ادب، فلسفہ اور سیاحت: تین کتابیں

،تصویر کا ذریعہ
کتاب: فلسفہ اور محبت
تصنیف: وِل ڈیورانٹ
ترجمہ: یاسر جواد
ناشر: نگارشات 24 مزنگ روڈ لاہور
صفحات: 239
قیمت: 300 روپے
وِل ڈیورانٹ کا نام ہمارے یہاں اسکی زیادہ معروف تصنیف داستانِ فلسفہ کی وجہ سے جانا جاتا ہے جو برسوں پہلے اُردو میں ترجمہ ہو کر قارئین کی داد وصول کر چکی ہے۔ اس کے علاوہ مصنف کی ایک اور کتاب نشاطِ فلسلہ کے نام سے معروف نفسیات داں، پروفیسر محمد اجمل نے بھی ترجمہ کی تھی جوکہ زیرِ نظر کتاب کا ایک ترمیم و اضافہ شدہ ایڈیشن تھا۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب کتاب اپنی حتمی اور زیادہ تکمیل شدہ صورت میں ترجمہ ہو چکی ہے تو اسی کے ایک ابتدائی ایڈیشن کو منظرِ عام پر لانے کی کیا ضرورت پڑ گئی؟ اسکا جواب کتاب کے مترجم کچھ یوں دیتے ہیں:
ٰ ٰ مصنف نے اس ابتدائی ایڈیشن میں خاندان، شادی، معاشرہ اور اخلاقیات کے موضوعات پر کھُل کے بحث کی تھی اور اپنے عہد کے معاشرے کا تفصیلی تجزیہ پیش کیا تھا۔ چونکہ سن 1920 اور 1930 کے درمیانی عرصے کا مغربی معاشرہ کئی لحاظ سے آج کے مشرقی معاشرے جیسا تھا اس لئے مصنف کا وہ اسّی نوے برس پرانا تجزیہ ہمارے لئے بنیادی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ مثلاً اُس وقت کے مغربی معاشرے میں صنعتی ترقی کی وجہ سے پرانی اقدار تو مِٹ رہی تھیں لیکن اُن کی جگہ نئی اقدار ابھی سامنے نہیں آئی تھیں، شہری زندگی کے باعث خاندان کا شیرازہ بھی بکھر رہا تھا مگر کوئی نیا متبادل ڈھانچہ نہیں تیار ہوا تھا۔ اسی طرح محبت، شادی، جنسی معاملات اور گھریلو زندگی کے متعلق پرانے رومانوی تصورات بھی شکست و ریخت کا شکار تھے، جیسا کہ آج کل ہمارے معاشرے میں ہو رہا ہے۔ اسی مماثلت کے باعث 1929 میں شائع ہونے والی وِل ڈیورانٹ کی یہ کتاب آج ہمارے لئے ایک نئی معنویت اختیار کر لیتی ہے۔ٰ ٰ
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مصنف نے کتاب کی ابتداء میں ٰ ٰ سچائی ٰ ٰ کی سائنسی اور فسلفیانہ حقیقت سے بحث کی ہے، پھر میٹریل ازم اور آئیڈیل ازم کی پرانی بحث کا خلاصہ بیان کیا ہے، اور اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کی ہے کہ کیا انسانی جسم ایک مشین کی طرح کام کرتا ہے۔
بعد کے ابواب میں مصنف نے اخلاقیات کی مطلق حیثیت کو چیلنج کرتے ہوئے اسکی اضافیت کو واضح کیا ہے اور بتایا ہے کہ صنعتی معاشرے میں اخلاقیات کیا رنگ اختیار کر رہی ہے۔
شادی کی تاریخ بتاتے ہوئے مصنف لکھتا ہے:
ٰ ٰ شادی اُس وقت ارتقاء پذیر ہوئی جب اقتصادی تعلقات بدل رہے تھے۔ خانہ بدوشی کے مرحلے میں مرد – خدا وند کا طاقت ور شکاری – اپنی لاٹھی اٹھاتا ہے اور دوسرے قبیلے میں جا گھستا ہے – کسی خُوب رُو دوشیزہ کو اس کے خیمے سے اٹھا کر لے آتا ہے۔
جب دولت اور امن میں اضافہ ہوا، اخلاقی اصول بہتر ہوئے، اور مرد لاٹھی کی بجائے کوئی قیمتی تحفہ یا طویل خدمت کا نذرانہ لے کر مطلوبہ عورت کے باپ کے پاس جانے لگا – تو گویا خرید کی شادی نے لُوٹ کی شادی کی جگہ لے لی۔ آج یہ دستور لُوٹ اور خرید کا عجیب و غریب ملغوبہ بن چکا ہے۔ٰ ٰ
بیسویں صدی کے ایک اہم مفکر اور فلسفی کے خیالات کو اردو خواں طبقے تک پہنچانے کے لئے یہ کتاب ایک اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ مترجم نے متن سے وفاداری کی دھُن میں بعض جگہ لفظی ترجمے کو ترجیح دی ہے اور کہیں کہیں تو جُملے کی غیر مانوس انگریزی ساخت کو بھی جوں کا توں رہنے دیا ہے۔ ایسے موقعوں پر اُکھڑی اُکھڑی نثر اگرچہ قِرات کی روانی کو متاثر کرتی ہے لیکن ساتھ ساتھ یہ اُردو جملے کی روائتی ساخت میں نئے امکانات کی نشان دہی بھی کرتی ہے۔
سفر نامہ: ایک آنکھ میں امریکہ

،تصویر کا ذریعہ
کتاب: ایک آنکھ میں امریکہ
مصنف: فاروق عادل
ناشر: دوست پبلی کیشنز اسلام آباد
صفحات: 187
قیمت: 250 روپے
ایک ایسے زمانے میں سفر نامہ تحریر کرنا جب یہ ِصنف بقول کسے ٰ ٰ ٹکے ٹوکریٰ ٰ بِک رہی ہو، واقعی ہمت کا کام ہے۔ کتاب کے ابتدائیے میں عطاالحق قاسمی، کرنل اشفاق حسین، ضیاء شاہد، ڈاکٹر طاہر مسعود اور محمد حمید شاہد کی سفارشات واضح کرتی ہیں کہ فاروق عادل کا یہ سفر نامہ اس ِصنف کی ارزانی کی باوجود پڑھے جانے کے قابل ہے۔
یہ سفر نامہ دراصل یو ایس آئی ایس کی دعوت پر امریکہ کے ایک مختصر سے مطالعاتی دورے کا نتیجہ ہے۔ خود مصنف نے بھی اسے ٰ ٰ پاک امریکہ تعلقات کے تاریخی ارتقاء میں سنگِ میل ٰ ٰ جیسی کوئی جِناتی تحریر قرار نہیں دیا۔ بلکہ اسے اپنے سفرِ امریکہ کا ہلکا پھلکا احوال ہی کہا ہے۔ لیکن اُن کی تحریر پر جامع ترین تبصرہ محترم ضیا شاہد کا ہے :
ٰ ٰ سفر نامہ لکھنے والے بڑے بڑے مُستند قلم کاروں اور قلم بازوں کی نسبت مجھے فاروق عادل کی تحریر میں شفیق الرحمان کے افسانے نما رپورتاژوں، برساتی اور دجلہ کی خوشبو آئی۔ٰ ٰ
فکشن: پچیس کہانیوں کا مجوعہ

،تصویر کا ذریعہ
کتاب: آئینہ کہانی
مصنف: کے – اشرف
C. W. Printers – California USAناشر:
صفحات: 174
قیمت: 10 ڈالر
بیرونِ ملک خاص طور پر مشرقِ وسطٰی ، یورپ اور شمالی امریکہ میں آباد پاکستانی شاعروں اور ادیبوں کی کتابیں یوں تو بڑی تعداد میں شائع ہوتی ہیں اور عزیزوں، دوستوں، ایڈیٹروں اور تبصرہ نگاروں میں فراخ دلی سے تقسیم بھی کی جاتی ہیں لیکن انتہائی عمدہ طباعت و اشاعت کے باوجود اِن کتابوں کی علمی و ادبی حیثیت مشکوک ہی رہتی ہے۔
کیلی فورنیا سے شائع ہونے والی پاکستانی نژاد مصنف خواجہ اشرف کی کتابیں البتہ اس عمومی ڈگر سے ہٹ کے دکھائی دیتی ہیں۔ یوں تو انھوں نے ناول اور آزاد نظم میں بھی طبع آزمائی کی ہے لیکن کہانی پر اُن کی گرفت زیادہ مظبوط دکھائی دیتی ہے۔
پاکستان میں خواجہ اشرف نے 1970 کی دہائی میں لکھنا شروع کیا تھا اور وزیر آغا کے رسالے اوراق میں باقاعدگی سے ان کے افسانے اور انشائیے شائع ہوتے تھے۔ صدر ضیاء کے دور میں وہ نقلِ وطن کر کے امریکہ آگئے اور ایم بی اے کرنے کے بعد ایک مصروف کاروباری زندگی شروع کردی تاہم افسانہ نگاری انھوں نے اُس دور میں بھی ترک نہیں کی۔
زیرِ نظر کتاب آئنہ کہانی اُن کی 25 کہانیوں کا مجموعہ ہے۔
ٰ ٰ اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ میں کہانیاں کیوں لکھتا ہوں تو میرے لئے اس سوال کا جواب دینا ممکن نہیں۔۔۔ بس کہانی لکھنے کو جی چاہتا ہے، کا غذ قلم لے کر بیٹھ جاتا ہوں اور کسی شاعر کی غزل کی طرح کہانی ہو جاتی ہے۔۔۔ٰ ٰ
اور جب آپ اِن کہانیوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو مصنف کا یہ دعوٰی درست معلوم ہوتا ہے کہ ٰ ٰ آتے ہیں غیب سے یہ مضامین خیال میںٰ ٰ
کے – اشرف کی زبان سادہ اور موضوعات ہماری روزمرہ زندگی سے تعلق رکھتے ہیں البتہ جو شے ان کہانیوں کو منفرد بناتی ہے وہ حقیقت اور واہمے (فینٹسی) کا خوبصورت امتزاج ہے۔ کے – اشرف ایک ایسے دور میں کہانی لکھ رہے ہیں جب ایک طرف ہیری پوٹر کے سحر میں مبتلا سکولی بچے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پہنچ چکے ہیں اور دوسری جانب بالغ قارئین کی ایک پوری نسل لاطینی امریکہ کی طلسماتی حقیقت نگاری کے افسوں میں گرفتار ہے۔
مختصر افسانے کا موجودہ قاری ایک مُشکل کلائنٹ ہے اور اسے مطمئن کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ تاہم کے– اشرف کی کہانیاں اس بنیادی چیلنج کو قبول کرتی ہیں اور اپنی تمام تر ایمائیت اور اشاریت کے باوجود اپنے حقیقت پسندانہ ٹریک سے انحراف نہیں کرتیں۔
بیرونِ ملک آباد جِن والدین کو شکایت ہے کہ بچوں کو اُردو سے روشناس کرانے کےلئے مناسب کتابیں دستیاب نہیں ہیں، اِن کے لئے یہ امر باعثِ تسلی ہونا چاہیئے کہ خواجہ اشرف کی کہانیاں بیرونِ پاکستان آباد نوجوانوں کو اُن کی زبان اور ادب سے متعارف کرانے کا ایک اچھا ذریعہ ثابت ہو سکتی ہیں۔





















