باہر سے آنے والوں کا پاکستان !

- مصنف, وسعت اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
کراچی یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کی ایک خاتون استاد گذشتہ ہفتے نیویارک میں ایک سمینار میں شرکت کے بعد لمبی فلائٹ سے دوبارہ کراچی پہنچیں تو ائرپورٹ سے باہر نکلتے ہی کچھ باوردی افراد نے ان کی گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا۔۔۔’جی ہمیں رپورٹ ملی ہے کہ آپ کا القاعدہ سے کچھ تعلق ہے۔چیکنگ کرنی ہے‘۔ ایک باوردی شخص نے خاتون کا پرس لیتے ہوئے کہا کہ گاڑی کو سائڈ میں لگا کرنیچے اتر آئیں۔ خاتون نے ڈرائیور سے گاڑی کنارے لگانے کو کہا۔ابھی وہ گاڑی سے اتر ہی رہی تھیں کہ تینوں چاروں باوردی لوگ جھٹ سے اپنی سویلین گاڑی میں بیٹھے اور اسے ریورس کرکے نکل لیے۔ پرس میں دیگر اشیاء کے علاوہ خاتون کا پاسپورٹ، ریسرچ نوٹس اور ایک ہزار کے لگ بھگ امریکی ڈالر بھی تھے۔ ائرپورٹ پولیس نے اس ’نامعلوم‘ باوردی گروہ کے خلاف غیرممالک سے پاکستان آنے والوں کو لوٹنے کا ایک اور مقدمہ درج کر کے ایک اور تفتیش شروع کردی ہے۔
پچیس ستمبر کو ایک مصری خاتون اور اس کی چار نوعمر بیٹیوں اور ایک چھ ماہ کی شیرخوار بچی کو ہری پور جیل سے رہا کردیا گیا۔ ان کا کمپیوٹر انجینئیر شوہر ابھی تک زیرِ حراست ہے۔ ان سب کو پولیس نے فارنرز ایکٹ کے تحت زائد از مدت قیام کے جرم میں گرفتار کیا تھا۔ لیکن رہائی کے باوجود ان سے برآمد ہونے والے ڈالرز، پرسنل کمپیوٹر، زیورات، قیمتی کپڑے اور ریسرچ ورک تاحال پولیس کی تحویل میں ہیں۔
پچیس ستمبر کو ہی پنجاب پولیس کے ایک ایس ایچ او انسپکٹر حسن رضا بٹ کو ایک ترک سیاح حمزہ اوغلو کی شکایت پر نوکری سے معطل کر کے حراست میں لے لیا گیا ۔انسپکٹر بٹ جو جلال پور بھٹیاں تھانے کا انچارج تھا اس نے حمزہ اوغلو کو اس وقت حراست میں لیا جب وہ کچھ اور سیاحوں کے ساتھ حافظ آباد کے قریب سے گزر رہا تھا۔انسپکٹر بٹ نے نہ صرف حمزہ سے کرنسی، چمڑے کی پانچ جیکٹیں، موبائل فون اور بال کاٹنے کی دو مشینیں ہتھیا لیں۔بلکہ اس وقت تک بغیر ایف آئی آر کاٹے اپنی تحویل میں رکھا جب تک حمزہ کی ترکی میں مقیم بیوی نے اپنے شوہر کی رہائی کے لیے انسپکٹر کو آٹھ ہزار پانچ سو باون ڈالر کی رقم نہیں بھجوا دی۔
چترال کی وادی کیلاش کے علاقے بھمبوریٹ میں مقامی ثقافت کو برسوں سے محفوظ کرنے میں مصروف ایک یونانی محقق کو اس ماہ کے شروع میں نامعلوم مسلح افراد اغوا کر کے سرحد پار افغان علاقے نورستان لے گئے۔ اغوا کنندگان نے یونانی محقق کی رہائی کے عوض بھاری رقم طلب کی ہے۔
چند ہی ہفتوں کے دوران ہونے والے یہ واقعات مجھے اس لیے یاد آرہے ہیں کہ ستائیس ستمبر کو دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی عالمی یومِ سیاحت منایا گیا ہے۔ اور موقع کی مناسبت سے پاکستان کے محکمہ سیاحت نے ایک بین الاقوامی سیمینار کا بھی اہتمام کیا ہے جس میں ملکی و غیرملکی ماہرین پاکستان کی بیس برس پرانی ٹورزم پالیسی کو موثر بنانے کے لیے تجاویز دیں گے تاکہ جمیعت علمائے اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمان کے بھائی وفاقی وزیرِ سیاحت مولانا عطا الرحمان کی ماہرانہ قیادت میں پاکستان اپنا نظریاتی تشخص و اقدار برقرار رکھتے ہوئے سیاحت سے اتنے ہی پیسے کما سکے جتنے پیسے بھارت، نیپال، ترکی اور مصر وغیرہ کما لے جاتے ہیں۔
مولانا کی جرات مندانہ تقرری اس امر کا بین ثبوت ہے کہ حکومت سیاحت کے شعبے کو کس قدر اہمیت دیتی ہے۔ جبکہ مولانا کے زیرِ انتظام پاکستان ٹورزم ڈویلپمنٹ کارپوریشن ملکی و غیرملکی سیاحتی حالات و تقاضوں سے کس قدر واقف ہے؟ اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ کارپوریشن کی ویب سائٹ پر گذشتہ ایک برس کے دوران بھی سوات کے علاقے کالام، منگورہ اور سیدو شریف کا پیکیج ٹور پیش کیا جاتا رہا۔ ( غالباً سیاحوں کے بے حد اصرار پر ! )



