سودا پڑھنے والوں کے حق میں ہے

اجرا

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنکراچی سے شایع ہونے والے کتابی جریدے یا انتھالوجی کی یہ پانچویں اشاعت ہے
    • مصنف, انور سِن رائے
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

اجرا: 5 (کتابی سلسلہ: انتھالوجی)

مدیر: احسن سلیم

ناشر: بیانڈ ٹائم پبلیکیشنز1-G-3/2 ناظم آباد کراچی

صفحات: 480

قیمت: 300 روپے

اجرا کے پہلے چار شماروں میں کیا کچھ شائع ہوا ہے مجھے اس بارے میں کچھ علم نہیں۔ یہ شمارہ مجھے محترم ابراہیم خان کے ذریعے حاصل ہوا ہے۔ وہ ایک دل آویز شخصیت ہیں، موسیقی کی وراثت کے امین ہیں اور اپنی وراثت سے محبت بھی کرتے ہیں اسی لیے میں بھی ان کا مداح ہوں لیکن وہ علم اور کتابوں سے محبت کے سبب شاہین نیازی کے اسیر ہیں۔

احسن سلیم کو میں کوئی دو دہائیوں سے جانتا ہوں لیکن ان دو دہائیوں میں ایک دہائی وہ ہے جس میں میں پاکستان میں نہیں تھا لیکن احسن سلیم سے جب بھی ملاقات ہوئی کہیں نہ کہیں سے یہ بات ضرور نکل آئی کہ وہ ایک ادبی رسالہ نکالنے کا عزم رکھتے ہیں۔ احسن سلیم کیونکہ شاعر ہی نہیں شاعر مزاج بھی ہیں اس لیے یہ کبھی نہیں کھلا کہ وہ جو رسالہ نکالیں گے وہ کیسا ہو گا۔ اب جو رسالہ میں نے دیکھا وہ خاصا ’دھونسانے‘ والا ہے۔

اجرا کے سرپرست شاہین نیازی ہیں۔ جو کہا جاتا ہے کہ کوئی بڑے سرکاری افسر ہیں اور ادب اور افسری کا ملاپ پتا نہیں کیوں ہمیشہ مجھے ایک وسوسے میں مبتلا کر دیتا ہے۔ یہ میرا تعصب بھی ہو سکتا۔ شاہین نیازی ایک عرصے سے ول ڈیوراں کی کتاب ’سٹوری آف سولائیزیشن‘ کو اردو میں کرنے پر لگے ہیں۔ اور اس شمارے میں ان کی اس کوشش کی تیسری قسط شائع ہوئی ہے جو اکیاون صفحات پر مشتمل ہے اور پڑھتے ہوئے یوں لگتا ہے کہ ول ڈیوراں نے یہ سب اردو ہی میں سوچا سمجھا ہو گا۔ ان لوگوں کو جنھیں اردو ایسے مضامین کے لیے چھوٹی محسوس ہوتی ہے شاہین نیازی کا یہ کام ضرور دیکھنا چاہیے۔ اس حصے میں پروف ریڈنگ پر عدم توجہ بہت ہی بے لطف کرتی ہے۔

اس کے بعد مجلسِ نگراں ہے جو جدید اردو افسانے کے بانی، ڈرامہ نگار، اداکار، مصور اور سابق رقاص انور سجاد، زبان کی درستی اور کہانیت کے گرو شکیل عادل زادہ، سندھی کے ممتاز ادیب اور دانشور تاج جویو اور کہنہ مشق و مقبول شاعر صابر ظفر پر مشتمل ہے۔ مجلس ادارت اور مجلسِ مشاورت، دنیا بھر میں نمائندے اور معاون مدیر اس کے علاوہ ہیں۔

اس رسالہ کو سرسری پڑھنے میں بھی میرے دو دن نکل گئے۔ شاعری کے تین حصوں نے نہ تو زیادہ وقت لیا اور نہ ہی زیادہ متاثر کیا حالاں کہ ان حصوں میں ظفر اقبال، انور شعور، ریاض مجید، کرشن کمار طور، جلیل عالی، ضیا شبنمی، صابر ظفر، علیم اللہ حالی، سلیم کوثر، شاہدہ حسن، شاہدہ تبسم، سید فیض محمود، دانیال طریر، حمید انجم، داس احمد، طاہر سعید ہارون، اشتیاق طالب، گلنارآفرین، سید زاہد حیدر، ناصر زیدی، جمیل یوسف، شبنم شکیل، صبا اکرام، تنویر احمد، احمد صغیر صدیقی، ایچ اقبال، طالب انصاری، اشتیاق طالب، محمد امین، محسن اصرار، صفدر صدیق رضی، اختر رضا سلیمی، شہاب صفدر، شمیم روش، اقبال حسین، فیض عالم بابر، عدنان بشیر، سعید مبشر، طاہر شیرازی، سعید عاصم، قدسیہ ندیم لالی، عمران عامی، احمد کامران، سلیم فراز، میثم علی آغا، علی عارف، آفتاب اقبال شمیم، عباس رضوی، ایوب خاور، اقتدار جاوید، عامر سہیل، سہیل احمد، قمر افضل قمر، انجم جاوید، حمیرا راحت، ایم خالد فیاض، محمد عثمان جامعی، رفیع اللہ میاں، اور سعید الرحمٰن سعید شامل ہیں۔

اس کے برخلاف نثر اور ترجموں کے حصے زیادہ طاقتور اور پکڑنے والے ہیں۔ اس حصے میں پہلا حصہ ’موضوعِ سخن‘ کے عنوان سے ہے اور اس میں ’ادب برائے تبدیلی اور تراجم‘ کے حوالے سے بحث کی گئی ہے اور مزید بحث کے پہلو اجاگر کیے گئے ہیں۔ ان میں انور سدید نے ادب برائے تبدیلی کی تحریک، رؤف نیازی نے ’ترجمے کے افکاری مسائل‘، عاشق حسین البدوی نے ’تبدیلی و ترجمہ‘ اور ناصر شمسی نے ’تراجم ایک اہم ادبی روایت، مگر‘ کے عنوانات سے ترجمے کے مختلف پہلؤں پر بات کی ہے ایک عباس رضوی ہیں جنھوں نے ’وصال یار فقط آروزو کی بات نہیں‘ کے عنوان سے اردو ادبی جرائد کی مختصر ترین تاریخ بیان کی ہے۔

مشرق و مغرب کے عنوان سے قائم کیے جانے والے باب میں ول ڈیوراں کے علاوہ نجیب محفوظ، بورخیس، وودھ ناتھ سنگھ، جارن سٹرین جارنسین، موہن داس گپتا، سرویشور دیال سکسینہ، رونی مارگویز، پیٹر سیمولک، جواہر سپاہیو، تاتیاناگوماشا اور برٹرینڈ رسل کی تخلیقات اور تحریروں کے تراجم ہیں جو خورشید رضوی، اسد محمد خان، ثمینہ شاہین، ابو فرح ہمایوں، افضال احمد سید اور تنویر احمد نے کیے ہیں۔

اس کے علاوہ تنقیدی نثر کا ایک اور حصہ ہے جو ’خرد افروزیاں‘ کے عنوان سے شامل کیا گیا ہے۔ اس حصے میں تحقیق بھی ہے اور مطالعاتی تجزیے بھی اور یہ پرتو روہیلہ، منشا یاد، مرزا حامد بیگ، کوثر محمود، مشرف عالم ذوقی، ناصر عباس نیّر، اسلم جمشید پوری، علیم اللہ حالی، دانیال طریر، غازی علیم الدین، رحمٰن نشاط، رئیس الدین رئیس اور سید افضال نے کیے ہیں۔

کہانیوں، ثقافت، سوانح عمری اور یادوں کے علاوہ طنز و مزاح، خطوط اور آرا کے حصے الگ ہیں

مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر تین سو روپے میں اتنا کچھ اور ایسا پڑھنے کو ملے تو سودا ہر صورت پڑھنے والے کے حق میں ہے کیوں کہ اشتہار تو اس رسالے میں کل تین ہی ہیں۔