کو جرات ہوتی کہ وہ آنکھ بند کرکے مرغیوں کے پنجرے میں ہاتھ ڈال دے۔۔۔۔
کسی کا بڑا عام سا قول ہے کہ:
دنیا مٹھی بھر ظالموں کے سبب نہیں بلکہ کروڑہا شریفوں کی خاموشی کے سبب عذاب میں ہے۔





















