آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
فضائی آلودگی میں بہتری: ایمرجینسی اقدامات میں کمی
دلی میں فضائی آلودگی کی سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لیے ریاستی حکومت کی جانب سے جو ہنگامی اقدامات کیے گئے تھے ان میں سے بعض کو واپس لے لیا گیا ہے۔
بتایا جارہا ہے کہ دلی کی فضا میں گزشتہ چند ہفتوں کی بنسبت بہتری آئی ہے۔
عدالت کی جانب سے تشکیل دیے گئے ایک پینل نے تعمیراتی کاموں، شہر میں ٹرکوں کے داخلے اور وقتی طور پر بڑھائی گئی پارکنگ فیس پر سے پابندی ہٹا دی ہے۔
ماحولیات سے متعلق حکومتی کمیٹی 'انوائرومینٹل پولیوشن کنٹرول اتھارٹی' یعنی ای سی پی اے عدالتی پینل کے اس فیصلے سے خوش نہیں ہے۔ فضائی آلودگی سے متعلق اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس نے دلی، ہریانہ ، پنجاب اور اترپردیش کی حکومتوں کو ایک خط لکھا ہے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ وہ موجودہ ماحولیاتی صورتحال پر ابھی بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہے کیونکہ محکمہ موسمیات نے متنبہ کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں شہر کی فضا ایک بار پھر سے آلودہ ہوسکتی ہے۔
خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق ابھی بھی دلی کے نواحی علاقے بدر پور میں واقع ایک اہم بجلی گھر بند ہے۔ اس کے علاوہ اینٹوں کے بھٹے اورپتھر کوٹنے کی مشینوں کے چلنے پر پابندی قائم ہے۔
سنہ دوہزار پندرہ کی سینٹر فار سائنس اینڈ انوائرومینٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق بدرپور پاور پلانٹ پورے بھارت میں سب سے زيادہ آلودگی پھیلانے والا پلانٹ ہے۔
اس ماہ کے شروع میں دارالحکومت اور اس کے نواحی علاقوں میں شدید دھند چھا گئی تھی جس کے سبب لوگوں کو سانس لینے میں دقت ہورہی تھی اور لوگ آنکھوں میں جلن کی شکایت کر رہے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دلی میں آلودگی کی شرح عالمی ادارے صحت کی جانب سے طے شدہ حد سے تیس گناہ زیادہ ہوگئی تھی۔
فضائی آلودگی کے سبب ریاستی حکومت نے کچھ دن کے لیے پرائمری سکول بند کردیے تھے اور پبلک ہیلتھ ایمرجنسی کا اعلان کردیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ گزشتہ چند برسوں سے ہر برس سردی کے موسم میں دلی میں دھند چھا جاتی ہے جو کے صحت کے لیے بے حد مضر بتائی جاتی ہے۔ لوگ آنکھوں میں جلن، کھانسی اور سانس کی بیماری میں شدت کی شکایت کرتے ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق ان دنوں دلی کی فضائی آلودگی کا سب سے برا اثر بچوں، بزرگوں اور مریضوں پر ہوتا ہے