مضامینِ موسیقی و دنیا زاد

مضامین موسیقی: شاہد احمد دہلوی

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنمضامین موسیقی: شاہد احمد دہلوی
    • مصنف, انور سِن رائے
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

مضامین موسیقی: شاہد احمد دہلوی

ترتیب و تدوین: عقیل عباس جعفری

ناشر: ورثہ پبلیکیشنز1/94، 26 اسٹریٹ۔ ڈی ایچ اے کراچی

صفحات: 288

قیمت: 300 روپے

شاہد احمد دہلوی کا نام پاکستان اور ہندوستان کی نئی نسل کے ان لوگوں کے لیے بھی زیادہ مانوس نہیں جو موسیقی اور ادب سے تعلق رکھتے ہیں۔ ادب اور موسیقی میں جو ان کے نام سے واقف ہیں وہ بھی ان کے اس کام سے اتنے واقف نہیں جس قدر کہ دو یا تین نسل پہلے کے لوگ تھے۔

ادب اور موسیقی کی جڑواں محبوبائیں رکھنے والا یہ شخص حقیقی معنوں صاحبِ طرز ادیب تھا۔

عقیل عباس جعفری نے شاہد احمد کے نہ صرف تیس مضامین اکٹھے کیے ہیں بلکہ ان پر بارہ ایسے مضامین بھی جمع کیے ہیں جنہیں نایاب قرار دیا جا سکتا ہے۔

یہ مضامین ڈاکٹر سیر عارف، امراؤ بندو خان، ہادی حسن علی مرزا، غلام عباس، ممتاز شیریں، ڈاکٹر اسلم فرخی، پروین الٰہی، ادیب سہیل، تاج بیگم فرخی، ڈاکٹر جمیل جالبی، مختار صدیقی اور ثروت علی کے لکھے ہوئے ہیں۔

شاہد احمد کے تیس مضامین ہیں جن میں سے انتیس کا حوالہ موسیقی ہے جب کہ ایک رقص کے بارے میں ہے۔ اور انھیں چھ ابواب میں تقسیم کیا گیا جو مسائلِ موسیقی، جہانِ موسیقی، موسیقی کے ساز، فن فنکار، تہذیب و ثقافت اور متفرق کے عنوان سے قائم کیے گئے ہیں۔

ایک اہم مضمون خود عقیل عباس جعفری نے لکھا ہے جو خیال گائیکی کے دہلی گھرانے کے بارے میں ہے اور میں ان کے اس خیال سے متفق ہوں کہ اس مضمون کے مطالعے سے آپ جان سکتے ہیں کہ شاہد احمد دہلوی نے موسیقی کے جس گھرانے سے فیض حاصل کیا تھا اس کی تاریخ کتنی پُر شکوہ ہے۔

یوں تو شاہد احمد دہلوی کا سارا ہی کام ایسا ہے کہ اسے ہر دور میں تازہ کیا اور پڑھا جانا چاہیے لیکن موسیقی پر کام خاص طور پر اس لیے اہم ہے کہ اردو میں اس موضوع پر کتابیں گنتی کی ہیں اور اب جس طرح کلاسیکی موسیقی کو تازہ کیا جا رہا ہے اس میں اس میں ان کے مضامین کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔

عقیل عباس جعفری کا کہنا ہے کہ ’ہماری بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ جو صاحبان فن موسیقی جانتے ہیں وہ لکھنا نہیں جانتے اور جو لکھنے کا ہنر جانتے ہیں وہ موسیقی کی باریکیاں نہیں سمجھتے۔ شاہد احمد دہلوی نہ صرف یہ دونوں ہنر جانتے تھے بلکہ ان پی مکمل عبور بھی رکھتے تھے‘۔

بلا شبہ کسی بھی کام کرنے کے لیے بنیادی بات یہ ہوتی ہے کہ کام کرنے والے کام کو مطلوبہ کام پر دسترس حاصل ہو لیکن اگر ایسا نہ ہو تو اسے عقیل عباس جیسا ہونا چاہیے یعنی اسے کم سے کم یہ معلوم ہو کہ جو کام اسے کرنا ہے اس کے لیے درست مدد کہاں سے حاصل کی جا سکتی ہے۔

عقیل عباس نے اس سلسلے میں جن اداروں اور لوگوں سے مدد لی ہے ان میں ایس ایم شاہد، لطف اللہ خان اور ابراہیم خان کے ہم بھی مداح ہیں۔ مجھے شاہد احمد دہلوی صاحب سے نیاز کا موقع تو نہیں ملا لیکن اگر آج مجھے موسیقی کے بارے میں کچھ جاننا ہو تو میرا پہلا حوالہ ابراہیم خان اور ایس ایم شاہد ہی ہوں گے۔

عقیل عباس کا یہ کام انتہائی اہم ہے اور اسے بہت عمدہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اس ضخامت کی مجلد کتاب کی قیمت کا تین سو روپے ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس میں نیّت منافع کا حصول نہیں ہے۔

موسیقی سے تعلق رکھنے والے تمام لوگوں کو یہ کتاب سرہانے رکھنی چاہیے اور بار بار پڑھنی چاہیے۔

دنیا زاد: کتاب: ٣١

دنیا زاد

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنمیں بہت ہی کم تحریریں ایسی ہیں جن کے بارے میں جاننے یا نہ جاننے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

ترتیب آصف فرخی

ناشر: شہر زاد، بی بلاک، گلشنِ اقبال، کراچی

صفحات: 300

قیمت: دو سو روپے

دنیا زاد کی اکتیسویں کتاب آ گئی ہے۔ اور اس میں بہت ہی کم تحریریں ایسی ہیں جن کے بارے میں جاننے یا نہ جاننے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

اس کتاب کا عنوان ’وقت کا باغ‘ رکھا گیا ہے جو جے جی بیلارڈ کی اس کہانی کا عنوان ہے جس کا ترجمہ محمد سلیم الرحمٰن نے کیا ہے۔

کتاب کی ابتدا فارسی سے کیے گئے مرزا عبدالقادر بیدل کے تراجم سے کی گئی ہے جو افضال احمد سید نے کیے ہیں۔ افضال احمد سید غزل سے بھی شوق کرتے ہیں اور ’فارسیت‘ سے بھی، اس لیے خوب مناسبت میسر آئی ہے لیکن وہ نظم کے ایسے شاعر ہیں جو مستقبل میں اردو کے چند اہم ترین شاعروں میں سے ہوں گے۔

جہاں تک فارسی سے ترجموں کی بات ہے تو خود اردو کو ایک بار پھر فورٹ ولیم ایسے کالج کی ضرورت ہے شاید اردو ادب والے ان عوامل کو نہیں دیکھ رہے جو زبان کو تیزی سے تبدیل کر رہے ہیں۔ یہ زبان کو محفوظ رکھنے سے اختلاف نہیں، اس لسانی لطف انگیزی کا معاملہ ہے جس میں زبان پیچھے سے پیچھے کی طرف لوٹنے لگتی ہے۔ ایک ظفر اقبال ہیں جنھوں نے افتخار جالب اور ’گل آفتاب‘ کے بعد اس مشکل کو محسوس کیا لیکن وہ تیزروی دکھائی کہ منیر نیازی کی نظم ’ویلے توں اگے لنگھن دی سزا‘ بن گئے لیکن صرف ظفر اقبال کیوں اورں کو بھی اس پر غور ضرور کرنا چاہیے۔

اس کے علاوہ اس انتھالوجی میں شمش الرحمٰن فاروقی، فہمیدہ ریاض، خالدہ حسین، حسن منظر، غازی صلاح الدین، انیس آفاق اور راشد اشرف کے افسانے ہیں اور ایک پر ایک ہیں۔

غازی صلاح الدین ایک طویل عرصے کے بعد افسانہ نگاری کی طرف لوٹے ہیں اور نوید یہ ہے کہ وہ اب وقفوں کو طویل نہیں ہونے دیں گے۔

شاعری کے حصے میں کشور ناہید، فہمیدہ ریاض، تنویر انجم، خواجہ رضی حیدر، فہمیم کاظمی اور طاہر مسعود کی نظمیں ہیں اور اننا احمتووا (آنا اخماتووا) اوت نزار قبانی کے تراجم ہیں۔ احمتووا کے تراجم احمد مشتاق نے کیے ہیں اور نزار قبانی کے تراجم شاہدہ حسن نے اور یہ دونوں خود بھی اچھے شاعر ہیں۔

غزلوں کے حصے میں ظفر اقبال کے لیے ایک الگ حصہ مخصوص سا لگتا ہے ٹھیک بھی ہے وہ دوسری ساری عصری غزل سے الگ جو ہیں۔ ظفر اقبال کے بعد احمد فواد کی غزلیں زوردار ہیں لیکن ذرا فواد کا نام ہٹا کر انھیں ظفر اقبال کی غزلوں میں شامل کر کے دیکھیں۔ لیکن یہی بات احمد فواد کی نظموں کے بارے میں نہیں کی جا سکتی۔

اس کے بعد سب زیادہ قابلِ توجہ حصہ ’یارانِ نکتہ داں‘ کے عنوان سے ہے۔ اس حصے میں بھی فہمیدہ ریاض، انتظار حسین، حسن منظر، ظفر اقبال اور منشا یاد کی تحریریں ہیں اور ظفر اقبال کی تحریر ’کہ آتی ہے اردو زباں آتے آتے‘ خاص توجہ کے لائق ہے۔

تین سو صفحوں پر مشتمل کسی ایسی انتھالوجی میں جو ایک رسالے کی جگہ سال بھر میں چار بار مرتب اور شایع کی جاتی ہو اتنا کچھ پڑھنے کے لائق مل جائے تو مرتب کرنے والے کو داد ہی نہیں خوش نصیبی پر مبارک باد بھی دی جانی چاہیے۔