یوگنڈا کے باغیوں پر ہالی وڈ فلم

اوما تھرمان
،تصویر کا کیپشنفلم میں اوما تھرمان بنیادی کردار ادا کر رہی ہیں

ہالی وڈ کے ایک فلم ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ ان کی اگلی فلم یوگنڈا کے بدنامِ زمانہ باغیوں کے متعلق ہوگی کہ کس طرح انہوں نے سو سے زائد کانونٹ سکول کی بچوں کو اغوا کیا تھا۔

ڈائریکٹر ول رائی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی فلم ’گرل سولجر‘ میں اوما تھرمان ہیروئین کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ وہ اس میں ایک راہبہ کا کردار ادا کریں گی جس نے باغیوں کا جنگل تک پیچھا کیا اور کئی لڑکیوں کو باغیوں کے چنگل سے بھاگنے میں مدد کی۔

یہ کہانی گریس اکالو کے ناول گرل سولجر پر مبنی ہے۔ گریس اکالو ان بچوں میں سے ایک سے تھیں جن کو 1996 میں اغوا کیا گیا تھا۔

رائی کا کہنا ہے کہ ’یہ زبردست ہے، یہ ایک حیران کن کہانی ہے۔‘

دی لارڈز ریزیسٹینس آرمی (ایل آر اے) کے باغی دو دہائیوں سے یوگنڈا کی حکومت کے ساتھ لڑ رہے ہیں۔

اتنی لمبی اور وحشیانہ لڑائی کی وجہ سے بیس لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

دسیوں ہزار بچوں کو اغوا کر کے یا تو لڑنے پر مجبور کر دیا گیا یا پھر جنسی تسکین کے لیے استعمال کیا گیا۔

ول رائی نے کہا کہ ’بنیادی طور پر ہم ان بچیوں کی کہانی سنا رہے ہیں جنہیں اغوا کرنے کے بعد غلام بننے اور وہ لڑائی لڑنے پر مجبور کیا گیا تھا جس کا وہ حصہ نہیں بننا چاہتی تھیں۔‘

انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ لوگ اس فلم کو دیکھ کہ یہ محسوس کریں کہ وہ ایک ڈوکیومنٹری دیکھ رہے ہیں، اس لیے ہم کوشش کر رہے ہیں کہ اس جتنا بھی ممکن ہو حقیقت کے قریب بنایا جا سکے۔‘