بالی وڈ میں کارپوریٹ کلچر کا آغاز

بالی وڈ فنکاروں کا رجحان آج کل تبدیل ہو رہا ہے۔ اب ان کی توجہ صرف اس بات پر نہیں ہوتی ہے کہ ان کی فلم میں کی گئی اداکاری کو ناظرین نے کتنا سراہا بلکہ اب وہ اس بات پر خصوصی توجہ دینے لگے ہیں کہ اس فلم نے کتنا بزنس کیا اور اس میں انہیں جو حصہ ملا تھا وہ کتنا ہو گا۔
فلمی دنیا میں ہر بڑے اداکار نے اب اپنی فلمی کمپنی بنا لی ہے۔ شاہ رخ نے آج سے دس برس پہلے جوہی چاؤلہ کے شوہر کے ساتھ مل کر اپنی پرڈکشن کمپنی بنا ئی تھی۔اس کمپنی نے ہدایت کار عزیز مرزا کے ساتھ مل کر فلم ’پھر بھی دل ہے ہندستانی‘ اور ’اشوکا‘ فلمیں بنائیں حالانکہ یہ دونوں ہی فلم باکس آفس پر فلاپ ثابت ہوئیں لیکن شاہ رخ نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا انہوں نے اب اپنی بیوی کے نام سے ریڈ چلی کمپنی بنائی ہے جس کے تحت ان کی کامیاب فلم ’اوم شانتی اوم‘ نے اچھا بزنس کیا تھا۔اب شاہ رخ نے فلموں کے علاوہ ٹی وی کی دنیا میں بھی اپنا قدم رکھ لیا ہے۔ ان کی کمپنی اب ٹی وی سیریل بنانے میں مصروف ہے۔
فلم سٹارز نے شاہ رخ کے نقش قدم پر چلنا شروع کر دیا۔ یکے بعد دیگرے سنیل شیٹی، عامر خان ، سیف علی خان ، سنجے دت ، سہیل خان ، جان ابراہام نے اپنی اپنی کمپنیاں شروع کیں۔ اکشے کمار نے اپنی فلم کمپنی تو شروع نہیں کی لیکن وہ جس فلم میں کام کرتے ہیں اس کے حقوق خریدتے ہیں۔ فلم ’سنگھ از کنگ‘ کو چند شہروں میں تقسیم کرنے کے حقوق اکشے نے لیے تھے۔ انڈسٹری میں کہا جاتا ہے کہ سلمان خان کا ذہن تجارتی نہیں ہے لیکن اب دوسروں کو دیکھ کر انہوں نے بھی فلم کے منافع میں حصہ لینا شروع کر دیا ہے۔ جان ابراہام نے صرف اپنی فلمی کمپنی ہی لانچ نہیں کی ہے بلکہ انہوں نے اپنے برانڈ کو بازار میں اتارا ہے جو کافی مہنگے داموں چنیدہ سٹوروں پر ہی مل سکتی ہے۔

ان کے علاوہ وہ سٹارز جو فلمی کمپنی نہیں کھول رہے ہیں وہ کسی نہ کسی بزنس میں مشغول ہیں۔ڈینو موریا اب ملک بھر میں کئی مقامات پر ہوٹل کھول رہے ہیں۔ سنیل شیٹی کے بھی کئی ہوٹلز ہیں۔
اگر اداکار تجارت کر کے کروڑوں روپیہ کما رہے ہیں تو پھر اداکارائیں کیسے پیچھے رہتیں۔
اداکاراؤں میں شلپا شیٹی اس وقت بزنس میں سب سے کامیاب اداکارہ ثابت ہوئی ہیں۔فلموں میں اداکاری کے میدان میں وہ جب اپنی چھاپ نہیں چھوڑ سکیں تو بگ برادر کی مقبولیت کو انہوں نے کیش کرلیا۔ پہلے انہوں نے لندن میں پرفیوم لانچ کیا۔ پھر یوگا پر کتاب لکھ ڈالی۔اس کے بعد انہوں نے انڈین پریمیئر لیگ میں راجستھان رائلز میں شراکت داری کی۔ شلپا کتنی کامیاب بزنس خاتون ہیں اس کا اندازہ ان کی باتوں سے لگایا جا سکتا ہے۔ آئی پی ایل کی ٹیم راجستھان میں رقم لگانے کے بعد انہوں نے میڈیا کے سامنے کہا تھا کہ انہیں کرکٹ سے لگاؤ کچھ زیادہ نہیں ہے وہ یہاں صرف بزنس کے نکتہ نظر سے آئی ہیں۔
شلپا نے اتنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ انہوں نے اس کے بعد ممبئی میں طبی سپا کھول لیا۔اور اب ممبئی کے علاوہ دہلی، بنگلور، حیدرآباد جیسے شہروں میں سپا کھولنے کا ارادہ ہے۔
پریتی زنٹا بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں شلپا سے قبل ہی انہوں نے آئی پی ایل کی کرکٹ ٹیم خرید لی تھی۔پنجاب الیون ٹیم ان کی اور ان کے دوست نیس واڈیا کی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایسا نہیں تھا کہ ماضی میں اداکاروں کی اپنی فلمی کمپنی نہیں تھی راج کپور نے اداکاری کے ساتھ آر کے بینر تلے فلمیں بنائیں لیکن وہ انہی تک محدود رہی۔زیادہ تر فلمی اداکاروں نے خود کو صرف اور صرف اداکاری کی دنیا تک ہی محدود رکھا۔ آخر ایک فنکار بزنس مین کی طرح کیوں سوچنے لگا ہے جبکہ یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔فلموں میں ٹریڈ تجزیہ نگار امود مہرہ مانتے ہیں کہ ایسا آج کی نسل کے فنکاروں نے ماضی کے فنکاروں کے حالات سے متاثر ہو کر کیا ہے۔ماضی کے فنکار جنہوں نے صرف اداکاری تک خود کو محدود رکھا، چکا چوند اور گلیمر کی دنیا سے نکلنے کے بعد وہ گمنامی کے اندھیرے میں کھو گئے۔ان میں سے بیشتر تو فاقہ کشی تک کرنے پر مجبور ہوئے۔ لیکن انڈسٹری میں ایسے بھی فنکار موجود ہیں جو یہ مانتے ہیں کہ فن میں جب نفع نقصان شامل ہو جائے تو فن کی سچائی ختم ہو جاتی ہے لیکن ان کی تعداد اب نہ کے برابر ہے۔





















