سلم ڈاگ ملینیئر بہترین فِلم

اکیاسویں اکیڈمی ایوارڈز میں برطانوی فِلم سلم ڈاگ ملینیئر کو سال کی بہترین فِلم، کیٹ ونسلٹ کو بہترین اداکارہ اور شان پین کو بہترین اداکار قرار دیا گیا ہے۔ ونسلٹ کو فِلم ’دی ریڈر‘ میں کام کی وجہ سے ایوارڈ ملا۔
انڈیا کے موسیقار اے آر رحمان کو دو آسکر ایوارڈ ملے۔ انہیں بہترین اوریجنل گانے(جے ہو) اور بہترین موسیقی کے لیے ایوارڈ دیے گئے۔ انہوں نے ایوارڈ حاصل کرنے کے بعد ممبئی کی تعریف کی جس پر وہ کتاب لکھی گئی جسے بنیاد بنا کر فلم بنائی گئی۔
رحمان آسکر ایوارڈ حاصل کرنے والے تیسرے بھارتی شہری ہیں۔ اس سے پہلے ڈیزائنر بھنو اتھایا انیس سو تراسی میں فلم گاندھی کے لیے اور ہدایتکار ستیہ جیت رے انیس سو بانوے میں یہ اعزاز حاصل کر چکے ہیں۔
رحمان نے ایوارڈ حاصل کرنے کے بعد کہا کہ فلم سلم ڈاگ ملینیئر زندگی میں امید کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔
آسکر ایوارڈ کی تقریب کو دیکھنے کے لیے ممبئی کی جھونپڑیوں میں خاص اہتمام کیا گیا تھا جہاں اس فلم کے کچھ نو عمر کردار رہتے ہیں۔ روبینہ علی کے والد رفیق نے کہا کہ یہ انڈیا کے لیے فخر کی بات ہے کہ اس فلم کو ایوارڈ ملا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اب منتظر ہیں کہ ان کی بیٹی امریکہ سے واپس آ کر انہیں وہاں کی کہانیاں سنائے گی۔
ان کے پڑوسی شمیم نے کہا کہ اس فلم کی کامیابی سے علاقے کے بچوں کو حوصلہ ملے گا کہ وہ زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کریں۔
بہترین معاون اداکارہ کا ایوارڈ پینیلوپ کروز کو ملا جو یہ اعزاز حاصل کرنے والی پہلی ہسپانوی خاتون ہیں۔ انہیں فلم ’وکی کرسٹینا بارسیلونا‘ میں اداکاری کے لیے یہ اعزاز دیا گیا۔ مرحوم اداکار ہیتھ لیجر کو بہترین معاون اداکار کا ایورڈ ملا۔
ممبئی کی جھونپڑیوں میں بنی برطانوی فِلم سلم ڈاگ ملینیئر کو کل ملا کر آٹھ آسکر ایوارڈ ملے۔ فلم کے ہدایتکار باون سالہ ڈینی بائل نے ایوارڈ ملنے پر چھلانگیں لگائیں اور کہا کہ انہوں نے اپنے بچوں سے وعدہ کیا تھا کہ اگر معجزہ ہو گیا تو وہ چیتے کی طرح ایوارڈ حاصل کریں گے۔ تقریب اتوار کو امریکی ریاست کیلیفورنیا کے دارالحکومت لاس اینجلس میں منعقد ہوئی۔ فلمی دنیا میں انتہائی معتبر تصور کیے جانے والے ان ایوارڈ کا حصول دنیائے فلم سے تعلق رکھنے والی ہر ہستی کی خواہش سمجھا جاتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی






















