جنگل کی راہ !

مسیحی احتجاج
،تصویر کا کیپشنگوجرہ میں مشتعل مسلمان ہجوم نے عیسائیوں کے درجنوں گھر نذرِ آتش کردیے
    • مصنف, وسعت اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

یہ بات ہے سترہ جنوری انیس سو ستانوے کی۔ پولیس نے شراب کی غیرقانونی فروخت کے الزام میں جنوبی پنجاب کےضلع خانیوال کے گاؤں شانتی نگر میں راج مسیح کے گھر چھاپہ مارا۔لیکن کوئی بوتل برآمد نہ ہوسکی مگر تلاشی کے دوران انجیل کو اٹھا کر پھینک دیا گیا اور راج مسیح کو تھانے میں بند کردیا گیا۔ مقامی عیسائی آبادی نے انجیل کی بے حرمتی کے خلاف جلوس نکالا۔جس کا نوٹس لیتے ہوئے مقامی انتظامیہ نے کچھ پولیس اہلکاروں کو ڈیوٹی سے معطل کردیا۔مگر پولیس والوں نے دھمکی دی کہ اگر الزامات واپس نہ لئے گئے تو عیسائیوں کو خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔

تین ہفتے بعد پانچ فروری کو شانتی نگر کی ایک مقامی مسجد سے اعلان ہوا کہ عیسائیوں نے قران کے دو یا تین صفحات جلا دیے ہیں اور یہ صفحات مسجد کے باہر پائے گئے ہیں۔ خبر پھیلتے ہی اردگرد کے چودہ دیہاتوں سے تقریباً بیس ہزار افراد نے عیسائیوں کے دو دیہات شانتی نگر اور ٹوبہ کی جانب مارچ شروع کردیا۔ خانیوال شہر اور دونوں عیسائی دیہاتوں میں پندرہ سو گھراور دوکانیں، بارہ چرچ ، ایک ہاسٹل اور ڈسپنسری تباہ کردی گئی۔ درجن بھر خواتین کی بے حرمتی ہوئی۔اخبار فرائیڈے ٹائمز کے مطابق پولیس نے پہلے پندرہ ہزار عیسائی آبادی کو علاقہ چھوڑ کر محفوظ مقامات پر جانے کو کہا اس کے بعد بلوائیوں کو کھلی چھوٹ دے دی گئی۔ انسانی حقوق کمیشن نے کہا انیس سو سینتالیس کے بعد سے پاکستان میں یہ اپنی نوعیت کا بدترین واقعہ تھا۔

آئیے آگے بڑھیں۔

یہ بات نومبر دو ہزار پانچ کی ہے۔ فیصل آباد کے نواحی قصبے سانگلہ ہل میں جہاں نوے فیصد مسلمان اور دس فیصد عیسائی رہتے ہیں، یوسف مسیح نامی شخص نے دو مسلمانوں سے تاش کے جوئے میں بھاری رقم جیت لی۔ اگلے روز ان میں سے ایک ہارا ہوا جواری ایک مقامی جلد ساز کے پاس قرآن کا خستہ حال نسخہ لے کر پہنچا اور کہا کہ یوسف مسیح نے اس کی بے حرمتی کی ہے۔ مقامی مسجد سے اعلان ہوا کہ یوسف مسیح نامی ایک شخص نے قرآن کے صفحات جلائے ہیں۔ یہ سنتے ہی تقریباً ڈیڑھ ہزار افراد جمع ہوگئے۔ ایک درجن گھر، پانچ گرجے، تین سکول، ایک کانونٹ اور ایک ڈسپنسری تباہ ہوگئی۔ تین ماہ بعد لاہور کی انسدادِ دہشت گردی کی ایک عدالت نے یوسف مسیح کو ناکافی ثبوت کی بنیاد پر بری کردیا۔ ساتھ ہی عیسائی املاک کو نقصان پہنچانے کے الزام میں پکڑے گئے اٹھاسی افراد بھی ناکافی ثبوت کی بنیاد پر بری ہوگئے۔

عیسائی پاکستان کی آبادی کا ڈیڑھ فیصد ہیں۔جب سے پاکستان میں مقدس کتابوں اور انبیاء کی بے حرمتی پر سزائے موت کا قانون لاگو ہے، تقریباً ایک ہزار افراد اس کی زد میں آ چکے ہیں اور ان میں سے نوے فیصد سے زائد ملزم عیسائی ہیں۔ زیادہ تر الزامات کے پیچھے لڑکی، ذاتی و سیاسی رنجش، جائیداد کا جھگڑا یا مذہبی نفرت کا اظہار بتایا جاتا ہے مگر بے حرمتی کا معاملہ اتنا حساس ہے کہ صرف الزام ہی کافی ہے۔ عدالت تک پہنچنے سے پہلے ہی مجمع ملزموں سے انفرادی اور اجتماعی انصاف کرچکا ہوتا ہے۔اور ایسے اکثر واقعات میں پولیس موقع واردات پر پہنچنے والا آخری ادارہ ہوتا ہے۔

بہت ہی کم مقدمات میں جرم ثابت ہوسکا لیکن جھوٹا الزام لگانے والے کسی ایک مدعی کو بھی قرار واقعی سزا نہیں مل سکی۔اس کے برعکس بے گناہی ثابت ہونے کے باوجود عموماً ملزم کو ہی علاقہ یا ملک چھوڑنا پڑا۔یا بے حرمتی کے قوانین کے تحت نظربند متعدد ملزموں کو عدالت کے احاطے یا جیل میں ہی پولیس کی موجودگی میں قتل ہونا پڑا۔

اس پورے ڈرامے میں ایک عنصر یہ شامل ہوا ہے کہ پہلے جو مجمع صرف ملزم کا تعاقب کرتا تھا اب وہ ملزم کی برادری کا بھی اسی جوش و جذبے سے تعاقب کرتا ہے۔فیصل آباد کے قریب گوجرہ میں ہونے والے واقعات اس رجحان کا تازہ ثبوت ہیں۔

اس تناظر میں جب میڈیا فلسطین میں اہلِ یہود کے ہاتھوں مسلمانوں سےہونے والے سلوک پر تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ جب مقامی دانشور بوسنیا میں سرب عیسائیوں کی جانب سے مسلمانوں کی نسل کشی کا رقت آمیزحوالہ دیتا ہے۔جب وزارتِ خارجہ بھارتی ریاست گجرات میں ہندو بلوائیوں کے ہاتھوں دو ہزار مسلمانوں کی ہلاکت یاد دلاتی ہے اور جب امام صاحب پوری دنیا میں مسلمانوں سے زیادتی کرنے والوں کے خلاف نگاہیں آسمان کی جانب اٹھا کر خدائی مدد مانگتے ہیں تو جی چاہتا ہے کہ گریبان پھاڑ کر قہقہے لگاتے ہوئے جنگل کی راہ لی جائے۔