سارے زمانے میر کے، اکیسویں صدی کا اردو فکشن

ڈاکٹر اسلم فرخی

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنڈاکٹر اسلم فرخی نے کانفرنس کے دوسرے روز میر تقی میر کے بارے میں اجلاس کی صدارت کی۔
    • مصنف, انور سِن رائے
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

بدھ کو چوتھی عالمی اردو کانفرنس کے دوسرے دن دو سیمینار ’سارے زمانے میر کے‘ اور اکیسویں صدی میں اردو فکشن‘ کے عنوان سے ہوئے جب کہ تین کتابوں کی رونمائی ہوئی۔

’سارے زمانے میر کے‘ عنوان سے ہونے والے پہلے اجلاس کی مجلسِ صدور ڈاکٹر جاوید منظر، پروفیسر سحر انصاری، رضا علی عابدی، ڈاکٹر قاضی افضال حسین، ڈاکٹر شمیم حنفی، شیخ الجامعہ کراچی پیرزادہ قاسم، افتخار عارف، ڈاکٹر اسلم فرخی، زہرہ نگاہ، فرہاد زیدی، امجد اسلام امجد اور ڈاکٹر فاطمہ حسن پر مشتمل تھی اور اس کے نظامت پروفیسر شاہدہ حسن نے کی۔ صدر الصدور ڈاکٹر اسلم فرخی تھے۔

ڈاکٹر جاوید منظر کا مضمون میر کی شاعری میں حزن و ملال کے بارے میں تھا جس میں انہوں میر کے ذاتی حوالوں سے ان کی شاعری میں حزن و ملال کے مخلتف پہلوؤں کو اجاگر کیا تھا۔

ڈاکٹر فاطمہ حسن نے جدید اردو شاعری پر میر کے اثرات کا جائزہ لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ میر کی شاعری تمام زمانوں سے ماورا ہے اور اسی لیے وہ ہمیں ہر زمانے کے محسوس ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہی وجہ ہے کہ سودا اور غالب ہی نہیں تمام شعرا کسی نہ کسی طور ان کی بڑائی کا اعتراف کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کے ناصر کاظمی نے نہ صرف ہمیں اقبال پر میر کے اثرات کے بارے میں بتایا ہے بلکہ وہ خود بھی میر سے انتہائی متاثر تھے۔

ڈاکٹر سحر انصاری نے مختلف اشعار کے حوالے سے میر کے تصورِ عشق کو واضح کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ میر کہتے ہیں کہ ان کا غبار بھی محبوب سے دور بیٹھتا ہے اور یہ ادب عشق کے بغیر نہیں آتا۔

بھارت سے آنے والے علیگڑھ یونیورسٹی کے ڈین فیکلٹیز آف آرٹس ڈاکٹر قاضی افضال حسین نے ’ذکر میر کا بین السطور‘ کے عنوان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ابنِ سینا نے اپنی قدرے غیر معروف تصنیف میں ایک پورا باب عشق اور عشاق کی نشانیوں کے بارے میں لکھا ہے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ میر کی شاعری میں عاشق کا جو سراپا ہمارے سامنے آتا ہے وہ ابنِ سینا کے بیان کردہ سراپے سے بہت مماثلت رکھتا ہے۔

مصنف، دانشور اور براڈکاسٹر رضا علی عابدی نے کہا میر کے زمانے تک نثر اردو میں نہیں لکھی جاتی تھی اس لیے میر نے بھی نثر تو فارسی ہی میں لکھی لیکن شاعری اردو میں کی اور ایسی کی کہ اگر آج بھی پڑھیں تو یوں لگتا ہے کہ جیسے ابھی ابھی کسی نے لکھی ہے تو اس اعتبار سے میر خدائے سخن ہی نہیں خدائے اردو زبان ہیں۔ انہوں نے بتایا کے انہوں برٹش لائبریری میں ایک کتاب دیکھی ہے ’میر کے عہد کا تمدن‘، اس کتاب میں میر کی شاعری کے حوالے سے اس زمانے کی سماجی زندگی کو تلاش کیا گیا ہے، اس کتاب کو پڑھتے ہوئے احساس ہوتا ہے کہ سماج کا کون سا پہلو ہے جو میر کی شاعری میں نہیں ہے۔ اب اگر کسی شاعر کی زبان صدیوں بعد بھی ہمیں آج کی محسوس ہوتی ہے اور اس کے ذریعے اس کے زمانے کی تاریخ بھی متعین ہوتی ہے تو کہنا ہی پڑے گا کہ وہ سارے زمانوں کا ہے۔

ان کے بعد زہرہ نگاہ نے میر کے بہت سے غیر معروف اشعار سے ان کی شاعری کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں بتایا اور ان کا انداز اور انتخاب ایسا تھا کہ لوگ جھوم جھوم اٹھے۔

صدر الصدور ڈاکٹر اسلم فرخی نے میری تقی میر کے فنی پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور کہا کہ ان پہلوؤں کے ساتھ میر ہمیں ایک ایسے وسیع تر تصورِ انسانیت کے بارے میں بتاتے ہیں جو ان سے پہلے اردو شاعری میں نہیں ملتا۔

دوسرے دن کا دوسرا اجلاس اکیسویں صدی کے اردو فکشن کے بارے میں تھا۔ اس اجلاس کی مجلسِ صدارت ڈاکٹر قاضی عابد، ڈاکٹر سعید نقوی، ناول نگار اور صحافی اشرف شاد، افسانہ نگار اور صحافی مسعود اشعر، ڈاکٹر شمیم حنفی، انتظار حسین، ڈاکٹر قاضی افضال حسین، افسانہ نگار، شاعر اور نثری نظم کے بانی احمد ہمیش، افسانہ نگار فردوس حیدر، افسانہ نگار، نقاد اور ادبی جریدے مکالمہ کے مدیر مبین مرزا ور افسانہ نگار رئیس فاطمہ پر مشتل تھی۔ اس کے صدر الصدور انتظار حسین تھے جب کہ نظامت کے فرائض صبا اکرام نے انجام دیے۔

رئیس فاطمہ نے اردو فکشن میں نسائی تصور کے بارے میں بات کی۔ خواتین لکھے والیوں کے تفصیلی پس منظر کے بیان کے بعد انہوں نے اس بات پر اصرار کیا کہ ادب کو زنانہ اور مردانہ ڈبوں میں نہیں بانٹا جا سکتا اور نہ ہی بانٹا جانا چاہیے۔

ڈاکٹر سعید نقوی نے امریکہ اور کینیڈا کے افسانہ نگاروں کا تفصیلی ذکر کیا لیکن ان کا کہنا تھا کہ ان ملکوں میں لکھے جانے والوں افسانوں میں مقامی معاشرت خال خال ہی دکھائی دیتی ہے۔ ان کا کہنا تھا اردو میں لکھنا ان افسانہ نگاروں کی ضرورت نہیں دیوانہ پن ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں عبداللہ جاوید، شہناز خانم عابدی، رضیہ فصیح احمد، شکیلہ رفیق، جمیل عثمان، شہلا نقوی، شائستہ ایمن اور ممتاز حسین سمیت کئی افسانہ نگاروں کا ذکر کیا۔

اشرف شاد نے نئے ناول کے تخلیقی سرو کار پر بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد آنے والی نظریاتی تبدیلیوں نے اردو فکشن کو متاثر کیا اور جنگ سے پہلے جس انداز کا لکھا جاتا تھا اس کے بعد نہیں لکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں ستر کے المیے کے بارے میں اب تک کوئی اہم ناول نہیں لکا گیا۔

زہرہ نگاہ

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنزہرہ نگاہ نے میر تقی میر کے ایسے اشعار کا انتخاب پیش کیا جو عام نہیں ہیں۔

ڈاکٹر قاضی عابد واحد مقرر تھے جنہوں نے فکشن کے ماضی قریب کی بات کی اور چار اہم افسانہ نگاروں کے حوالے انتظار حسین، انور سجاد، سریندر پرکاش اور بلراج مینرا کے افسانہ نگاری کی اہمیت کے بارے میں بتایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان تمام افسانہ نگاروں نے سادہ بیانیے کی کہانی سے ابتدا کی، پھر انتظار حسین اسلامی اسطور، ہندی اساطیر، جاتک کہانیوں اور الف لیلوی سلسلے میں چلے گئے۔ انور سجاد سادہ بیانیے سے علامتوں اور پھر اساطیری استعارہ سازی طرف نکل گئے جب کہ سریندر پرکاش اور بلراج مینرا ذاتی علامتوں سے استعاروں کی کہانی لکھنے لگے۔ انہوں نے خاص طور پر مینرا کی کہانی ماچس کا ذکر کیا۔

مبین مرزا نے جدید اردو افسانہ اور عصری حسیت پر بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس میں تو کوئی شک نہیں کسی زمانے میں جو کچھ ہوتا ہے اس کا کچھ نہ کچھ اثر اس زمانے کے ادب پر بھی ہوتا ہے لیکن ادب اور صحافت میں امتیاز قائم رہنا چاہیے۔

ان کے اس موقف سے مسعود اشعر نے شدید اختلاف کیا اور وال سٹریٹ پر قبضہ کرنے والوں سے ارون دھتی کے خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بات پر حیرت ہوتی ہے کہ ہم کیا ہو گئے ہیں آج ساری دنیا انتہاپسندی اور رواداری کے حوالے سے ہمیں ایک مسئلہ سمجھتی ہے اور ہم تمام حدود عبور کرتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 1990 میں جب لسانی فسادات شروع ہوئے تو آصف فرخی نے کچھ کہانیاں لکھیں اور انتظار حسین نے ایک ناول لکھا لیکن پھر یہ دو آوازیں بھی بیٹھ گئیں۔ انہوں نے پاکستان کے انگریزی لکھنے والوں کے غیر مؤثر ہونے کی بات کی اور کہا صرف حنیف قریشی نے انگریزی میں ایک کہانی لکھی ’مائی فینیٹک سن‘ جو ایک اعلا تخلیق ہے۔

ڈاکٹر قاضی افضال حسین نے ناول میں بیانیہ ناول اور واقعات کے بارے میں ناول پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انتظار حسین کے برخلاف قراۃالعین کا ناول آگ کا دریا ڈسکرپشن کا ناول ہے جب کہ دوسری طرف عبداللہ حسین کے ناول، ناول کے عمومی فنی تقاضوں کو پورا کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ بہت سے لوگ نہیں مانتے لیکن اس بات سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا کے ناول ہماری روایت کا حصہ نہیں ہے۔ انہوں اس موقع پر عزیز احمد کے ایک ناول کا ذکر کیا جس میں کردار اور واقعات تو تبدیل نہیں ہوتے بیان بدلتا رہتا ہے۔

ڈاکٹر شمیم حنفی نے کہا کہ اردو ناول میں انسان کو مرکزی حیثیت حاصل ہے اور اگر انسان کو مرکزی حیثیت حاصل ہو گی تو ہمارے ارد گرد ہونے والی سیاست بھی اس میں آئے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا زمانہ ناول کا زمانہ ہے۔

صدر الصدور انتظار حسین نے کہا کہ اس میں تو کوئی شک نہیں ہم جس زمانے میں رہ رہے ہیں ہم اس کے بارے میں لکھ نہیں رہے ہیں اس کی ایک وجہ تو یہ ہو سکتی ہے جو کچھ ہو رہا ہے ہم اسے لکھتے ہوئے ڈرتے ہیں اور دوسری وجہ یہ ہو سکتی ہے وہ ہماری گرفت میں ہی نہیں آ رہا کہ ہم اُسے بیان کر سکیں۔

اس کے بعد تین کتابوں کی رونمائی ہوئی جس میں عبید صدیقی کا مجموعہ ’رنگ ہوا میں پھیل رہا ہے‘ کی تقریب کی صدارت انتظار حسین نے کی، خصوصی مقرر ڈاکٹر شمیم حنفی تھے جب کہ نظامت وسعت اللہ خان کی تھی۔

دوسری کتاب لیاقت عاصم کا مجموعہ ’دل خراشی‘ تھا جس کی تقریب کی صدارت ڈاکٹر قاضی افضال حسین نے کی، خصوصی مقرر ڈاکٹر سحر انصاری تھے جب کے نظامت ڈاکٹر جاوید منظر نے کی۔

تیسری کتاب نجم الحسن رضوی کا ناول ’ماروی اور مرجینا‘ کی تقریبِ رونمائی کی صدارت ڈاکٹر شمیم حنفی نے کی، اس کے خاص مقرر ڈاکٹر ضیا الحسن تھے اور نظامت کے فرائض رعنا اقبال نے انجام دیے۔