محبوبہ کیلیے کہانی کی تلاش:بالی وڈ ڈائری

- مصنف, ریحانہ بستی والا
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی
محبت کا اظہار کرنا ہے تو پھر اپنی محبوبہ کے لیے ایک اچھی سی کہانی لکھیے جس میں آپ انہیں ایسا کردار دیں کہ وہ ان کی زندگی کا یادگار رول ہو۔ہم آپ سے بالکل مذاق نہیں کر رہے ہیں بھئی کچھ ایسا ہی ٹرینڈ بالی وڈ میں بن چکا ہے۔
اب بتائیے اس وقت بالی وڈ کی سب سے ’ہاٹ‘ جوڑی کون سی ہے؟ دیکھا آپ سب نے صحیح کہا سیف علی خان اور کرینہ کپور۔سیف نے اپنی محبت کی نشانی کے طور پر اپنی محبوبہ کے لیے اپنی ہوم پروڈکشن فلمی کپمنی کو ہدایت دی ہے کہ وہ کرینہ کپور کی شخصیت کو نظر میں رکھ کر کوئی ایسی کہانی لکھیں جو کرینہ کی زندگی کا یادگار رول بن جائے۔ اب سارے سکرپٹ رائٹر کام میں جُٹ گئے ہیں۔ اب ایسے میں ہدایت کار انوراگ کیشیپ کیسے پیچھے رہ جاتے؟ وہ بھی اپنی نئی محبوبہ کالکی کوچلین کے لیے فلم کا سکرپٹ لکھ رہے ہیں۔ انہوں نے تو فلم کا نام بھی سوچ لیا ہے ’دی ہیپی اینڈنگ‘۔۔۔ چلیے اس بہانے ہمیں کچھ اورِیجنل کہانیاں تو مل جائیں گی!
بالی وڈ کے بنجمن بٹن
ہم نے گزشتہ ہفتہ ہی لکھا تھا کہ ہالی وڈ فلم ’بنجمن بٹن‘ کا ہندی ورژن بن رہا ہے جس کا نام ہے ’ایکشن ری پلے‘۔ اس میں اکشے کمار ہیرو ہیں اور ایشوریہ رائے ہیروئین۔ فلمساز وپل شاہ کی یہ فلم اسی سال ریلیز ہونے والی ہے لیکن ہم آخر ہم ہیں، اور ہالی وڈ کی کامیاب فلم کا ایک ہی ری میک کیسے بنا سکتے ہیں؟
اب ایک اور فلم بن رہی ہے جس کا نام ہے ’پا!‘۔ اس میں امیتابھ بچن اور ان کے بیٹے ابھیشیک بچن اہم کردار میں ہیں لیکن کہانی میں کچھ تھوڑا سا ٹوئسٹ یعنی پھیر بدل ہے۔ اس میں ابھیشیک باپ بنے ہیں اور امیتابھ بچن ان کے بیٹے لیکن وہ باپ سے پہلے بوڑھے ہونے لگتے ہیں۔ چلیےکہانی میں کچھ تو فرق ہے ، بنجامن بیٹن میں ہیرو ساٹھ سال کا بوڑھا پیدا ہوتا ہے اور اس فلم میں بچہ جلدی جلدی بوڑھا ہوتا ہے۔خیر اس کردار کے لیے امیتابھ کو کافی مشقت کرنی پڑتی ہے۔ تین گھنٹوں تک انہیں میک اپ مین کے سامنے بیٹھنا پڑتا ہے تب جا کر وہ رول کرنے کے لیے تیار ہوتے ہیں اور پھر شوٹنگ ختم ہونے کے بعد ایک گھنٹے تک میک اپ ُاتارا جاتا ہے۔
عامر اور چینی
چینی کا ذکر ہے لیکن امیتابھ اور تبو والی فلم کی بات نہیں ہے۔ عامر خان اس وقت اپنی چائے میں چینی یعنی شکر ہی نہیں ڈالتے کیونکہ انہیں اپنا وزن بہت کم کرنا ہے۔ ارے بھئی انہیں ویسے بھی کالج سٹوڈنٹ لگنا ہے۔ جی ہاں اپنی آئندہ فلم ’تھری ایڈیٹس‘ میں وہ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمینٹ کے طالب علم کا رول کر رہے ہیں۔ اب ہمیشہ پرفیکٹ کام کرنے والے عامر خود کو کردار میں ڈھالنے کے لیے اتنی تو قربانی دے ہی سکتے ہیں۔ ویسے عامر اب چوالیس سال کے ہو گئے ہیں اور انہوں نے میڈیا کے ساتھ اپنی سالگرہ کا کیک بھی کاٹا ہے آپ دیکھ کر بتایئے کہ کیا عامر چوالیس سال کے لگتے ہیں؟
نیومی کیمبل ریمپ پر
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آپ کہیں گے اس میں نئی بات کون سی ہے نیومی ویسے بھی ماڈل ہیں تو ریمپ پر تو چلتی ہی ہیں۔ جی ہاں آپ کی بات درست۔ہم اپنے کالم میں اسے اس لیےجگہ دے رہے ہیں کیونکہ نیومی پہلی مرتبہ ممبئی میں لیکمے فیشن ویک پر ریمپ پر چلیں گی اور وہ اسے ممبئی حملوں کے مہلوکین اور متاثرین کو خراج عقیدت کے طور پر منسوب کرنا چاہتی ہیں۔
میں شادی نہیں کرنا چاہتی
یہ تو بالی وڈ کی ہر وہ ہیروئین کہتی ہے جس کی فلمیں کامیاب ہو رہی ہوں اور وہ بھی جس کی فلمیں فلاپ بھی ہو رہی ہوں کیونکہ کوئی نہیں چاہتا کہ ان کے پرستاروں کی تعداد میں کمی واقع ہو۔یہی تو بالی وڈ کا چلن ہے۔ لیکن ہمیں تو اس وقت حیرت ہوئی جب پرینکا نے یہ کہا کہ ابھی وہ شادی کے لیے تیار نہیں کیونکہ انہیں یہ سوچ کر بھی عجیب لگتا ہے کہ وہ کسی ایک شخص کے لیے اپنی پوری زندگی قربان کریںاور وہ صبح اٹھیں تو ایک ہی چہرہ سامنے ہو!
بے بی اتنی بولڈ بات تو شاید ملکہ شیراوت یا راکھی ساونت نے بھی نہیں کی۔
اکشے کا انداز
سلمان خان ہی سٹائل آئیکون بنے رہیں ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔ اگر ممبئی سے کرجت تک سلمان سائیکل پر جاتے ہیں تو ہمت کی بات ہے۔ وہ اکثر کار سے اتر کر کسی بھی رکشہ میں بیٹھ جاتے ہیں ڈرائیور کو عقبی سیٹ پر بٹھا کر خود رکشہ چلانےلگتے ہیں اور ہجوم اکٹھا ہو جاتا ہے۔ ویسے رتیک کا بھی اپنا ہی سٹائل تھا جب وہ جودھا اکبر کی شوٹنگ کر رہے تھے۔شوٹنگ کے لیے رتیک روشن روز خصوصی طیارہ کے ذریعہ وہاں جاتے رہے تو یہ ان کا سٹائل تھا لیکن اب اکشے نے رتیک کو پیچھے چھوڑ دیا۔ فلم ’ایکشن ری پلے‘ کی شوٹنگ کرجت میں بنے سیٹ پر ہو رہی ہے اور وہاں اکشے کے لیے چار ایکڑ زمین پربنے ایک بنگلہ میں ان کی رہائش کا انتظام کیا گیا ہے۔ بنگلے میں سات بیڈ روم ہیں۔ سات بیڈ روم ! لیکن اکشے تو ایک میں ہی سوتے ہوں گے؟ ہاں ذرا سانس تو لیجیے ہم بتاتے ہیں کہ بقیہ کمروں میں کیا ہے ۔ایک میں ان کا اپنا جِم بنایا گیا ہے جہاں وہ ورزش کرتے ہیں۔ دوسرے کمرے کو ہوم تھیئٹر بنایا گیا ہے۔ایک روم کو ڈائننگ روم اور ویسے اتنا ہی نہیں کام سے چھٹی کے ایک دن اکشے بھی خصوصی طیارہ کے ذریعہ ممبئی آتے ہیں لیکن ایک بات انہیں رتیک سے الگ کرتی ہے اور وہ یہ کہ وہ اپنے ساتھ اپنی ہیروئین ایشوریہ رائے کو بھی لفٹ دہتے ہیں جو رتیک نے اپنی فلم جودھا اکبر میں کبھی نہیں کیا۔۔۔بڑے دل والا اکّی!
کے۔۔۔ کو الوداع
آخر کار کرن جوہر نے ’کے‘ کو الوداع کہہ ہی دیا۔ آپ کو تو پتہ ہی ہے کہ فلمی ہستیاں کتنی تو ہم پرست ہوتی ہیں فلم کی کامیابی یا اپنے کریئر کے لیے وہ کیا کچھ نہیں کرتے۔گزشتہ کچھ عرصہ سے کرن جوہر نے اپنی فلموں کےنام ’کے‘سے لکھنے شروع کیے تھے۔جیسے ’کبھی الوداع نہ کہنا‘ یا پھر ’کل ہو نہ ہو‘ لیکن اب وہ اس چکر سے نکل گئے ہیں کیونکہ ان کی فلم ’دوستانہ‘ کامیاب ہوئی اور اس میں ’کے‘ بھی نہیں تھا۔
میری تندرستی کا راز
کیا آپ جانتے ہیں کہ بپاشا کے پرکشش جسم کا راز کیا ہے؟ ہم بتاتے ہیں وہ اپنی جس فلم کی شوٹنگ کے لیے دنیا کےکسی بھی کونے میں جاتی ہیں پہلے اپنے سٹاف کو بھیج کر یہ پتہ لگاتی ہیں کہ اس ہوٹل میں جس میں انہیں قیام کرنا ہے جِم ہے یا نہیں۔ سٹیٹ آف آرٹ ہیلتھ کلب ہے یا نہیں اگر ہاں تو وہاں قیام کرتی ہیں ورنہ نہیں۔اب آپ سمجھے کہ پرکشش جسم بنانے کے لیے ورزش کتنی لازمی ہے۔

سلام بامبے دوبارہ ریلیز
اکیس سال پہلے بننے والی فلم ’سلام بامبے‘ آپ کو یاد ہو گی جس نے آسکر میں ایوارڈ نہ سہی لیکن نامزدگی تو حاصل کر ہی لی تھی۔فلمساز میرا نائر کی یہ فلم ممبئی کی جھوپڑا بستی اور اس میں رہنے والے بچوں پر بنی پہلی فلم تھی جس کی بہت ہی پذیرائی ہوئی تھی۔ لیکن اس موقع پر اسے چھیڑنے کا مقصد ہمارا یہ ہے کہ میرا نائر ایک بار پھر اپنی فلم کو تمام تھیئٹرز میں نمائش کے لیے مئی کے مہینے میں پیش کرنا چاہتی ہیں۔ ارے بھئی ڈینی بوئل کی فلم ’سلم ڈاگ ملینیئر‘ کی اتنی کامیابی کو کیش کرنے کا اس سے اچھا موقع کب ملے گا؟
کجرارے کی مصیبت
لاہور کی ہیرا منڈی کے پس منظر میں پروان چڑھی محبت کی کہانی’کجرارے‘ اب مصیبتوں میں پھنس گئی ہے۔ فلم کی ہدات کارہ پوجا بھٹ پہلے چاہتی تھیں کہ فلم کی عکس بندی لاہور اور پاکستان کے کچھ شہروں میں ہو لیکن ایسا ممکن نہیں ہو سکا جس کے بعد انہوں نے فلم کی شوٹنگ کے لیے اردن کی سرزمین کو منتخب کیا۔ لیکن اب فلم کی اداکارہ مونا لیزا غائب ہیں پتہ چلا کہ وہ فلم کی شوٹنگ میں حصہ ہی نہیں لیں گی۔دونوں ممالک کے کشیدہ تعلقات اور سنگین حالات نے آخر کار فن اور فلموں کو نشانہ بنا ہی لیا۔





















