بشیر احمد: مجسمہ ساز و مصور

،تصویر کا ذریعہ
- مصنف, انور سِن رائے
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
بشیر احمد انیس سو چوّن میں لاہور کے ایک ایسے خاندان میں پیدا ہوئے جو تعلیم و تدریس کے حوالے سے پہچانا جاتا ہے۔ وہ ایک ایسے مصور اور مجسمہ ساز ہیں جو پڑھے کڑھے کی سراپا تصویر ہیں۔
انہوں نے 1974 میں نیشنل کالج آف آرٹس سے ڈپلوما کیا اور اس کے بعد مغل دربار کی وراثت رکھنے والے شیخ شجاع اللہ اور پٹیالے گھرانے کے حاجی شریف سے منی ایچر کی عملی مہارت بھی حاصل کی۔ اس کے علاوہ انہوں نے شیخ شجاع سے چھ سال تک ہر طرح کی منی ایچر اور ہر طرح کی دوسری پینٹنگز کی ریسٹوریشن کی تربیت بھی حاصل کی۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے پینٹنگ، پرنٹ میکنگ اور مجسمہ سازی میں ماسٹرس کیا۔ب 2002 تک وہ پبلک ایڈمنسٹریشن میں بھی ماسٹرس کر چکےتھے۔
اسی دوران ان کی ملک اور بیرون ملک منی ایچر کی نمائشیں بھی ہوتی رہیں، اب انہیں دنیا بھر میں منی ایچر کے ایک ماہر کا درجہ حاصل ہے۔
انہوں نے 1982 میں پہلی بار منی ایچر میں بیچلر ڈگری کا نصاب مرتب کیا اور اس کے بعد سے اس نصاب نے متعدد کامیاب مصور پیدا کیے ہیں۔
اب وہ این سی میں فائن آرٹ کے شعبے کے سربراہ بھی ہیں اور کالج کے سربراہ کے فرائص بھی انجام دے رہے ہیں۔
پاکستان میں تدریس کے علاوہ انہوں نے امریکہ، جاپان اور برطانیہ میں بھی تدریس کے فرائص انجام دیے ہیں اور مصوری کی اعلٰی تعلیم کے نصاب مرتب کرنے میں شامل رہے ہیں۔ وہ ہندوستان سمیت کئی ملکوں میں لیکچر بھی دیتے رہے ہیں۔
انہوں نے 1980 میں پہلی بار انفرادی نمائش کی اور اس کے بعد ملک اور بیرونِ ملک متعدد نمائشیں کر چکے ہیں۔
گروپ نمائشوں میں انہوں پہلی بار 1976 میں شرکت کی اور 2006 تک بیس سے زیادہ گروپ نمائشوں میں ان کے کام کو شریک کیا گیا۔ ان میں امریکہ میں ہونے والے گروپ نمائشیں بھی شامل ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بشیر احمد نے پاکستان اور پاکستان سے باہر تاریخی نوعیت کے حامل کئی منصوبوں پر کام کیا جن میں جاپان میں ایک چھت کو مصور کرنا، لاہور ائر پورٹ کے لیے ستائیس فٹ لمبا اور ساڑھے سات فٹ چوڑا میورال بنانا وغیرہ شامل ہیں۔
وہ اس کے علاوہ پاکستان میں اور پاکستان سے باہر فلاحی منصوبوں میں بھی حصہ لیتے ہیں۔
انہوں نے استاد اللہ بخش، عبدالرحمٰن چغتائی اور صادقین کی پینٹنگز کی ریسٹوریشن کے علاوہ ہر قسم کی نایاب تصویروں اور دروازوں کی محفوظ بنانے کا کام بھی کیا ہے۔
وہ دھاتوں میں مجسمہ سازی کرتے ہیں اور بے پناہ مجسمہ ساز ہیں اور حالیہ نمائش کے لیے انہوں نے دو سو سے زائد مجسمے بنائے جن کا تمام کام انہوں نے خود اپنے ہاتھوں سے کیا۔ انہیں دھاتی مجسمہ سازی کے ہر مرحلے پر مکمل عبور حاصل ہے۔
ان کے فن اور خدمات کے اعتراف میں انہیں متعدد اعزامات بھی پیش کیے جا چکے ہیں۔



















